سابق آسٹریلین کرکٹر ڈین جونز ممبئی میں انتقال کر گئے

اپ ڈیٹ 13 اکتوبر 2020

ای میل

ڈین جونز نے 59 ٹیسٹ اور 164 ون ڈے میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
ڈین جونز نے 59 ٹیسٹ اور 164 ون ڈے میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی— فائل فوٹو: اے ایف پی

عالمی شہرت یافتہ آسٹریلین بلے باز ڈین جونز دل کا دورہ پڑنے سے 59 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

انڈین پریمیئر لیگ(آئی پی ایل) کے سلسلے میں اسٹار انڈیا کے لیے کمنٹیٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والے سابق آسٹریلین کرکٹر کو آج دوپہر دل کا دورہ پڑا جس سے وہ انتقال کر گئے۔

اسٹار انڈیا نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ہم انتہائی دکھ کے ساتھ اس بات کا اعلان کرتے ہیں ڈین جونز انتقال کر گئے ہیں، وہ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوئے، ہم ان کے اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہیں اور اس مشکل وقت میں ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔

آج جمعرات کو ناشتہ کرنے کے بعد صبح 11 بجے انہوں نے آئی پی ایل کی نشریات کے سلسلے میں بریفنگ سیشن میں حصہ لیا اور ممبئی میں واقع اپنے ہوٹل کے کوریڈور میں ساتھیوں کے ہمراہ گفتگو کر رہے تھے۔

دوران گفتگو اس وقت سب لوگوں کو دھچکا لگا جب وہ ایک دم زمین پر گر گئے جس کے بعد انہیں ایمبولینس میں ہنگامی بنیادوں پر ہرکشن داس ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ہسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ یہاں آنے سے قبل ہی ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

ڈین جونز نے 59 ٹیسٹ اور 164 ون ڈے میچوں میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی جبکہ وہ 1987 میں آسٹریلیا کے لیے پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے اہم رکن بھی تھے۔

1997-98 میں ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کمنٹری کے شعبے سے وابستہ ہو گئے اور پاکستان سپر لیگ سمیت دنیا کی مختلف لیگوں میں کوچنگ کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

پاکستان سپر لیگ میں ڈین جونز اسلام آباد یونائیٹڈ کے کوچ رہے اور ان کی کوچنگ میں یونائیٹڈ دو مرتبہ چیمپیئن بنے جبکہ اس سال وہ کراچی کنگز سے وابستہ ہو گئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ، کرکٹ آسٹریلیا، آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کے موجودہ اور سابق کھلاڑیوں اور ٹیموں نے ڈین جونز کے انتقال کو کرکٹ کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا ہے۔

سابق عظیم بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بہترین انسان بہت پہلے چلا گیا، مجھے اپنے پہلے دورہ آسٹریلیا کے دوران ان کے خلاف کھیلنے کا موقع ملا تھا، میں ان کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔

قومی ٹیم کے لیگ اسپنر شاداب خان نے بھی اپنے پہلے کوچ کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔

بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے بھی ان کی موت پر اہلخانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ڈین جونز کی موت سے بڑا دھچکا لگا ہے۔

ڈین جونز کا کیریئر

1983-84 میں گریگ چیپل اور ڈینس للی کی ریٹائرمنٹ کے بعد آسٹریلین ٹیم شدید مشکلات سے دوچار تھی اور ایسے میں وکٹوریہ سے تعلق رکھنے والے ڈین جونز کو آسٹریلین ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔

آسٹریلین سلیکٹرز کا یہ فیصلہ غلط ثابت نہ ہوا کیونکہ ٹرینیڈاڈ میں تباہ کن ویسٹ انڈین باؤلنگ اٹیک کے خلاف انہوں نے ڈیبیو پر 48رنز کی اننگز کھیلی۔

اس کے بعد 1986 کے دورہ بھارت تک انہیں کوئی خاطر خواہ مواقع نہ ملے کیونکہ سلیکٹرز انہیں احتیاط سے استعمال کرنا چاہتے تھے۔

بھارت کے خلاف چنئی ٹیسٹ سے قبل ایلن بارڈر نے ڈین جونز کو بتایا کہ وہ تیسرے نمبر پر بیٹنگ کریں گے اور اس ایک فیصلے نے ڈین جونز کے کیریئر کو بدل کر رکھ دیا۔

ٹائی ہونے والی اس سنسنی خیز اور تاریخی ٹیسٹ میچ میں ڈین جونز نے اپنے کیریئر کی بہترین 210 رنز کی اننگز کھیلی اور اس پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تھا۔

اس کے بعد وہ 1992 تک تقریباً مستقل آسٹریلین ٹیسٹ ٹیم کا حصہ رہے اور اس دوران انہوں نے 1989 میں ایڈیلیڈ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک اور ڈبل سنچری بنانے والے کے ساتھ ساتھ 1990 میں اسی مقام پر پاکستان کے خلاف دونوں اننگز میں سنچری اسکور کی تھی۔

تاہم انہیں اصل شہرت محدود اوورز میں اپنی بیٹنگ سے ملی خصوصاً جارحانہ بیٹنگ پر انہیں بہت پذیرائی ملی اور وہ ون ڈے کرکٹ میں آسٹریلیا کے پہلے بہترین بلے باز مانے جاتے ہیں۔

لیکن 1992 کے بعد بین الاقوامی سطح پر کارکردگی بتدریج تنزلی کا شکار ہونے کی وجہ سے انہیں 1994 میں آسٹریلین ٹیم سے باہر کردیا گیا۔

وہ ڈومیسٹک سطح پر رنز کے ڈھیر لگاتے رہے اور اسی وجہ سے 1996 کے ابتدائی ورلڈ کپ اسکواڈ میں ان کو شامل کیا گیا تھا لیکن وہ حتمی اسکواڈ میں جگہ نہ بنا سکے۔

اگلے سیزن میں ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد وہ کوچنگ اور کمنٹری کے شعبے سے وابستہ رہے اور افغانستان کی ٹیم کی کچھ عرصہ کوچنگ کے ساتھ ساتھ مختلف لیگز میں بھی کوچنگ کے فرائض انجام دیتے رہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین ارل ایڈنگز نے کرکٹر کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے کہا ہوئے کہا کہ ڈین جونز کئی نسلوں کے کرکٹرز کے لیے ہیرو کا درجہ رکھتے تھے اور انہیں کھیل کے عظیم کھلاڑی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جس کسی نے بھی 1980 اور 1990 کی دہائی کی کرکٹ دیکھی ہے انہیں یاد ہو گا کہ کس طرح سے ڈین جونز کھیل میں توانائی اور جوش کو لے کر آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک خبر ہے اور ان کی کمی ناصرف آسٹریلیا بلکہ پوری دنیائے کرکٹ مین محسوس کی جائے گی، ہماری نیک تمائیں ان کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں۔

ڈین جونز پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے بعد اس سال کراچی کنگز کا حصہ بنے تھے اور فرنچائز نے ان کی موت کو بڑا نقصان قرار دیا ہے۔