نایاب نسل کے 75 باز اسمگلنگ کرنے کی کوشش ناکام

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

کسٹمز حکام کے مطابق ان پرندوں کی مالیت 10 لاکھ ڈالر سے زائد ہے—فوٹو:اے پی
کسٹمز حکام کے مطابق ان پرندوں کی مالیت 10 لاکھ ڈالر سے زائد ہے—فوٹو:اے پی

کسٹمز حکام نے نایاب نسل کے 75 باز کو اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی جن کی مالیت 10 لاکھ ڈالر سے زائد ہے جبکہ دو مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسمگلروں نے ان تمام پرندوں کو ملک کے شمالی علاقوں سے پکڑا جو اکثر خلیجی ممالک میں مہنگے داموں فروخت کیے جاتے ہیں جہاں پرندوں کے شکار کا کھیل بہت مقبول ہے۔

کسٹمز حکام کے مطابق انہوں نے کراچی کے مختلف علاقوں سے 75 باز اور ایک تلور کو اپنے قبضے میں لیا اور انہوں نے ایک ‘غیر معمولی’ انسداد اسمگلنگ کارروائی کی۔

مزید پڑھیں:صحرائے چولستان میں خلیجی ملک سے لائے گئے 1700 تلور چھوڑ دیے گئے

کسٹمز کے سینئر افسر محمد ثاقب سعید کا کہنا تھا کہ ‘ان پرندوں کو نایاب اور معدوم ہوتی نسل کے پرندوں میں شامل کیا گیا تھا اور ان کی تجارت پر سخت پابندی ہے’۔

انہوں نے پرندوں کے نسل سے متعلق وضاحت کیے بغیر بتایا کہ بلیک مارکیٹ میں ان کی قیمت تقریباً 20 کروڑ روپے (10 لاکھ ڈالر سے زائد) ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ پرندوں کو آزاد فضا میں چھوڑنے کا منصوبہ ہے۔

خیال رہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد باز سے کا شکار کرتے ہیں اور اس غرض سے وہ ہر سال موسم سرما میں بلوچستان آتے ہیں۔

خلیجی ممالک سے آنے والے شہزادے بلوچستان اور دیگر علاقوں میں تلور کا شکار کرتے ہیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے فیصلے میں ان پرندوں کے شکار پر پابندی ختم کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:بحرین کے بادشاہ کو تلور کے شکار کی اجازت

یاد رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں پرندوں کی نایاب قسم تلور کا تیسرا جھنڈ صحرائے چولستان میں چھوڑ دیا گیا تھا جن کی افزائشِ نسل خلیجی ریاست میں پنجروں میں کی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان نایاب پرندوں کو تلور کے تحٖفظ کے لیے قائم بین الاقوامی فنڈ یعنی انٹرنیشنل فنڈ فار ہوبار کنزرویشن (آئی ایف ایچ سی) ابوظہبی نے پنجروں میں پروان چڑھایا۔

بعدازاں ان پرندوں کو آئی ایف ایچ سی، ایک مقامی این جی اور ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان نے مشترکہ طور پر پنجاب کے جنوبی صحرا میں آزاد کیا۔

ایچ ایف آئی پی کے سربراہ بریگیڈیئر (ر) مختار نے کہا تھا کہ ان 1700 پرندوں کی افزائشِ نسل اور دیکھ بھال متحدہ عرب امارات میں آئی ایف ایچ سی کی اپنی سہولت گاہ میں کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 1700 کے علاوہ 500 اور ایک ہزار پرندے آئی ایف ایچ سی کے پنجروں میں پروان چڑھائے گئے جنہیں رواں برس مارچ اور ستمبر میں چولستان میں رہا کر دیا گیا تھا۔