افغان فوج کے فضائی حملے میں 11 بچے جاں بحق

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2020

ای میل

افغان وزارت دفاع نے کہا کہ حملے میں متعدد کمانڈرز سمیت 12 طالبان کو مار دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی
افغان وزارت دفاع نے کہا کہ حملے میں متعدد کمانڈرز سمیت 12 طالبان کو مار دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی

قندوز: افغان فوج کی جانب سے ایک مسجد پر فضائی حملے کے نتیجے میں 11 بچے اور امام مسجد جاں بحق ہوگئے جبکہ اس حملے پر حکومت کا مؤقف مقامی انتظامیہ کے مؤقف سے مختلف ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کی رپورٹ کے مطابق صوبائی پولیس کے ترجمان خلیل اسیر نے بتایا کہ گزشتہ روز افغان فوج اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری تھی کہ اس دوران صوبہ تخار کے ایک گاؤں پر یہ فضائی حملہ کیا گیا۔

خلیل اسیر کا مزید کہنا تھا کہ 'حملہ اس وقت ہوا جب بچے قرآن پڑھنے میں مصروف تھے، انہوں نے مزید بتایا کہ حملے میں امام مسجد سمیت 11 طالبعلم جاں بحق جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: دوحہ: افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز

صوبائی گورنر کے ترجمان محمد جواد ہِجری نے بھی بتایا کہ فضائی حملے میں بچے جاں بحق ہوئے ہیں تاہم وزارت دفاع کی جانب سے افغان فضائیہ کے حملے کی تصدیق کی گئی لیکن اس کے نتیجے میں شہریوں کے جاں بحق ہونے کی تردید کی۔

وزارت دفاع کے جاری بیان میں کہا گیا کہ '12 طالبان کو مار دیا گیا ہے جس میں متعدد کمانڈرز بھی شامل تھے'۔

دوسری جانب افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کا کہنا تھا کہ مسجد میں بچوں کے مارے جانے کی خبر 'بے بنیاد' ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان: سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں 14 افراد ہلاک

سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'افواہیں پھیلانے والوں سے نمٹا جائے گا'۔

تاہم وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

علاوہ ازیں طالبان کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'دشمن نے مسجد پر اس وقت بمباری کی جب متعدد بچے مذہبی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے، اور حملے کے نتیجے میں مسجد منہدم ہوگئی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان کے حملوں میں 28 پولیس اہلکار ہلاک

افغان فوج کے پاس ایک نو آموز فضائی فورس ہے جس کے پاس چھوٹے حملے کرنے والے طیارے ہیں جو زمینی فوج کی مدد کرنے کے لیے محدود قریبی فضائی مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ منگل کے دن سے صوبہ تخار میں شدید لڑائی کے نتیجے میں 25 افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔


یہ خبر 23 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔