بلوچستان: دہشت گردوں کے حملے میں 14 سیکیورٹی اہلکار شہید

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2020

ای میل

وزیراعظم نے واقعے کی رپورٹ طلب کی — فائل فوٹو
وزیراعظم نے واقعے کی رپورٹ طلب کی — فائل فوٹو

بلوچستان کے ضلع گوادر کے علاقے اورماڑا میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) کے کارواں پر دہشت گردوں کے حملے میں 7 سیکیورٹی گارڈز سمیت سیکیورٹی فورسز کے 14 اہلکار شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘گوادر سے کراچی جانے والے او جی ڈی سی ایل کے کاروان کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان کوسٹل ہائی وے پر اورماڑا کے قریب فائرنگ کا تبادلہ ہوا’۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘سیکیورٹی فورسز نے مؤثر جواب دیا اور او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے انہیں جائے وقوع سے بحفاظت نکال لیا’۔

مزید پڑھیں:شمالی وزیرستان میں فوجی قافلے پر دہشت گردوں کا حملہ، افسر سمیت 6 جوان شہید

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا کہ ‘تصادم کے دوران دہشت گردوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور اس تصادم کے نتیجے میں ایف سی بلوچستان کے 7 بہادر جوان اور 7 سیکیورٹی گارڈز نے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت پائی’۔

دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہونے والے جوانوں میں ‘پنجاب کے ضلع لیہ سے تعلق رکھنے والے صوبیدار عابد حسین، سبی کے نائیک محمد انور، ڈیرا غازی خان سے تعلق رکھنے والے لانس نائیک افتخار احمد، چکوال کے رہائشی سپاہی محمد نوید، بلوچستان کے ضلع پشین سے لانس نائیک عبداللطیف اور میانوالی سے تعلق رکھنے والے سپاہی محمد وارث شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا کے علاقے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے سپاہی عمران خان، حوالدار (ر) سمندر خان اور محمد فواد الدین’ بھی فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہوئے۔

دہشت گردوں کی فائرنگ سے ‘ڈیرا اسمٰعیل خان سے تعلق رکھنے والے عطااللہ، ٹانک سے وارث خان، کوہاٹ سے عبدالنافع اور شاکراللہ، بنوں سے تعلق رکھنے والے عابد حسین’ بھی شہید ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے۔

پاک فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ‘اس طرح کی بزدلانہ کارروائی بلوچستان میں قائم ہونے والے امن و استحکام اور معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے’۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ‘اس طرح کی کارروائیاں ہماری فورسز کے حوصلے کو کم نہیں کرسکتیں اور ہماری فورسز اپنے مادر وطن کا دفاع اپنی جانوں کی قیمت پر کرنے کے لیے پرعزم ہیں’۔

قبل ازیں خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ میں عہدیدار کے حوالے کہا گیا تھا کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر اورماڑا میں کاروان پر گھات لگائے حملہ آوروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 6 افراد شہید ہوئے، جن میں او جی ڈی سی ایل سے منسلک مزدور اور پیراملٹری فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔

سینیئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے’۔

واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔

ایک اور عہدیدار نے واقعے اور تفصیلات کی تصدیق کی جبکہ واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے تسلیم نہیں کی۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے اپنے بیان میں سیکیورٹی فورسز کے شہید اہلکاروں کے لواحقین سے تعزیت کی۔

وزیراعظم نے واقعے کی مذمّت کرتے ہوئے پورٹ بھی طلب کرلی۔

بلوچستان پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا بنیادی حصہ ہے، سی پیک چینی صوبے سنکیانگ کو گوادر سے ملاتا ہے جہاں سے بحیرہ عرب تک چین کی رسائی ہوتی ہے۔

گزشتہ برس اپریل میں بھی اورماڑا کے قریب دہشت گردوں کے حملے میں نیوی، پاک فضائیہ اور کوسٹ گارڈ کے 11 اہلکاروں سمیت 14 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں فوجی قافلے پر دہشت گردوں کے آئی ای ڈی دھماکے میں ایک افسر اور 5 سپاہی شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دھماکا جنوبی وزیرستان کے علاقے رزمک میں ہوا۔

دھماکے میں 24 سالہ کیپٹن عمر فاروق، 37 سالہ نائب صوبیدار ریاض احمد، 44 سالہ نائب صوبیدار شکیل آزاد، 36 سالہ حوالدار یونس خان، 37 سالہ نائیک محمد ندیم اور 30 سالہ لانس نائیک عصمت اللہ شہید ہوئے۔