یہودی ریاست کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک 'کینسر' ہے، مائیک پومپیو

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2020

ای میل

ٹرمپ کی انتظامیہ نے گولان ہائٹس میں اسرائیلی خودمختاری کو متنازع طور پر تسلیم کیا تھا — فائل فوٹو: اے پی
ٹرمپ کی انتظامیہ نے گولان ہائٹس میں اسرائیلی خودمختاری کو متنازع طور پر تسلیم کیا تھا — فائل فوٹو: اے پی

امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اسرائیل کے الوداعی دورے پر یہودی ریاست کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک کو 'کینسر' قرار دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مائیک پومپیو نے کہا کہ اب اسرائیلی برآمدات کو 'میڈ اِن اسرائیل' کا نام دیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں کو ضم کیا تو آزاد ریاست کا اعلان کردیں گے،فلسطینی وزیراعظم

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے اپنے دورے کے دوران فلسطینیوں سے ملاقات نہیں کی۔

دوسری جانب فلسطین نے مائیک پومپیو کے اقدامات پر احتجاج کیا اور انہیں فلسطینیوں کے خلاف سخت تعصب والا شخص قرار دیا۔

مائیک پومپیو نے اسرائیلی ہم منصب کے ہمراہ اسرائیل کے زیر قبضہ اسٹریٹجک علاقے گولان ہائٹس کا فضائی دورہ بھی کیا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ 'آپ یہاں کھڑے نہیں ہوسکتے اور سرحد کے اس پار کی طرف نگاہ نہیں ڈال سکتے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تسلیم شدہ مرکزی چیز سے انکار نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ اسرائیل کا ایک حصہ ہے'۔

مزید پڑھیں: فلسطینی صدر کا امریکا، اسرائیل سے تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان

ٹرمپ کی انتظامیہ نے گولان ہائٹس میں اسرائیلی خودمختاری کو متنازع طور پر تسلیم کیا تھا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ 'ذرا تصور کریں کہ شام کے صدر بشارالاسد کے کنٹرول میں یہ جگہ ہو تو مغرب اور اسرائیل کو کتنے نقصان کا خطرہ ہے'۔

شام کی وزارت خارجہ نے مائیک پومپیو کے دورے کو 'اشتعال انگیز اقدام' قرار دیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ 'اس طرح کے مجرمانہ دورے سے اسرائیل کے خطرناک عزائم کی حوصلہ افزائی ہوگی'۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے 1967 میں شام کے سرحدی علاقے گولان ہائٹس پر قبضہ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا، گولان ہائیٹس پر اسرائیلی کنٹرول تسلیم کرتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

رواں برس ڈونلڈ ٹرمپ نے متنازع گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیلی قبضے کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے اس حوالے سے دستاویزات پر دستخط کر دیے تھے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے زیر قبضہ گولان ہائٹس میں نئے رہائشی علاقے کا نام ’ڈونلڈ ٹرمپ‘ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

بینجمن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ رہائشی علاقے کو امریکی صدر سے منسوب کرنے کی خاطر قانونی منظوری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔