ڈاکٹر عاصم کو طبی معائنے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت

اپ ڈیٹ 18 اکتوبر 2020

ای میل

سابق وزیر پر قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے بدلے فرٹیلائزر کارٹیل سے کمیشن وصول کرنے کا الزام ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
سابق وزیر پر قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے بدلے فرٹیلائزر کارٹیل سے کمیشن وصول کرنے کا الزام ہے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی: احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر پیٹرولیم اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین کو علاج کے لیے بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی۔

ڈان اخبار کی رپوٹ کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عاصم احتساب عدالت میں 2 کرپشن ریفرنسز اور انسداد دہشت گردی عدالت میں ایک فوجداری مقدمے کا سامنا کررہے ہیں۔

گزشتہ روز ڈاکٹر عاصم نے اپنے وکیل عامر رضا نقوی کے توسط سے ایک درخواست دائر کی تھی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ کچھ ماہ قبل ہونے والی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کے بعد طبی معائنے کے لیے بیرون ملک سفر کی اجازت دی جائے۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کو ڈاکٹر کے معائنے کے لیے دبئی جانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عاصم حسین علاج کیلئے لندن روانہ

احتساب عدالت نمبر 4 کے جج سوریش کمار نے درخواست منظور کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم کو 19 اکتوبر سے 25 نومبر کے درمیان بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عاصم اور شریک ملزم مبینہ طور پر 460 ارب روپے کی بدعنوانی کے حوالے سے 2 ریفرنسز کا سامنا کررہے ہیں، جس میں ان پر اپنے ہسپتال کی توسیع کے لیے زمین کی دھوکا دہی سے کی گئی الاٹمنٹ اور منی لانڈرنگ کا الزامات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ان پر دھوکا دہی سے جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کو 5 گیس فیلڈز کا ٹھیکا دینے کا الزام بھی ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 17 ارب 33 کروڑ 80 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

ڈاکٹر عاصم پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ضیا الدین ہسپتال /ٹرسٹ کے پھیلاؤ کے لیے دھوکا دہی سے پلاٹس کی الاٹمنٹ کے ذریعے ریاست کی زمین پر قبضہ کیا اور غیر قانونی فوائد، کک بیکس اور منی لانڈرنگ بھی کی۔

سابق وزیر پر ’قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے‘ کے لیے فرٹیلائزر کارٹیل سے کمیشن وصول کرنے کا بھی الزام ہے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر عاصم حسین، سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین تعینات

اس کے علاوہ ایک اور الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے خیراتی ہسپتال کے نام پر ’عوام کے ساتھ دھوکا اور بلیک مارکیٹنگ‘ بھی کی۔

ریفرنس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ سابق وزیر نے ریاست کو 2010 سے 2013 کے درمیان 462 ارب 50 کروڑ روپے سے محروم کیا، جن میں کھاد کے اسکینڈل سے ساڑھے 4 سو ارب، زمین کی دھوکا دہی سے ساڑھے 9 ارب اور 3 ارب روپے منی لانڈرنگ کے شامل تھے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فوجداری مقدمے کا سامنا بھی کررہے ہیں جس میں ان پر دہشت گردوں اور غنڈوں کو کراچی میں موجود ان کے نجی ہسپتالوں میں مبینہ طور پر پناہ فراہم کرنے کا الزام بھی ہے۔

واضح رہے انہیں رینجرز نے 26 اگست 2015 کو ان کے آفس سے حراست میں لیا تھا، ان کی گرفتاری سیاستدانوں کے خلاف انسداد بدعنوانی مہم میں ان کی گرفتاری پی پی پی رہنماؤں کے خلاف پہلا بڑا قدم تھی۔

ہراسانی کیس میں خاتون کا ریمانڈ

دوسری جانب کراچی کی مقامی عدالت نے ایک خاتون کو مبینہ طور پر ایک مرد کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار خاتون کو عدالتی تحویل میں ریمانڈ پر بھیج دیا۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا کہ سمیرا نامی خاتون کو مبینہ طور پر ایک مرد کی قابل اعتراض تصاویر بنانے اور اسے ہراساں، بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے ملزمہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ (شرقی) کے سامنے پیش کرتے ہوئے تفتیش کے لیے ان کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

انہوں نے بتایا کہ طاہر نامی شخص نے ملزمہ کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ خاتون نے اپنے موبائل سے ان کی قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز بنائیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہراساں کیے جانے سے متعلق 15 برس تک کسی کو نہیں بتایا، عائشہ عمر

انہوں نے مزید بتایا کہ خاتون، ان تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر انہیں مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کررہی تھیں۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ فرانزک جانچ پڑتال کے بعد مشتبہ خاتون کے موبائل سے غیر مہذب تصاویر اور ویڈیوز کو برآمد کر لیا گیا۔

انہوں نے جج سے استدعا کی کہ خاتون سے تفتیش و دیگر قانونی معاملات کے لیے 14 دن کے ریمانڈ پر ایف آئی اے حوالے کیا جائے۔

مزید پڑھیں: ’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا

تاہم جج نے ملزمہ کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، ساتھ ہی تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

خیال رہے کہ یہ مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم تھانے میں متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔


یہ خبر 18 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔