سندھ ہائی کورٹ نے 2016 کے طیارہ حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی

اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2020

ای میل

عدالت نے اے اے آئی بی صدر کو آئندہ سماعت پر حتمی تفتیشی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی—فائل فوٹوـ رائٹرز
عدالت نے اے اے آئی بی صدر کو آئندہ سماعت پر حتمی تفتیشی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی—فائل فوٹوـ رائٹرز

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے فضائی حادثوں کی تحقیقات کرنے والے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے سربراہ کو 2016 میں ہوئے اے ٹی آر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ 19 نومبر کو پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ تفتیش مکمل ہوگئی ہے لیکن غیر ملکی تسلیم شدہ تینوں نمائندوں میں سے ایک کی حتمی رائے کا انتظار کیا جارہا ہے جو 30 اکتوبر تک موصول ہونے کا امکان ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے طیارہ حادثے کی تحقیقات سے متعلق درخواست کی سماعت کی جس میں اے اے آئی بی کے صدر ایئر کموڈور عثمان غنی محکمہ ہوا بازی کے ایک عہدیدار کے ہمراہ پیش ہوئے اور عدالت میں پیش رفت رپورٹ اور بیان جمع کروایا۔

یہ بھی پڑھیں:2016 کے طیارہ حادثہ کیس کی تحقیقات 45 دن میں مکمل کرنے کا حکم

بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں لیکن رپورٹ کو باضابطہ طور پر عوام کے لیے جاری کرنے کے حوالے سے اے اے آئی بی، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کنوینشن اور سول ایوی ایشن رولز 1994 کے تحت غیر ملکی تسلیم شدہ نمائندوں کی رائے حاصل کرنے کا پابند ہے جو طیارہ ساز کمپنیوں کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ طیارہ بنانے والے ملک فرانس، اس کا انجن بنانے والے کینیڈا کی جانب سے رائے موصول ہوگئی ہے جبکہ پروپیلر اور متعلقہ نظام بنانے والے ملک امریکا کی جانب سے رائے کا انتظار ہے جو 30 اکتوبر تک موصول ہونے کا امکان ہے جس کے بعد اے اے آئی بی کے صدر عدالت میں مکمل رپورٹ جمع کروائیں گے۔

اے اے آئی بی کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس طرح کی رپورٹس سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرتے تھے۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کی طیارہ حادثہ انکوائری رپورٹ 25 جون کو جمع کرانے کی ہدایت

بیان کی نقول اور پیش رفت رپورٹ درخواست گزار کو بھی فراہم کردی گئیں جنہوں نے اسی طرح مہلت طلب کی تھی۔

عدالت نے اے اے آئی بی صدر کو آئندہ سماعت پر حتمی تفتیشی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ 7 دسمبر 2016 کو چترال سے اسلام آباد جانے والی قومی ایئر لائن پرواز ایبٹ آباد کے نزدیک گر کر تباہ ہوگئی تھی جس میں معروف نعت خواں جنید جمشید کے علاوہ 42 مسافر اور عملے کے اراکین جاں بحق ہوگئے تھے۔

مذکورہ حادثے کے بعد عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے)، سی اے اے اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے طیارہ حادثہ: تحقیقاتی ٹیم نے شوہد اکٹھے کرلیے

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اے ٹی آر طیاروں کے متعدد حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، ساتھ ہی استدعا کی گئی کہ متعلقہ افسران پر ذمہ داری عائد کر کے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور متاثرین کے قانونی ورثا کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

اس سے قبل ہونے والی سماعت میں بدقسمت طیارے میں سوار فرسٹ آفیسر احمد منصور جنجوعہ کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ متعدد کوششوں کے باوججود نہ تو سی اے اے اور نہ ہی پی آئی اے نے انہیں اے ٹی آڑ طیارہ حادثے کی تحقیقات میں بارے میں بتایا۔