افغانستان: آسٹریلیا کی فوج کے ہاتھوں 39 غیر مسلح شہریوں کی ہلاکت کا انکشاف

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2020

ای میل

افغانستان میں آسٹریلیا کے 1500 فوجی موجود ہیں—فوٹو: اے پی
افغانستان میں آسٹریلیا کے 1500 فوجی موجود ہیں—فوٹو: اے پی

افغانستان میں تعینات آسٹریلیا کی فورسز کی چار سالہ تفتیشی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سینیئر کمانڈرز کے جبری احکامات پر جونیئر سپاہیوں نے 39 غیر مسلح قیدی اور افغان شہریوں کو قتل کیا۔

خبر ایجنسی 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے کہا ہے کہ 19 موجودہ اور سابق سپاہیوں کو ممکنہ طور پر افغانستان میں 39 مقامی افراد کی مبینہ ہلاکت پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے جنرل جان کیمبل نے 2005 سے 2016 تک اسپیشل فورسز کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ افغانستان میں آسٹریلیا کے اسپیشل فورسز کے 25 جوانوں کی جانب سے 23 مختلف واقعات میں 39 مقامی افراد کو ہلاک کرنے کی قابل اعتبار معلومات ہیں۔

مزید پڑھیں: عالمی عدالت نے افغانستان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کردیا

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کو جنگ کے میدان کے باہر مارا گیا۔

دارالحکومت کینبرا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جنرل جان کیمبل نے کہا کہ ‘یہ رپورٹ مبینہ طور پر فوجی قواعد اور پیشہ ورانہ اقدامات کی خلاف ورزی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘شہریوں اور قیدیوں کی غیر قانونی ہلاکتیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں’۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قتل ہونے والوں کی اکثریت ایسے مقامی افراد کی تھی جو قیدی اور کسان تھے اور انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ کے تحت مارا گیا۔

جنرل جان کیمبل نے رپورٹ کی تجاویز کے حوالے سے کہا کہ آسٹریلیا کے 19 موجودہ اور سابق فوجیوں جلد ہی خصوصی تفتیش کار کے سامنے پیش کیا جائے گا جس میں تعین ہوگا کہ ان کو سزا دینے کے لیے ثبوت کافی ہیں یا نہیں۔

آسٹریلیا کے وزیر دفاع لینڈا رینولڈ کا کہنا تھا کہ کینبرا کو گزشتہ ہفتے بتایا گیا تھا کہ مقامی سطح پر سزاؤں سے ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں پیشی سے بچا جائے گا۔

خیال رہے کہ 4 سالہ انکوائری رپورٹ نیو ساؤتھ ویلز کے ریاستی جج پال بریریٹن نے تیار کی ہے جن کو 2016 میں انسپکٹر جنرل آف ڈیفنس نے 2003 سے 2016 کے دوران افغانستان میں جنگی جرائم سے متعلق افواہوں کی تحقیقات کے لیے تعینات کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: خیر سگالی کے تحت 'اضافی' 500 طالبان قیدیوں کی رہائی

رپورٹ کی تیاری کے لیے 20 ہزار سے زائد دستاویزات اور 25 ہزار تصاویر کا جائزہ لیا گیا اور 423 گواہوں کا حلف پر انٹرویو کیا گیا۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ آسٹریلیا متاثرہ خاندانوں کو مقدمے کی کامیابی کے بغیر بھی معاوضہ ادا کرے۔

جنرل جان کیمبل کا کہنا تھا کہ وہ 2007 سے 2013 کے دوران افغانستان میں خدمات انجام دینے والے اسپیشل فورسز کے گروپ کی رپورٹس کو منسوخ کریں گے۔

آسٹریلیا کے فوج کے جنگی جرائم سے متعلق رپورٹ آسٹریلیا کے وزیراعظم اسکاٹ موریسن کی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

اشرف غنی نے ٹوئٹر بیان میں کہا کہ ‘آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے ان کے فوجیوں کی جانب سے افغانستان میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے’۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا کی فوج 2002 سے افغانستان میں موجود ہے جو امریکا کی سربراہی میں طالبان کے خلاف جنگ کے لیے اتحادی افواج کا حصہ ہے۔

افغانستان میں آسٹریلیا کے تقریباً ایک ہزار 500 فوجی موجود ہیں۔