امریکا نے سزا کے طور پر نام ہی تبدیل کیوں کیے؟

13 نومبر 2020

ای میل

لکھاری صحافی ہیں۔
لکھاری صحافی ہیں۔

آپ کو یاد ہوگا کہ 2003ء میں امریکا نے سوچا تھا کہ عراق پر حملہ کیا جائے۔ اس وقت کولن پاول نے ایک زہریلے مواد اینتھریکس کو دکھا کر یہ بتایا تھا کہ یہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار ہے۔

اس بیان کے بعد امریکی میڈیا تو جیسے پاگل ہوگیا تھا اور عراق کے ان مبیّنہ ہتھیاروں کو امریکا کے لیے ناگزیر خطرہ قرار دینے کی کوشش کر رہا تھا۔

امریکا نے سوچا کہ اکیلے کسی ملک پر بمباری کرکے اسے تباہ کردینا بہت بور کردینے والا کام ہے۔ اس لیے مزید ممالک کو جنگ میں شامل کرنے کے لیے امریکا نے ’پُرعزم ممالک کا اتحاد‘ بنایا کیونکہ ظاہر ہے ان کی رضامندی ضروری تھی۔ لیکن فرانس اس چکر میں نہیں آیا، اور اس نے جنگ میں شمولیت سے انکار کردیا۔ فرانس کا خیال تھا کہ فوجی مداخلت عراق کے مسئلے کا بہتر حل نہیں ہے۔

ظاہر ہے کہ کسی بھی بپھرے ہوئے اور بندق تھامے امریکی کے لیے یہ غداری قابلِ قبول نہیں تھی، پھر یہ غداری ایک ایسے ملک کی طرف سے جسے کچھ عشرے پہلے امریکی افواج نے ہی آزاد کروایا ہو۔ اب ان ناشکرے فرانسیسیوں کے ساتھ کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔

اس کے لیے انہوں نے فرانسیسیوں کو وہاں ضرب لگائی جہاں انہیں سب سے زیادہ نقصان ہو، یعنی ان کے کھانوں پر۔ اہداف کی اس طویل فہرست میں فرنچ فرائز سے بہتر اور کیا چیز ہوگی۔ جی ہاں، مجھے معلوم ہے کہ فرنچ فرائز دراصل بیلجین پکوان ہیں لیکن براہِ مہربانی ابھی بات چلنے دیں۔

اور پھر ہوا یوں کہ امریکا بھر میں ریسٹورنٹس نے فرنچ فرائز کا نام تبدیل کرکے فریڈم فرائز رکھ دیا۔ اب جیسے کسی بھی مشن میں ہوتا ہے، اس مشن کی زد میں بھی مزید چیزیں آتی گئیں۔ سوال پوچھا گیا کہ پھر فرنچ ٹوسٹ، فرنچ بریڈ اور فرنچ ٹوئسٹ کا کیا کیا جائے؟ آخری 2 کا تو مجھے نہیں معلوم لیکن کچھ عرصے کے لیے فرنچ ٹوسٹ کا نام فریڈم ٹوسٹ ضرور ہوگیا تھا۔

مجھے یہ بات اس لیے یاد آئی کہ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے ایک سعودی فاسٹ فوڈ چین نے اپنے ’ٹرکش برگر‘ کا نام تبدیل کرکے اسے ’گریک کومبو‘ کا نام دے دیا اور اس کی قیمت بھی کم کردی۔

آپسی کشیدگی اور جنگوں کے دوران ناموں کی تبدیلی کا یہ کھیل بہت پرانا ہے۔ بچپن میں یہ سوال میرے ذہن میں اٹھتا تھا کہ آخر ایک ہی نسل کے کتے کو جرمن شیفرڈ اور السیشن کے 2 مختلف نام کیوں دیے ہوئے ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم میں اتحادیوں کو معلوم ہوا کہ ان کے پسندیدہ کتے دراصل جرمن نسل کے ہیں۔ ایک طویل بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ان کتوں کا نام الزاس کے نام پر السیشن رکھ دیا جائے۔ اس وقت الزاس (موجودہ) فرانس کا ایک صوبہ تھا جو جنگ کا مرکز بنا ہوا تھا اور کئی صدیوں سے فرانس اور جرمنی اسے اپنی ملکیت شمار کرتے تھے۔

چلیں یہاں اتحادیوں نے تو تھوڑے سوچ بچار اور تخلیقیت سے کام لیا لیکن جب امریکا جنگ میں کودا تو اس نے ہر چیز کا نام تبدیل کردیا جس کا جرمنی سے کوئی دُور کا بھی تعلق تھا۔

مثال کے طور پر ’ساور کراؤٹ‘ کو ’فریڈم کیبیج‘ کا نام دے دیا گیا۔ اسی طرح ’ہیم برگرز‘ کا نام محض اس لیے ‘آزادی برگرز‘ رکھ دیا گیا کیونکہ اس کا تعلق جرمن شہر ہیم برگ سے جڑ رہا تھا۔ سب سے بُرا تو جرمن میزلس (خسرہ) کے ساتھ ہوا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بیماری کا نام کیوں تبدیل کیا جائے، یہ تو ویسے ہی ایک منفی چیز کا نام ہے۔ لیکن نہیں اس بیماری کا نام بھی تبدیل کرکے فریڈم میزلس کردیا گیا۔ یہ سننے میں جیسا بھی لگے لیکن آپ کو یہ بات ماننی پڑے گی کہ امریکی آزادی کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

نظریہ آپ کو بہت سی عجیب و غریب چیزیں کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ انقلاب کے بعد قائم ہونے والی فرانس کی ریاست سے زیادہ نظریاتی ریاست شاید ہی کوئی ہو۔ اس سیکولر ریاست نے گریگیرین کلینڈر کو ہی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جو یسوع مسیح کی پیدائس پر شروع ہوتا ہے. لیکن انہوں نے اسے ختم کرکے ایک نیا سال شروع کیا جسے ’ائیر ون‘ یا پہلے سال کا نام دیا گیا۔ انہوں نے تو مہینوں اور دنوں کے نام بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی تاکہ مذہب اور توہم پرستی کا کوئی شبہ بھی باقی نہ رہے۔

معاملہ یہیں پر نہیں رکا، بلکہ ایک ایسی قوم جس نے اپنے بادشاہوں اور ملکاؤں کو قتل کردیا تھا وہ تاش کے پتوں پر ان کی تصویر کیسے رہنے دے سکتی تھی۔ اس وجہ سے فرانسیسیوں نے تاش کے پتوں کو بھی تبدیل کردیا۔ لیکن جس طرح فرنچ فرائز فرنچ ہی رہے اور جرمن میزلس بھی جرمن ہی رہی، اسی طرح تاش کے پتوں پر بادشاہ اور ملکہ بھی برقرار رہے۔


یہ مضمون 9 نومبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔