سندھ ہائی کورٹ نے 1500 کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کی درخواستیں خارج کردیں

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے اور ضابطوں پر عمل کیے بغیر بھرتی کی ہے، عدالت — فائل فوٹو:وکی میڈیا کامنز
ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے اور ضابطوں پر عمل کیے بغیر بھرتی کی ہے، عدالت — فائل فوٹو:وکی میڈیا کامنز

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے مشاہدہ کیا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے اور ضابطوں پر عمل کیے بغیر بھرتی کی ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ اس طرح کی تقرریاں نہ کی جائیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس ندیم اختر اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایم ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ مسابقتی عمل کے ذریعے اوپن میرٹ پر بھرتی کے طریقہ کار کو قانون کے مطابق مناسب وقت کے اندر مکمل کریں۔

بینچ نے یہ ہدایات ایم ڈی اے کے 1500 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کی خدمات مستقل کرنے کی درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے جاری کیں۔

مزید پڑھیں: نوجوانوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

درخواست گزاروں نے استدعا کی تھی کہ انہیں ایک گریڈ سے 17 گریڈ میں مختلف خالی آسامیوں پر ایڈہاک اور کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سندھ (ایڈہاک اینڈ کنٹریکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کے) ایکٹ 2013 کے تحت مستقل ہونے کے اہل ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ صوبائی کابینہ نے مارچ 2018 میں بھی ان کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم ایم ڈی اے ان کو مستقل نہیں کررہی اور اُن کو نظر انداز کرتے ہوئے ان عہدوں کا اشتہار دیا ہے۔

ایم ڈی اے کے وکیل اور ایک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے استدلال کیا کہ درخواستیں قابل عمل نہیں ہیں اور عہدوں پر میرٹ پر بھرتی کے لیے اشتہارات کی حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اچھی ملازمت تلاش کرنے کے آسان اور سودمند طریقے

دونوں فریقین کو سننے کے بعد بینچ نے مشاہدہ کیا کہ مستقل عہدوں پر ایڈہاک اور کنٹریکٹ تقرریوں کا بنیادی تصور اسٹاپ گیپ انتظامات تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر عہدے کو قانون کے مطابق شدہ طریقہ کار کے ذریعہ پُر کرنا ضروری ہے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین تھے اور جہاں تک ان کی ملازمت کی بات ہے انہیں باقاعدہ تقرر کا کوئی حق حاصل نہیں۔

بینچ نے کہا کہ درخواست دہندگان کی جانب سے پیش کردہ سروسز کو باقاعدہ کرنے کے بارے میں صوبائی کابینہ کے فیصلے میں ان کے کیس کی حمایت نہیں کی گئی ہے کیونکہ یہ ان کے کام کو مستقل بنانے کے معیار اور اہلیت پر پورا نہیں اترتا ہے۔