لاہور: 41 کنال پلاٹ کی نیلامی سے حکومت کو 5 ارب روپے کی آمدنی متوقع

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

یہ زمین پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی ملکیتی کمپنی ریپبلک موٹرز کے قبضے میں ہے۔ فائل فوٹو:ڈان
یہ زمین پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی ملکیتی کمپنی ریپبلک موٹرز کے قبضے میں ہے۔ فائل فوٹو:ڈان

اسلام آباد: نجکاری کمیشن آج لاہور میں 41 کنال سے زائد کی اراضی کی نیلامی کے ساتھ وفاقی حکومت کی ملکیت میں جائیدادوں کی فروخت کو مکمل کرلے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ زمین پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی ملکیتی کمپنی ریپبلک موٹرز کے پاس ہے۔

مال روڈ کے انتہائی مہنگے علاقے میں واقع پراپرٹی کی قیمت 5 ارب روپے سے زائد رکھی گئی ہے تاہم کمیشن کو توقع ہے کہ زمین کی پرائم لوکیشن کی وجہ سے اسے زیادہ قیمت ملے گی۔

حکومت نے مختلف نوعیت کی 26 اراضی کی فروخت کو حتمی شکل دینے کا منصوبہ بنایا تھا اور اب تک 23 غیر منقولہ جائیدادوں کی نیلامی کردی ہے جس سے ایک ارب روپے سے زائد کی آمدنی ہوگی۔

کمیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق دو جائیدادوں کی نیلامی مارکیٹ کے نامناسب حالات کی وجہ سے ملتوی کردی گئی ہے جس کے لیے نجکاری کمیشن بعد ازاں ٹینڈرز جاری کرے گا۔

منظوری کے لیے کمیشن نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کو نیلامی کی تفصیلات پیش کرے گا اور اس کے بعد منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کرے گا۔

90 فیصد فروخت ریٹائرمنٹ سے متعلق قرضوں کے لیے ہوگی اور 10 فیصد کی باقی رقم غربت کے خاتمے کے لیے مختص کی جائے گی۔

حکومت کی ملکیت میں جائیدادوں کی فروخت وزیر اعظم کے بلڈرز اور ڈیولپرز کے لیے عظیم الشان ٹیکس ریلیف پیکیج کے بعد سامنے آئی جو کسی بھی فرد کو 31 دسمبر تک کی جانے والی رقم کے ذریعہ تحقیقات سے استثنیٰ فراہم کرتی ہے۔

پیکیج سے آمدنی اور ڈیولپر یا بلڈرز کے منصوبے کے رقبے کی بنیاد پر فکسڈ ٹیکس متعارف کرایا گیا ہے۔