وزیر اعظم نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دے دی

27 اکتوبر 2020

ای میل

وزیر اعظم کو صنفی تشدد کے جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بھی بریفنگ دی گئی — فائل فوٹو / وزیر اعظم انسٹاگرام
وزیر اعظم کو صنفی تشدد کے جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بھی بریفنگ دی گئی — فائل فوٹو / وزیر اعظم انسٹاگرام

وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام کی اصولی منظوری دے دی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں احتساب اور صنفی تشدد کے حوالے سے ملک بھر میں نئی عدالتوں کے قیام سے متعلق تجاویز پیش کیں۔

وفاقی وزارت قانون و انصاف ڈویژن کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ مالی مشکلات کے پیش نظر پہلے مرحلے میں 30 نئی احتساب عدالتیں تشکیل دی جائیں گی جبکہ باقی عدالتوں کا قیام مقدمات کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار عمل میں لایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کا احتساب عدالتوں کو روزانہ کی بنیاد پر کرپشن مقدمات کی سماعت کا حکم

وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خزانہ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ نئی احتساب عدالتوں کے قیام کے حوالے سے درکار فنڈز، بھرتیوں اور انسانی وسائل سے متعلق معاملات میں وزارت قانون و انصاف ڈویژن کو ہر قسم کی معاونت فراہم کی جائے۔

مزید برآں پارلیمانی سیکریٹری برائے قانون و انصاف بیرسٹر ملائیکہ بخاری نے وزیر اعظم کو صنفی تشدد کے جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

ان عدالتوں میں خواتین اور بچوں کے ساتھ صنفی تشدد پر مبنی مقدمات چلائے جائیں گے۔

وزیر اعظم نے وزارت قانون و انصاف کے اقدام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ اس حوالے سے متعلقہ فریقین سے مشاورت اور قوانین میں ترمیم کے ذریعے ملک بھر میں ’اسپیشل جینڈر بیسڈ وائلنس کورٹس‘ کا قیام عمل میں لایا جائے۔

واضح رہے کہ رواں سال جولائی میں سپریم کورٹ نے سیکریٹری قانون کو حکم دیا تھا کہ وہ کیسز کے بڑے بیک لاک کو ختم کرنے کے لیے کم از کم 120 احتساب عدالتیں قائم کرنے کے لیے حکومت سے فوری طور پر ہدایات حاصل کریں۔

مزید پڑھیں: 120 احتساب عدالتوں کے قیام کیلئے سیکریٹری قانون کو حکومت سے ہدایت لینے کا حکم

سپریم کورٹ کی جانب سے یہ ہدایات سال 2000 سے 1226 ریفرنسز کے زیرالتوا ہونے سمیت مجموعی طور پر 25 میں سے 5 احتساب عدالتوں میں اسامیاں خالی ہونے پر مایوسی کے اظہار کے بعد سامنے آئیں۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے ستمبر میں پورے ملک میں 120 احتساب عدالتیں قائم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا تھا۔

اس منصوبے میں ملک بھر میں اضافی احتساب عدالتوں کے قیام کے لیے انسانی وسائل کی مجموعی ضروریات اور مالی مضمرات شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا 120 نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کا منصوبہ

وزارت قانون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ منصوبہ قانون اور انصاف ڈویژنز کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس وقت ملک بھر میں 24 احتساب عدالتیں کام کر رہی ہیں جو اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، لاہور، ملتان، کراچی، حیدرآباد، سکھر اور کوئٹہ میں ہیں۔