اپوزیشن اور حکومت کے ایک دوسرے پر فوج کو متنازع بنانے کے الزامات

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

سینیٹ کا اجلاس 2 روز کے وفقے کے بعد ہوا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی
سینیٹ کا اجلاس 2 روز کے وفقے کے بعد ہوا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: ملک میں جاری سیاسی گرما گرمی اس وقت ایوان بالا (سینیٹ) میں بھی پہنچ گئی جب دونوں اطراف کے قانون سازوں نے ملک میں اپوزیشن کی حکومت مخالف مہم کے بعد ہونے والے ایک مباحثے کے دوران فوج کے مبینہ سیاسی کردار پر بالواسطہ بحث کی اور ملک میں ادارے کو متنازع بنانے کے لیے ایک دوسرے پر الزام لگایا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 2 روز کے وقفے کے بعد ہونے والے ایوان بالا کے اجلاس میں 48 پوائنٹ ایجنڈا کے کسی ایک نکات کو بھی نہیں اٹھایا جاسکا کیونکہ اپوزیشن لیڈر راجا ظفر الحق کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر کی کراچی میں نجی ہوٹل سے گرفتاری کے معاملے کو اٹھانے کے بعد اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے 2 گھنٹے سے زیادہ تک جوشیلے انداز میں تقاریر کیں۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ایوان کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے اور کئی مواقع پر کارروائی اس وقت متاثر ہوئی جب اراکین نے ایک دوسرے کو روکا اور تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھیں: نواز شریف نے اداروں اور کرداروں کے درمیان لکیر کھینچ دی، مریم نواز

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر مولانا عطاالرحمٰن نے الزام لگایا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایف آئی آر پولیس نے وفاقی حکومت کی ایما پر درج کی اور یہ صوبائی پولیس چیف کے اغوا کے بعد حکومت سندھ کو مطلع کیے بغیر کی گئی، ساتھ ہی انہوں نے مذکورہ معاملے کو ایوان کی تحقیقاتی کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا۔

جے یو آئی (ف) کے سینیٹر نے الزام لگایا کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے یہ دعویٰ کرکے کہ انہیں ادارے کی مکمل حمایت حاصل ہے خود فوج کو سیاست میں گھسیٹا۔

وزیراعظم عمران خان کی ٹائیگر فورس کنوینشن میں گزشتہ ہفتے کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے یہ کہہ کر آرمی چیف کے خلاف الزمات لگائے کہ مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فونک کال کرنے کے بعد سیالکوٹ سے قومی اسمبلی کی نشست جیتی تھی۔

مولانا عطاالرحمٰن جو جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی بھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام سول اداروں کی سربراہی مسلح فورسز سے آئے لوگ کر رہے ہیں۔

اس موقع پر جماعت اسلامی (جے آئی) کے سربراہ سراج الحق کا کہنا تھا کہ انہیں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی گوجرانوالہ جلسے کی تقریر اور وزیراعظم عمران خان کی ٹائیگر فورس کنوینشن میں کی گئی تقریر میں کوئی فرق نہیں ملا۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے بیان کے الیکشن میں مدد سے جیتنے سے متعلق بیان کے بعد خواجہ آصف کے ساتھ ساتھ آرمی چیف کی جانب سے مکمل خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے پہلے پاور شو کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان سے ’سختی‘ سے نمٹیں گے اور نواز شریف کو وطن واپس لاکر سلاخوں کے پیچھے بھیجیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر انکشاف کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے الیکشن کی رات کو آرمی چیف کو ٹیلی فونک کال کی اور انتخاب جیتنے کے لیے ان کی مدد مانگی۔

ایوان میں دوران اجلاس پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا تھا کہ آئین نے سرکاری ملازمین خواہ فوجی جنرلز ہو یا سول بیوروکریٹس کو سیاست میں حصہ لینے سے روکا ہے۔

قبل ازیں سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی کراچی میں گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ جمہوریت کے نعروں سے کسی کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔

دوران اجلاس پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پہلے بلوچوں، پشتونوں اور سندھیوں کو غدار قرار دینے کے لیے استعمال کیا گیا لیکن اب پنجاب کی اشرافیہ کو غدار قرار دیا جارہا جو ایک خطرناک اشارہ ہے۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے فوج کے خلاف بات نہیں کی بلکہ یہ پی ٹی آئی تھی جو اپنی ناکامیوں کی وجہ سے فوج کے پیچھے چھپ رہی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی کم از کم 21 تقاریر ہیں جس میں انہوں نے فوج کے خلاف بات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا حملہ آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر ہے، وزیر اعظم

دوسری جانب حکومتی سینیٹر فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ وہ جماعتیں جمہوریت کی باتیں کر رہی ہیں جو خود فوجی جنرلز کی مدد سے اقتدار میں آئی تھیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے اداروں کو دھمکی نہیں دی لیکن حقوق میں ’انہوں نے انہیں ایک پیغام بھیجا ہے‘۔

ایوان میں آخری تقریر کے دوران وزیر مملک برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے تسلیم کیا کہ ’سول-عسکری عدم توازن‘ ملک میں ایک مسئلہ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کے سیاسی کردار پر بحث ہوسکتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں ’مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں‘ پر سوالات اٹھائے اور سانحہ مشرقی پاکستان کے لیے انہیں ذمہ دار قرار دیا۔