جماعت اسلامی نے کراچی کو حقوق نہ ملنے پر 'قومی تباہی' کا خدشہ ظاہر کردیا

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

شاہراہ قائدین پر حقوق کراچی مارچ میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی—فوٹو: جماعت اسلامی فیس بک
شاہراہ قائدین پر حقوق کراچی مارچ میں بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی—فوٹو: جماعت اسلامی فیس بک

کراچی: جماعت اسلامی نے کراچی کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے ملک گیر تحریک کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ پالیسیز ملک کے معاشی حب کے عوام کے لیے تکلیف کا باعث بن رہی ہیں اور یہ قومی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے یہ اعلان اتوار کو شاہراہ قائدین پر 'حقوق کراچی مارچ' کے عنوان سے ہونے والی ایک بڑی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔

موٹر سائیکلوں، کاروں، بسوں اور ٹرکوں پر آئے عوام پلے کارڈز، بینرز اور پارٹی کے پرچم تھامے ہوئے تھے اور وہ شہر کے لیے آزاد اور بااختیار بلدیاتی حکومت کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ کراچی کے حقوق کے لیے تحریک صرف اس شہر کے لوگوں کی طرف سے نہیں ہے بلکہ اب کراچی کے عوام دیکھیں گے کہ بدین سے خیبر اور کشمیر سے گوادر تک ان کی آواز اور نعرے بلند ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 14 اکتوبر کو کراچی سے چترال تک یوم یکجہتی کراچی منائیں گے اور یہ تحریک اب یہاں رکنے والی نہیں۔

خیال رہے کہ یہ مارچ ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سامنے آیا جس میں پارٹی کی جانب سے کراچی اور اس کے عوام کے لیے مختلف اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا، خاص طور پر حالیہ بارشوں کے بعد شہر کے انفرا اسٹرکچر تباہی اور بلدیاتی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کو سب کے سامنے رکھا گیا۔

'صحیح' مردم شماری کا مطالبہ

اس کے علاوہ دیگر کئی مطالبات میں پارٹی کی جانب سے 'کراچی کی صحیح مردم شماری' کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ شہر کی اصل آبادی تقریباً 3 کروڑ ہے۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ 'یہ ستم ظریفی نہیں کہ ایک شہر جو ملک کے ہر ضلع اور ٹاؤن کے لوگوں کے لیے روزگار پیدا کرتا ہے اسے کبھی حکمرانوں کی جانب سے اپنایا ہی نہیں گیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ المیہ نہیں کہ یہ شہر جو دنیا کا مرکز بننے کا حق رکھتا ہے وہ اپنے ہی حکمرانوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے۔

سربراہ جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ 'ایوب خان سے لے کر آج تک اس شہر کو اس کے حقوق اور حصہ نہیں دیا گیا لیکن اب بس بہت ہوگیا، اس شہر کو ہمیشہ دھاندلی، تشدد اور سازشوں کے ذریعے اس کی اصل قیادت سے دور رکھا گیا، تاہم اب ہم یہاں اس شہر کا مقدمہ لڑنے کے لیے موجود ہیں'۔

قبل ازیں ریلی سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کراچی کے لیے شہری حکومت کو بااختیار بنانے پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ شہر کے تمام شہری محکمے ایک متحدہ نظام کی چھتری تلے ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر شہری حکومت کے وسائل کا فقدان ہو تو دنیا میں کوئی شہر ترقی نہیں کرسکتا'، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ 'سابق ناظم کراچی نعمت اللہ خان نے شہر میں ریکارڈ ترقیاتی کام انجام دیے'، تاہم ان کے بعد 'شہر کے لوگوں کو پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور سیوریج کے مسائل کا سامنا ہے'۔

کوٹہ سسٹم میں توسیع پر تنقید

علاوہ ازیں حافظ نعیم الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی جانب سے غیرمعینہ مدت تک کے لیے کوٹہ سسٹم کی توسیع کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکمران جماعت کی شہر کے لوگوں کے ساتھ غداری قرار دیا، جنہوں نے اسے اپنے حقوق کے تحفظ کےلیے منتخب کیا تھا۔

جماعت اسلامی کراچی کے امیر کا کہنا تھا کہ 'ہماری جماعت اب نہیں رکے گی، ہم ان لوگوں کو بے نقاب کریں گے جو اس شہر کی تباہی کے ذمہ دار ہیں'، ہم ہر اس جماعت اور لیڈر کو سامنے لائیں گے جس نے اپنے مفادات کے لیے کراچی کے لوگوں کو بیچ دیا۔

اس موقع پر انہوں نے شہر میں نسلی بنیادوں پر تشدد کی سازش کے خلاف خبردار کردیا۔

انہوں نے کسی لیڈر یا جماعت کا نام لیے بغیر خبردار کیا کہ 'میں سب کو بتادوں کہ ہم آپ کے سیاسی مفادات کے لیے مہاجر-سندھی لڑائی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ نسلی بنیاد کے نام پر نفرت کو بڑھائیں گے تو آپ ہمیں کراچی کی سڑکوں اور گلیوں پر پائیں گی اور ہم آپ کا ایجنڈا بے نقاب کریں گے'۔

حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ 'کراچی کے عوام نسل اور فرقے کے نام پر ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہتے، یہ پرامن لوگ ہیں، انہوں نے پارٹیوں اور ان کے قائدین کے ذاتی مفادات کی وجہ سے بہت کچھ برداشت کیا ہے'۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے حقوق اور ایسے تمام قوتوں کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے شہر بھر میں 15، 16 اور 17 اکتوبر کو 'ریفرنڈ' کرائے گی۔


یہ خبر 28 ستمبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی