سلطانز کو سپر اوور میں شکست، کراچی کنگز پہلی مرتبہ فائنل میں پہنچ گئی

اپ ڈیٹ 14 نومبر 2020

ای میل

کراچی کنگز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد سپر اوور میں فتح حاصل کی— فوٹو کراچی کنگز ٹوئٹر
کراچی کنگز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد سپر اوور میں فتح حاصل کی— فوٹو کراچی کنگز ٹوئٹر
کراچی کنگز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد سپر اوور میں فتح حاصل کی— فوٹو بشکریہ پی ایس ایل
کراچی کنگز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد سپر اوور میں فتح حاصل کی— فوٹو بشکریہ پی ایس ایل

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کے پہلے پلے آف میں کراچی کنگز نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد ملتان سلطانز کو سپر اوور میں شکست دے کر پہلی مرتبہ ایونٹ کے فائنل میں جگہ بنا لی۔

کراچی کنگز کی دعوت پر ملتان سلطانز نے اننگز کا آغاز کیا تو ذیشان اشرف اور ایڈم لتھ نے ٹیم کو 19 رنز کا آغاز فراہم کیا جس کے بعد لتھ 9 رنز بنانے کے بعد وقاص مقصود کو وکٹ دے بیٹھے۔

ابھی ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ کپتان شان مسعود اور رائلی روسو رن آؤٹ ہو کر چلتے بنے۔

ملتان سلطانز کی مشکلات میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب ذیشان اشرف 21 رنز بنانے کے بعد عماد وسیم کی وکٹ بن گئے۔

اس مرحلے پر روی بوپارہ کا ساتھ دینے خوشدل شاہ آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے سنبھل کر بیٹنگ کرتے ہوئے پانچویں وکٹ کے لیے 40 رنز کی شراکت قائم کی۔

اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، محمد عامر نے خوشدل کی 17رنز کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

بوپارہ اور شاہد آفریدی نے ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن ارشد اقبال کو چھکا لگانے کے بعد شاہد آفریدی اگلی گیند پر چلتے بنے۔

روی بوپارہ 31 گیندوں پر ایک چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 40 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد وقاص مقصود کی وکٹ بن گئے۔

اختتامی اوورز میں سہیل تنویر نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13 گیندوں پر 25 رنز کی اننگز کھیلی جس کی بدولت ملتان سلطانز کی ٹیم معقول مجموعے تک رسائی میں کامیاب رہی۔

ملتان سلطانز نے مقررہ اوورز میں 7وکٹوں کے نقصان پر 141رنز بنائے۔

142 رنز کے ہدف کے تعاقب کراچی کنگز نے اننگز کا آغاز کیا تو شرجیل خان صرف 4 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔

اس کے بعد بابر اعظم کا ساتھ دینے ایلکس ہیلز آئے اور دونوں نے دوسری وکٹ کے لیے 42 رنز کی شراکت قائم کر کے ابتدائی نقصان کا ازالہ کردیا، ہیلز 22 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوئے۔

بابر نے عمدہ فارم کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے افتخار کے ساتھ مل کر اسکور کو 90 تک پہنچا دیا جس کے بعد افتخار کی 22 رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔

بابر اعظم نے اپنی نصف سنچری مکمل کی اور اسکور کو 117 تک پہنچا دیا لیکن اس مرحلے پر سہیل تنویر کے عمدہ اسپیل نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔

بابر 65 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے جبکہ سہیل تنویر نے چیڈوک والٹن کو بھی پویلین واپسی پر مجبور کردیا۔

عماد وسیم ایک اینڈ سے ڈٹے رہے لیکن دوسرے اینڈ سے عمران طاہر نے شرفین ردرفورڈ کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو ساتویں کامیابی دلائی جبکہ الیاس نے عامر کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔

اننگز کی آخری گیند پر کراچی کنگز نے چوکا لگا کر میچ کو ٹائی کردیا جس کے بعد میچ کے فیصلے کے لیے سپر اوور ہوا۔

کراچی کنگز نے ابتدائی تین گیندوں پر سپر اوور میں ایک وکٹ گنواتے ہوئے صرف تین رنز بنائے لیکن اگلی دو گیندوں پر شرفین ردرفورڈ نے بالترتیب چوکا اور چھکا لگا کر اسکور 13 تک پہنچا دیا۔

آخری گیند پر ردرفورڈ آؤٹ ہوگئے اور ملتان سلطانز کو فتح کے لیے 14رنز کا ہدف دیا۔

محمد عامر نے سپر اوور میں عمدہ باؤلنگ کرتے ہوئے سلطانز کو رنز بنانے کا موقع نہ دیا اور سلطانز ایک بھی باؤنڈری نہ لگا سکے اور کراچی کنگز نے فتح حاصل کر کے پہلی مرتبہ فائنل میں جگہ بنا لی۔

اس سے قبل کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا۔

عماد وسیم نے کہا کہ ہماری بیٹنگ مضبوط ہے اس لیے ہم ہدف کا تعاقب کریں گے۔

میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل تھیں۔

کراچی کنگز: عماد وسیم (کپتان)، بابر اعظم، شرجیل خان، ایلکس ہیلز، وین پارنیل، چیڈوک والٹن، ایس ردرفورڈ، افتخار احمد، ارشد اقبال، محمد عامر اور وقاص مقصود

ملتان سلطانز: شان مسعود (کپتان)، ذیشان اشرف، ایڈم لتھ، رائلی روسو، روی بوپارہ، خوشدل شاہ، شاہد آفریدی، سہیل تنویر، محمد الیاس، عمران طاہر اور محمد عرفان

خیال رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کی تکمیل کا آخری مرحلہ آپہنچا ہے اور لیگ کے بقیہ چار پلے آف میچز کا آغاز آج سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں آغاز ہو گیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن کو رواں سال مارچ ابتدائی 30 دن کے پہلے مرحلے کے بعد کورونا وائرس کے سبب ملتوی کردیا گیا تھا لیکن بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد 243 دن کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ میچز کا انعقاد ہو رہا ہے۔

8 ماہ کے اس عرصے کے دوران کورونا وائرس کے سبب کھیل کی دنیا میں کافی چیزیں بدل گئیں جہاں کھیلوں کے انعقاد کے لیے کورونا ٹیسٹ، بائیو سیکیور ببل اور قرنطینہ سمیت دیگر اہم اقدامات بھی کیے گئے تاکہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ کھیل بھی منعقد ہو سکے۔

دو مرتبہ کی چیمپیئن اسلام آباد یونائیٹڈ اور دفاعی چیمپیئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیمیں ٹائٹل کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہیں جو پوائنٹس ٹیبل پر بالترتیب چھٹے اور پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔

اس بات کے امکانات بہت زیادہ ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کو ایک نیا چیمپیئن ملے کیونکہ 2017 کی چیمپیئن پشاور زلمی کی پوزیشن انتہائی کمزور نظر آتی ہے اور کراچی کنگز، لاہور قلندرز اور ملتان سلطانز کی پوزیشن نسبتاً مضبوط نظر آتی ہے البتہ 8 ماہ کے خلا کے بعد ہونے والے مقابلوں کی وجہ سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔

ملتان سلطانز کی ٹیم 10 میچوں میں 7 فتوحات کے ساتھ ٹیبل پر سرفہرست ہے جبکہ گزشتہ چار سیزنز میں آخری نمبر پر سیزن کا اختتام کرنے والی لاہور قلندرز نے اس مرتبہ بہتر کھیل پیش کیا اور پہلی مرتبہ پلے آف میں جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔