‘کورونا وائرس سے متعلق تنازع بہت تکلیف دہ تھا لیکن اس نے مجھے مضبوط بھی بنایا’

اپ ڈیٹ 02 نومبر 2020

ای میل

ان کے شوہر کے خلاف باورچی کو کورونا وائرس ہونے کے باوجود گاؤں بھیجنے کا مقدمہ درج ہوا تھا — فوٹو:انسٹاگرام
ان کے شوہر کے خلاف باورچی کو کورونا وائرس ہونے کے باوجود گاؤں بھیجنے کا مقدمہ درج ہوا تھا — فوٹو:انسٹاگرام

ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد معروف فیشن ڈیزائنر کو اس وائرس کے حوالے سے ایک تنازع کا سامنے ہوا تھا لیکن ماریہ بی کہتی ہیں کہ اس سے ان کی سیلز تو متاثر نہیں ہوئی مگر بہت زیادہ تکلیف ضرور پہنچی تھی۔

رواں برس 24 مارچ کو پنجاب پولیس نے ماریہ بی کے شوہر طاہر سعید کے خلاف اپنے باورچی کو کورونا وائرس ہونے کے باوجود گاؤں بھیجنے اور حکام کو اس حوالے سے آگاہ نہ کرنے پر ایف آئی آر درج کی تھی۔

بعدازاں سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ڈیزائنر ماریہ بی وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کرتی نظر آئیں، انہوں نے پنجاب پولیس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے گھر پر اس طرح چھاپہ مارا جیسے یہاں کوئی منشیات مافیا کا سب سے بڑا ڈان رہتا ہو۔

تاہم لاہور پولیس کے ترجمان نے بیان میں ڈیزائنر اور ان کے شوہر کی جانب سے پولیس پر کی گئی تنقید کو بے بنیاد ٹھہرایا تھا اور کہا تھا کہ کہ ماریہ بی کے شوہر نے سب کچھ جاننے کے باوجود اپنے ملازم کو اس کے گاؤں بھیج دیا اور ان کی اس حرکت سے ہزاروں معصوم لوگوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ گئیں۔

جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف banMariaB# کا ہیش ٹیگ بھی زیر گردش رہا تھا لیکن ماریہ بی نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے تنازع کی وجہ سے ان کی سیلز بالکل بھی متاثر نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میرے کسٹمر بہت وفادار ہیں اور وہ سب سمجھتے ہیں کہ میں کون ہوں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس: ماریہ بی کا یومیہ 1000 ماسک بنانے کا اعلان

ماریہ بی نے کہا کہ یہ پورا واقعہ بہت تکلیف دہ تھا لیکن اس نے مجھے مضبوط بھی بنایا، اس سے مجھے احساس ہوا کہ اس سب میں میرا ارادہ اہم تھا اور میں لوگوں کو مجھے بدنام کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں کرسکتی تھی سوائے اس کے کہ میں اپنے خیالات پر قائم رہتی۔

ماضی میں بھی ماریہ بی کو اسی قسم کی صورتحال کا سامنا رہا ہے، کچھ سال قبل، ان کے ایک اسٹور کو رات میں بارش ہونے کے بعد انسداد ڈینگی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ماریہ بی نے اس حوالے سے کہا کہ وہ سب بھی بے بنیاد تھا۔

علاوہ ازیں کیرئیر کے ابتدائی سالوں میں جب ماریہ بی کے فیشن شوز پر اچھے تبصرے نہیں ہوئے تھے تو ان کے برانڈ کو ایوارڈز کی نامزدگیوں کے لیے بھی نظرانداز کردیا گیا تھا۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

اس حوالے سے ماریہ بی نے کہا کہ میں ایوارڈز کمیٹی کو یہ بتانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی کہ میرا برانڈ کتنا اچھا ہے، مجھے اپنے کسٹمرز کو اس حوالے سے رضامند کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں اس وقت ماریہ بی کے 40 اسٹورز ہیں اور ان کا برانڈ ان سلے کپڑوں سے پریٹ (ریڈی میڈ)، فارمل ویئر، برائیڈل ویئر کے متعدد کلیکشنز پیش کرتا ہے جن کی قیمت اکثر ڈیزائنرز سے کم ہوتی ہے جبکہ انہوں نے جیولری بھی لانچ کی ہے۔

وہ حال ہی میں ترکی کے دورے سے واپس آئی ہیں اور انہوں نے پاکستان میں مقبول ہونے والے ترک ڈرامے ارطغرل کے کچھ اداکاروں کے ساتھ فوٹو شوٹ بھی کیا ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

ماریہ بی کچھ سال قبل فیشن ویکس سے الگ ہوگئی تھی، وہ ناقدین کی رائے لینے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتیں اور وہ شاید ہی ایوارڈ یا اسٹارز کی پارٹیز میں دکھائی دیتی ہیں۔

اس کے بجائے ان کی توجہ اپنی کسٹمر بیس بنانے پر ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔

ماریہ بی نے کہا کہ جب 21 برس قبل میں نے کام شروع کیا تھا تو ایک وقت ایسا آیا جب میں بہت مایوس ہوگئی تھی، مجھے محسوس ہوا کہ فیشن ناقدین مسلسل میرا کام دیکھ رہے تھے اور مجھے تسلیم کرنے سے انکاری تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے متاثر ماریہ بی کے ملازم کو قرنطینہ کردیا گیا

انہوں نے کہا کہ یہ میرے لیے بھی ذاتی طور پر مشکل وقت تھا، میرے بچے تھے اور میری طلاق بھی ہوچکی تھی، اس وقت میری والدہ نے کہا تھا کہ مجھے صرف اس چیز پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے جو میں کرنا پسند کرتی ہوں اور باقی ہر چیز کو نظرانداز کردوں اور میں نے یہی کیا۔

اور اپنی والدہ کے مشورے کے باعث وہ پاکستانی فیشن انڈسٹری میں کامیاب ہوئی ہیں اور اس میں آنے والے نئے ڈیزائنرز کے لیے ایک اُمید بھی ہیں۔

آن لائن پلیٹ فارمز پر ’ماریہ بی کے کپڑوں کی دوبارہ فروخت’ کے اکاؤنٹس موجود ہیں جو انہی کے برانڈ کے کپڑے خرید کر ان سے منافع کماتے ہیں جبکہ کچھ تو کسٹمرز کو کپڑے سی کر بھی دیتے ہیں۔

اس حوالے سے ماریہ بی نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ بہت سی ایسی خواتین ہول سیل ریٹس پر ہم سے بہت سے کپڑے خریدتی ہیں اور وہ پھر انہیں ہماری دی گئی قیمت پر فروخت کرتی ہیں یا کبھی کبھی منافع کماتی ہیں، اگر کوئی مقبول پرنٹ ہو تو وہ زیادہ پیسے بھی وصول کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈیزائنر ماریہ بی کے شوہر پر ہزاروں زندگیاں خطرے میں ڈالنے کا الزام، مقدمہ درج

ماریہ بی نے کہا کہ انہیں اپنے برانڈ کے کپڑے یوں فروخت ہونے پر برا نہیں لگتا کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ وہ خواتین کو بااختیار بنارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے چھوٹے کاروبار چلانے والی خواتین اس آمدن سے اپنا گھر چلارہی ہیں اور بچے پال رہی ہیں، وہ ہم سے شفاف طریقے سے کپڑے خریدتی ہیں۔

—فوٹو: ڈان آئیکون
—فوٹو: ڈان آئیکون

ماریہ بی نے بتایا کہ کئی سال کی انتھک محنت کے بعد ان کا برانڈ کافی مقبول ہوگیا ہے اور وہ بھی اپنے ان سلے سوٹس کے ڈیزائن خود بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں بہت زیادہ مقابلہ ہے، مجھے یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر کلیکشن مختلف ہو۔

ماریہ بی نے کہا کہ میں نے 15 سال قبل پہلا لان کلیکشن جاری کیا تھا، میرے ساتھ صرف ایک ڈیزائنر تھی، ہم نے تمام ڈیزائنز خود بنائے تھے اور پھر انہیں پرنٹ کروانے فیصل آباد گئے تھے، تب سے اب تک بہت کچھ بدل گیا ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

انہوں نے کہا کہ وہ ڈیزائنرز کی ٹیم کو ان اسٹچڈ کلیکشن کے لیے تربیت دے رہی ہیں جبکہ پریٹ کی ایک باصلاحیت ٹیم موجود ہے۔

ماریہ بی نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (پی آئی ایف ڈی) سے گریجویٹ کرنے کے بعد پہلا ریٹیل اسٹور کھولا تھا، انہوں نے فیشن ویکس میں حصہ لیا اور دنیا بھر میں اپنے کلیکشن کی نمائش کی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت میں اپنا برانڈ بنارہی تھی اور مشرق و مغرب کے لباس کا امتزاج پیدا کرنے کی کوشش کررہی تھی اور اس سلسلے میں وہ لندن میں آسیانہ برائیڈل شو اور امریکا میں سالانہ اے پی این اے کانفرنس بھی گئی۔

—فوٹو:انسٹاگرام
—فوٹو:انسٹاگرام

تاہم وہ اب کہیں نہیں جاتیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں اب ان کا برانڈ قائم ہوچکا ہے اور اگر بیرون ملک سے کوئی ان سے خریدنا چاہے تو ان کے آن لائن اسٹور تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

اسی طرح وہ فیشن ویک کا بھی حصہ نہیں ہیں کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ جو فیشن ویک سے حاصل ہونا ہے وہ سوشل میڈیا پر ایک کرئیٹو فیشن شوٹ سے حاصل کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: ماریہ بی کے ملازم کے ٹیسٹ نتائج منفی آگئے

ماریہ بی نے کہا کہ انہوں نے کبھی فیشن ویکس کا لطف نہیں اٹھایا وہ اپنے اردگرد موجود مصنوعی پن سے اچھا محسوس نہیں کرتی تھیں۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران پروڈکشن میں کمی سے متعلق انہوں نے کہا کہ کچھ طریقوں سے ایسا کیا اور ایسے پروڈکٹس زیادہ بنائے جو اس وقت زیادہ فروخت ہوسکتے تھے اور ان چیزوں کی پیداوار میں کمی کی جو انہیں لگتا تھا کہ لوگ اس وقت نہیں خریدیں گے۔

ماریہ بی نے بتایا کہ انہوں نے نیا ان سٹچڈ کلیکشن لانچ نہیں کیا تھا اور نئے ’ماریہ بی’ جیولری کی پروڈکشن بھی روک دی تھی جو اب ریلیز ہونے جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم خوش قسمت تھے کہ کورونا کی وجہ سے اسٹورز بند ہونے کے باوجود ہماری آن لائن سیلز اچھی ہوئیں شاید گزشتہ برس کی طرح بزنس اتنا نہیں بڑھا۔


یہ مضمون یکم نومبر 2020 کو ڈان آئیکون میں شائع ہوا