ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کردیا

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2020

ای میل

ایچ ای سی نے 2018 میں پابندی کے باوجود غیرقانونی پروگرام کے اجرا پر تشویش کا اظہار کیا — فوٹو: شٹر اسٹاک
ایچ ای سی نے 2018 میں پابندی کے باوجود غیرقانونی پروگرام کے اجرا پر تشویش کا اظہار کیا — فوٹو: شٹر اسٹاک

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک کی تمام سرکاری اور نجی جامعات اور ان سے منسلک کالجز میں 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

ایچ ای سی کی جانب سے 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے سے متعلق جاری نوٹی فکیشن پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور سربراہان کو ارسال کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: ہائر ایجوکیشن کمیشن نے طلبہ یونینز کی بحالی کی مخالفت کردی

ایچ ای سی نے 2018 کے بعد کسی بھی کالج سے جاری بیچلر آف آرٹس (بی اے)، بیچلر آف کامرس (بی کام) اور بیچلر آف سائنس (بی ایس سی) کی ڈگریاں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام جامعات کو 15 مارچ 2017 کو جاری مراسلے میں 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔

ایچ ای سی کے مطابق تین سال گزرنے کے باوجود بھی ڈگری ایوارڈنگ انسٹی ٹیوشنز (کالجز) کی جانب سے بی اے، بی کام یا بی ایس سی پروگرامز میں داخلے جاری رکھنے کی اطلاعات ہیں۔

ایچ ای سی نے 2018 میں پابندی کے باوجود غیر قانونی پروگرام کے اجرا پر تشویش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بی اے/بی ایس سی پروگرام کے خاتمے کیلئے ایچ ای سی کا حتمی نوٹس

ایچ ای سی نے واضح کیا کہ 31 دسمبر 2018 کے بعد جاری ایسی کسی بھی ڈگری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں ایچ ای سی نے تمام سرکاری اور نجی جامعات اور ان سے منسلک کالجز کو 2 سالہ گریجویٹ پروگرام ختم اور ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کرنے کے لیے حتمی نوٹس جاری کردیا تھا۔

ان کالجز کے پاس مجوزہ پروگرام کے لیے مطلوبہ صورتحال اور عملہ دستیاب نہیں جس سے اسٹیک ہولڈرز کے مابین ہزاروں طلبا کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان تعلیمی اداروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ موجودہ پروگرام کے خاتمے کے بعد سال 2020 میں ایم اے / ایم ایس سی میں داخلے نہیں دے سکیں گے۔

تاہم جو طالبعلم اس میں ناکام رہے انہیں ڈگری دینے والے کالجز اور جامعات کی شرائط پر پورا اترنے کے بعد ایسوسی ایٹ ڈگری تفویض کی جائے گی۔