سینیٹ کمیٹی کا صدارتی ایوارڈ دینے کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2020

ای میل

بتایا جائے کہ جاوید آفریدی کو کن خدمات پر صدارتی ایوارڈ دیا گیا؟ اراکین کمیٹی — فائل فوٹو/پی آئی ڈی
بتایا جائے کہ جاوید آفریدی کو کن خدمات پر صدارتی ایوارڈ دیا گیا؟ اراکین کمیٹی — فائل فوٹو/پی آئی ڈی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے صدارتی ایوارڈ دینے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے حال ہی میں دیے گئے ایوارڈ پر بھی تحفظات کا اظہار کردیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں سینیٹر مشاہد اللہ خان کے نقطہ اعتراض پر غور کرتے ہوئے کمیٹی نے حال ہی میں دیے گئے صدارتی ایوارڈز کو میرٹ کے خلاف قرار دے دیا۔

کمیٹی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدارتی ایوارڈ کے لیے میرٹ صرف اور صرف سفارش ہے۔

ارکان کمیٹی کا کہنا تھا کہ جاوید آفریدی اور اداکارہ مہوش حیات کو صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا، بتایا جائے کہ جاوید آفریدی کو کن خدمات پر صدارتی ایوارڈ دیا گیا؟ اگر پشاور زلمی کے مالک کو ایوارڈ دیا گیا تو پھر ملتان سلطانز، اسلام آباد یونائیٹیڈ، لاہور قلندر کو ایوارڈ دینے پر غور کیوں نہیں کیا گیا؟

یہ بھی پڑھیں: مولانا طارق جمیل اور جیک ما سمیت 184 شخصیات سول ایوارڈز کیلئے نامزد

رکن مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ لاہور قلندر ہارنے کے باوجود مسلسل کرکٹ کو پروموٹ کر رہا ہے لیکن اسے نظر انداز کیا گیا۔

کمیٹی نے صدارتی ایوارڈ کے لیے مؤثر طریقہ کار اپنانے اور میرٹ کی بنیاد پر ایوارڈ دینے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی حال ہی میں دیے گئے صدارتی ایوارڈز سے مطمئن نہیں، مستقبل میں کسی کو اس طرح ایوارڈز نہ دیے جائیں۔

خیال رہے کہ اپنے اپنے شعبوں میں عمدہ کارکردگی اور بہترین خدمات کا مظاہرہ کرنے پر حکومت کی جانب سے سال میں ایک مرتبہ سول ایوارڈ دیا جاتا ہے۔

صدر مملکت نے 14 اگست کو ' یوم آزادی 'کے موقع پر 184 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے سول ایوارڈز کا اعلان کیا تھا جنہیں 23 مارچ کو 'یوم پاکستان' کے موقع پر منعقد کی جانے والے تقریب میں ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔

رواں برس صدر مملکت کی جانب سے 24 شخصیات کے لیے ستارہ شجاعت، 27 کے لیے ستارہ امتیاز، 23 کے لیے تمغہ شجاعت، 46 کے لیے تمغہ امتیاز، 7 کے لیے نشان امتیاز، 2 کے لیے ہلال امتیاز، ایک کے لیے ہلال قائد اعظم، 2 کے لیے ستارہ پاکستان، 6 کے لیے ستارہ قائد اعظم، ایک کے لیے ستارہ خدمت، ایک کے لیے تمغہ پاکستان، ایک کے لیے تمغہ قائد اعظم جبکہ 44 شخصیات کے لیے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کا اعلان کیا گیا ہے۔