افغانستان کے پُرامن مستقبل کا انحصار کس پر ہے؟

03 دسمبر 2020
لکھاری پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکا، برطانیہ اور اقوام متحدہ ہیں۔
لکھاری پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکا، برطانیہ اور اقوام متحدہ ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ افغانستان سے مزید امریکی افواج کا انخلا وقت سے پہلے ہی ہوجائے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس سے افغان امن عمل کے حوالے سے خدشات تو نہیں ابھریں گے؟ اس کا جواب ہے کہ نہیں۔

افغان امن عمل میں کئی ایسے عوامل ہیں جو افواج کی تعداد سے زیادہ اہم ہیں۔ حالات جیسے بھی ہوں، فروری میں امریکا اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے افغانستان میں موجود امریکی افواج کی تعداد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔ اس لیے اگلے سال جنوری کے وسط تک مزید 2 ہزار فوجیوں کے انخلا سے کوئی بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ امریکا فضائی قوت اور انسدادِ دہشتگردی کی صلاحیت پھر بھی برقرار رکھے گا۔

اس کے علاوہ چند ہزار نیٹو فوجی افغان فورسز کی تربیت کے لیے موجود ہیں اور حالات سازگار ہونے پر یہ افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ان سب باتوں سے زیادہ اہم یہ بات ہے کہ اب بین الاقوامی برادری کی توجہ بھی عسکری معاملات سے ہٹ کر معاشی حالات پر مرکوز ہوجائے گی۔

لیکن افغانستان کے مستقبل کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ کیا بین الافغان مذاکرات میں غیر ملکی افواج کے انخلا سے پہلے کوئی جنگ بندی کا معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں۔

دوحہ معاہدے کے بعد شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات کو اب سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مذاکرات کو ابتدا میں ہی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر تنازع موجود تھا۔

جب یہ مسئلہ حل ہوگیا تو قطر میں فریقین کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ اب خبر آرہی ہے کہ یہ بات چیت کسی معاہدے کی صورت اختیار کرنے والی ہے جس میں مذاکرات کے عمل اور ٹرمز آف ریفرینس یعنی ٹی او آرز کو شامل کیا جائے گا۔ اس عمل کے بعد امید ہے کہ جنگ بندی سمیت دیگر کوئی معاملات پر مذاکرات شروع ہوجائیں گے۔

امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کا دورہ قطر اور طالبان کے مذاکراتی وفد کے سربراہ ملا عبد الغنی برادر سے ملاقات کا مقصد بھی یہی تھا کہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے افواج کے انخلا کے بیان کے بعد مذاکراتی عمل میں تیزی لائی جائے۔

مزید پڑھیے: افغان امن عمل آخر آگے بڑھ کیوں نہیں رہا؟

لیکن ہر کوئی اس بات سے متفق نہیں ہے کہ غیر ملکی افواج کے تیزی سے انخلا کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ جنوری 2021ء میں 2 ہزار فوجیوں کی ہونے والی واپسی دراصل دوحہ معاہدے کے مطابق مئی 2021ء میں ہونی تھی۔ ان 2 ہزار فوجیوں کی واپسی کے بعد بھی افغانستان میں ڈھائی ہزار امریکی فوجی موجود رہیں گے۔

کچھ میڈیا رپورٹس اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ چند امریکی اتحادی اس فیصلے سے پریشان ہیں۔ لیکن ظاہر ہے ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے کے ذریعے صدارت چھوڑنے سے پہلے امریکی فوجیوں کی وطن واپسی کا وعدہ پورا کرنا چاہتے ہیں۔

افغانستان کی ہائی کونسل برائے قومی مصالحت کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن ’یہ فیصلہ بہت جلدی کرلیا گیا ہے‘۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا ہے کہ ’افغانستان سے جلد بازی یا غیر منظم طریقے سے انخلا کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑسکتی ہے‘۔

امریکی تجزیہ کاروں اور امریکی کانگریس میں موجود کچھ ری پبلکن نمائندوں کو ڈر ہے کہ جلد بازی میں ہونے والا انخلا مذاکرات کے دوران طالبان کی حیثیت کو مزید مضبوط کردے گا۔ دوسری جانب طلبان نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کو ایک ’اچھا قدم‘ قرار دیا ہے جس سے جنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

ویسے تو پاکستان متعدد بار امریکی فوج کے ’ذمہ دارانہ انخلا‘ پر زور دیتا آیا ہے، لیکن حالیہ اعلان سے پاکستانی حکام نہ تو حیرت میں مبتلا ہوئے اور نہ پریشان ہوئے۔ ان کا خیال ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں واشنگٹن افغان فریقین کو مذاکرات تیز کرنے پر قائل کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لائے گا۔

اس بات کے امکانات بھی موجود ہیں کہ جو بائیڈن انتظامیہ بھی اسی راستے پر چلتی رہے گی، خاص طور پر اب جبکہ فوجی انخلا کی بات اتنی آگے بڑھ چکی ہے۔ اگر ماضی پر بھی نظر ڈالی جائے تو جو بائیڈن نے ہمیشہ ہی افغانستان میں فوجی مداخلت کی مخالفت کی ہے اور ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگوں‘ کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

اس قسم کی چہ مگوئیاں بھی ہورہی ہی کہ بائیڈن انتظامیہ دفاعی حکام اور نیٹو اتحادیوں کے خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے فوجی انخلا کو سست کردے گی۔ لیکن شاید اس عمل سے بھی افغانستان کے زمینی حالات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ امریکا کے اندرونی معاملات اور دیگر خارجہ امور کو دیکھتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ افغان مسئلے پر کتنی جلدی اور کتنے مؤثر طریقے سے توجہ دیتی ہے۔

مزید پڑھیے: افغانستان میں گزرے دن، جب موت کے منہ سے واپسی ہوئی

افغانستان میں کشیدگی میں ہونے والا حالیہ اضافہ پڑوسی ممالک سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے پریشان کن ہے۔ یہ بات پاکستانی وزیرِاعظم عمران کے حالیہ دورہ کابل کے موقع پر ہونے والی بات چیت میں بھی نظر آئی۔ کشیدگی میں کچھ اضافہ تو متوقع تھا کیونکہ اس بات کا امکان تھا کہ طرفین مذاکرات کے دوران اپنی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے اپنے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں کو وسعت دینے کی کوشش کریں گے۔

تاہم یہ بات حالیہ کشیدگی کی وضاحت نہیں کرتی۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہیں اس کے پیچھے ان داخلی اور خارجی عناصر کا ہاتھ تو نہیں جو مذاکرات کی کامیابی سے خائف ہیں۔

اب یہ بات سچ ہو یا نہ ہو لیکن کشیدگی میں اضافے سے تناؤ کا ماحول اور غیر یقینی کی صورت حال پیدا ہورہی ہے جو مذاکراتی عمل کو متاثر کرسکتی ہے۔ تاہم جب ایک مرتبہ ٹی او آرز پر اتفاق ہوجائے تو پھر اگلے مرحلے میں کشیدگی میں کمی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جو مذاکراتی عمل کے لیے اعتبار اور سکون کا ماحول قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس دوران اقوامِ متحدہ اور فن لینڈ کی میزبانی میں جنیوا میں افغانستان کے حوالے سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں 100 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔ کانفرنس میں امریکا، یورپی یونین اور دیگر امداد دہندگان نے افغانستان کے لیے اگلے سال 3 ارب ڈالر اور اگلے 4 سال کے دوران 12 ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا۔ لیکن خاص بات یہ ہے کہ یہ وعدہ مذاکرت میں خاطر خواہ پیشرفت اور جنگ بندی سے مشروط ہے جبکہ یورپی یونین نے اسے انسانی حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا ہے۔

مزید پڑھیے: افغان مفاہمتی عمل اور ہم سے وابستہ دنیا کی توقعات

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا کی جانب سے 2021ء کے لیے وعدہ کیے گئے 60 کروڑ ڈالر میں نصف ابھی جاری کردیے جائیں گے جبکہ ’بقیہ نصف مذاکراتی عمل کو دیکھنے کے بعد جاری کیے جائیں گے‘۔ اس ضمن میں پومپیو نے مزید واضح بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امن مذاکرات کا رخ ہی مستقبل میں عالمی امداد کے حجم کا تعین کرے گا‘۔

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کرنے والوں کے سامنے دیگر عوامل سے زیادہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے ملنے والی امداد اہم ہوگی۔ افغان حکومت اور طالبان دونوں ہی عالمی امداد کو ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے بغیر ریاست کھڑی نہیں رہ سکتی۔ چونکہ عالمی اثر و رسوخ وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوجائے گا اس لیے دباؤ کے بجائے معاشی فوائد امن عمل پر اثرانداز ہوں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کے مفادات افغانستان کے پُرامن مستقبل سے منسلک ہیں اور یہ اس ضمن میں ہر ممکن مدد بھی کریں گے۔ لیکن یہ افغانوں پر منحصر ہے کہ وہ امن کے حصول کے لیے مشکل سمجھوتے کرتے ہیں یا نہیں۔ افغانستان کے مستقبل کا تعین صرف افغان ہی کرسکتے ہیں۔


یہ مضمون 30 نومبر 2020ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں