آذربائیجان، آرمینیا کے درمیان جھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد 39 ہوگئی

اپ ڈیٹ 29 ستمبر 2020

ای میل

آزربائیجان نے پیش قدمی کا دعویٰ کیا—فوٹو:اے پی
آزربائیجان نے پیش قدمی کا دعویٰ کیا—فوٹو:اے پی

آرمینیا کے علیحدگی پسندوں کی جانب سے متنازع علاقے نیگورنو-کاراباخ میں آذربائیجان پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جھڑپیں مسلسل دوسری روز بھی جاری رہیں اور مزید 15 افراد ہلاک ہوگئے۔

خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق دوسرے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد 39 ہوگئی ہے۔

عالمی رہنماؤں نے آرمینیا اور آذربائیجان پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکیں۔

مزید پڑھیں: آذر بائیجان، آرمینیا کے درمیان متنازع علاقے میں جھڑپیں، 23 افراد ہلاک

کاراباخ میں وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ فوجیوں کی ہلاکتیں 32 ہوگئی ہیں، اس سے قبل 7 شہریوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی تھیں، جن میں آذربائیجان میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد جبکہ آرمینیا میں ایک خاتون اور بچے کی ہلاکت بھی شامل ہے۔

آرمینیا کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ رات بھر شدید فائرنگ جاری رہی اور دعویٰ کیا کہ آذربائیجان کی فورسز نے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا اس کو واپس لیا گیا۔

دوسری جانب آذربائیجان نے دعویٰ کیا کہ وہ پیش قدمی کر رہے ہیں۔

وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ آذربائیجان کی فورسز نے دشمن کے ٹھکانوں پر راکٹ اور آرٹلری کا استعمال کیا اور تیلیش گاؤں کے کئی اسٹریٹجک مقامات پر قبضہ کرلیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دشمن پسپائی پر مجبور ہے'۔

بیان میں کہا گیا کہ آرمینیا کے باغیوں کے 550 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ آرمینیا نے یہ دعویٰ مسترد کردیا۔

فرانس، جرمنی، اٹلی، امریکا، یورپی یونین اور روس نے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔

آرمینیا اور کارباخ نے متنازع علاقے میں مارشل لا کا اعلان کرتے ہوئے فوج کو متحرک کردیا تھا اور شہروں میں کرفیو کا نفاذ کردیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی آذربائیجان کے ضلع توزو پر آرمینیا کے حملے کی مذمت

یاد رہے کہ آرمینیا کے حامی علیحدگی پسندوں نے 1990 کی دہائی میں ہوئی لڑائی میں نیگورنو-کاراباخ خطے کا قبضہ باکو سے حاصل کرلیا تھا اور اس لڑائی میں 30 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سوویت یونین سے 1991 میں آزادی حاصل کرنے والے دونوں ممالک کے درمیان شروع سے ہی کشیدگی رہی جو 1994 میں جنگ بندی معاہدے پر ختم ہوئی تھی۔

بعد ازاں فرانس، روس اور امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا لیکن 2010 میں امن معاہدہ ایک مرتبہ پھر ختم ہوگیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نیگورنو-کراباخ میں جھڑپوں کے دوران کم ازکم 23 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ روس اور ترکی کے درمیان بھی کشیدگی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

علیحدگی پسند عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 16 علیحدگی پسند جنگجو مارے گئے اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

مسلم ملک آذربائیجان اور عیسائی اکثریتی ملک آرمینیا کے درمیان کشیدگی سے خطے کی دو بڑی طاقتین روس اور ترکی کے درمیان تلخی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پشینیان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ترکی کو تنازع سے دور رکھیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم قفقاز میں مکمل طور پر جنگ کے دہانے پر ہیں اور آذربائیجان کی مطلق العنان حکومت نے ایک مرتبہ پھر آرمینیا کے عوام پر جنگ مسلط کی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے آرمینیا کے وزیراعظم سے فوجی کشیدگی پر بات کی اور تنازع کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

کریملن سے جاری بیان کے مطابق روس نے بڑے پیمانے پر شروع ہونے والی جھڑپوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب آذربائیجان کے اتحادی ترکی نے کشیدگی شروع کرنے کا الزام آرمینیا پر عائد کیا اور باکو کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا آذربائیجان سے سپرمشاق طیاروں کی فروخت کا معاہدہ

آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کا کہنا تھا کہ 'آرمینیا کی بمباری سے آذربائیجان کی فورسز اور شہری آبادی کا نقصان ہوا ہے'۔

آذربائیجان کے قریبی اتحادی ترکی نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی تشویش کا اظہار کیا تھا اور مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا جبکہ آرمینیا سے جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے بیان میں آرمینیا کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آذر بائیجان سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔

اپنی ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ 'ترکی کے لوگ آذربائیجان کے بھائیوں سے ہمیشہ کی طرح ہر ممکن تعاون کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'آرمینیا خطے کے امن واستحکام کے لیے بڑا خطرہ بن رہا ہے'۔

عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آرمینیا کی 'جارحیت کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے'۔

نیگورنو-کاراباخ کا علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور 50 کلومیٹر آرمینیا کی سرحد سے جڑا ہے، آرمینیا نے مقامی جنگجوؤں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کرکے قبضہ بھی کرلیا تھا۔