حراست میں موت: پولیس اہلکاروں کے خلاف نوجوان کے 'اغوا' کا مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

20سالہ نوجوان کی پولیس کی حراست میں موت واقع ہو گئی— فائل فوٹو: اے ایف پی
20سالہ نوجوان کی پولیس کی حراست میں موت واقع ہو گئی— فائل فوٹو: اے ایف پی

گجرات: مقامی پولیس کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں ایک 20 سالہ نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ موبائل فون چوری کے شبہات میں یہ اس نوجوان کو دو ہفتے قبل 24 گھنٹے اپنی تحویل میں رکھا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں ملوث عہدیداروں پر اغوا کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ان میں سے دو کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: گھر پر چھاپے کے دوران نوجوان کی ہلاکت، 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

کھاریاں کے ملکہ گاؤں کے رہائشی شرافت علی نے منگل کے روز ککرالی پولیس میں شکایت درج کروائی کہ اس کے 20 سالہ بیٹے صحاوت علی کو 5 اکتوبر کو ککرالی پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر افتخار نے چار نامزد اور متعدد نامعلوم پولیس اہلکاروں کے ہمراہ پکڑ لیا تھا، جب وہ تھانے گئے تو اسے اپنے بیٹے کی گرفتاری سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

تاہم اس نے دعویٰ کیا کہ اگلے دن اسے ایک نامعلوم شخص کا فون آیا جس نے اسے تھانے آ کر اپنے بیٹے کو لینے آنے کے لیے کہا، جب وہ وہاں پہنچا تو اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) لیاقت نے اس کے بیٹے کو تشویشناک حالت میں حوالے کردیا اور دھمکی بھی دی کہ اس معاملے پر خاموش رہے ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے نے انہیں بتایا تھا کہ پولیس نے اسے شدید جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا تھا اور بعد میں انہی چوٹوں میں اس کی موت ہوگئی۔

انہوں نے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور متوفی کے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں 'پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت' کا ایک اور واقعہ

ککرالی پولیس نے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 365 کے تحت اغوا کا مقدمہ درج کیا اور مبینہ طور پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور تفتیش شروع کردی گئی۔

متوفی کو پہلے عزیز بھٹی شہید ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں اس کا پوسٹ مارٹم کھاریاں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں کرایا گیا، اہل خانہ اور پڑوسیوں نے ٹی ایچ کیو ہسپتال کے باہر پولیس کے خلاف مظاہرہ کیا اور حراست میں قتل کے مقدمے کے اندراج کا مطالبہ کیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) عمر فاروق سلامت اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی تکمیل کے بعد اس کیس میں قتل اور حراستی قتل کے الزامات ہی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

دریں اثنا اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او نے اس معاملے میں ملوث ککرالی ایس ایچ او اور دیگر تمام عہدیداروں کو معطل کردیا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ (انوسٹی گیشن) عمران رزاق کے ساتھ ساتھ کھاریاں اور سرائے عالمگیر کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے ساتھ مل کر ایک اعلی سطح کی انکوائری ٹیم تشکیل دی، انسپکٹر ملک نذیر کو ککرالی کا نیا ایس ایچ او مقرر کیا گیا ہے۔