اپنے خراٹوں پر کیسے قابو پائیں؟

25 اکتوبر 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

خراٹے ویسے بے ضرر ہوتے ہیں مگر آپ کے لیے، دیگر کو ان کی آواز کچھ زیادہ پسند نہیں آتی۔

آپ کے خراٹے گھروالوں کی نیند کو متاثر کرسکتے ہیں، عموماً خراٹوں کی وجہ ناک، آنکھیں اور گالوں کے پیچھے موجود سانس کی گزرگاہ میں موجود لائننگ یا نسل پولپس کی سوجن ہوتی ہے۔

ناک کی اندرونی لائننگ سوجنے کے نتیجے میں یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے جس کی علامات ناک بند ہونا، منہ پر دباﺅ، سونگھنے یا چکھنے کی حس کم ہوجانا وغیرہ ہیں جسے آبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا (او ایس اے) بھی کہا جاتا ہے۔

خوش قسمتی سے طرز زندگی میں چند تبدیلیاں اور چند عام گھریلو ٹوٹکوں سے سے اس مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

اگر آپ خراٹے لیتے ہیں اور اس کے نتیجے میں رات کو اچانک نیند سے بیدار ہوجاتے ہیں کیونکہ سانس نہیں لیا جارہا ہوتا یا صبح غنودگی یا تھکاوٹ کا احساس دن بھر رہتا ہے تو یہ سلیپ اپنیا کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

یہ عارضہ فشار خون (بلڈ پریشر) اور دیگر سنگین امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے اور اس حوالے سے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اس سے ہٹ کر خراٹوں پر قابو پانے کے لیے درج ذیل چند ٹوٹکے اور طرز زندگی کی تبدیلیاں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

مخصوص ادویات سے گریز

سکون آور یا نیند کی چند ایسی مخصوص ادویات جو عموماً ذہنی تشویش یا بے چینی یا بے خوابی کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ان کی وجہ سے خراٹوں کا مسئلہ لاحق ہوسکتا ہے، کیونکہ ان ادویات سے رات میں حلق کے مسلز پرسکون ہوتے ہیں اور نتیجہ خراٹوں کی شکل میں نکتا ہے۔

جسمانی وزن کم کریں اگر موٹاپے کے شکار ہیں

گردن اور حلق میں چربی کے اضافی ٹشوز سے سانس کی گزرگاہ تنگ ہوتی ہے، جسمانی وزن میںکچھ کمی سے سانس کی گزرگاہ کو کھولنے میں مدد مل سکتی ہے، یہ طریقہ ان افراد کے لیے ہیں جو موٹاپے کے شکار ہوں، ورنہ دبلے پتلے افراد بھی اکثر خراٹے لیتے ہیں، جن کی وجوہات الگ ہوتی ہیں۔

نتھوں کی بندش کے مسائل سے نجات دلانے والے ٹوٹکے

اگر آپ کی ناک بلغم کی وجہ سے بند ہے تو نمک ملے پانی سے صاف کریں، اگر الرجی کے شکار ہیں تو اپنے سونے کے کمرے کی اچھی طرح صفائی کریں یا ڈاکٹر کے مشورے سے الرجی کی دوا استعمال کریں۔ اگر ناک کے ٹشوز کی سوجن سے مسئلہ ہے تو ہومیڈیفائر یا ادویات سے سوجن کم کی جاسکتی ہے۔

تمباکو نوشی سے گریز

تمباکو نوشی سے صحت پر متعدد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اورر ایسے ہی افراد میں خراٹوں کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے، اس کی ممکنہ وجوہات میں رات کے وقت نکوٹین سے دوری ہوتی ہے جو نیند میں مداخلت کا باعچ بنتی ہے جبکہ تمباکو نوشی سے سانس کی بالائی گزرگاہ میں سوجن اور خراش کا امکان بڑھتا ہے، یہاں تک کہ کسی اور کے سیگریٹ کا دھواں پھیپھڑوں پر پہننا بھی خراٹوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

پہلو کے بل سونا یا سر اونچا رکھنا

جب آپ بالکل سیدھا لیٹتے ہیں تو زبان پیچھے کی جانب جاکر سانس کی گزرگاہ کے سرے کو دبانے لگتی ہے، تو پہلو کے بل لیٹنا اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ٹینسس بال سے بھی مدد لی جاسکتی ہے اور خراٹے لینے والے فرد کے کپڑوں سے ایک سیفٹی پن کی مدد سے ٹینس بال کو لگادیں، جب وہ فرد چت لیٹے گا تو ٹینس بال اس کے لیے بے آرامی کا باعث بنے گی اور وہ ایک بار پھر کروٹ لینے پر مجبور ہوجائے گا۔

یا متبادل کے طور پر اپنے اضافی تکیے کی مدد سے سر کو اونچا کرلیں تو اس سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

خیال رہے کہ طرز زندگی کی یہ تبدیلیاں اور ٹوٹکے ایسے افراد کے لیے مددگار ہیں جو صرف خراٹوں کے شکار ہوں، سلیپ اپینا کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔