زمین پر کوئی قوت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی، آرمی چیف

اپ ڈیٹ 25 دسمبر 2020

ای میل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قائد اعظم کے یوم پیدائش پر پیغام دیا—فائل فوٹو: آئی ایس پی آر
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قائد اعظم کے یوم پیدائش پر پیغام دیا—فائل فوٹو: آئی ایس پی آر

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بابائے قوم کی یوم پیدائش کے موقع پر کہا ہے کہ زمین پر کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ زمین پر کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی۔

انہوں نے کہا کہ قوم قائد اعظم کے یومِ پیدائش کو عقیدت و احترام سے منا رہی ہے اور ان کے اُمید، ہمت اور اعتماد کے پیغام کو اپنائے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں: بانی پاکستان کا 145واں یوم پیدائش عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایمان، اتحاد اور تنظیم ہمیشہ ہماری عظیم قوم کے رہنما اصول رہیں گے۔

اس سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قوم سے زندگی کے ہر شعبے میں ان کے نقش قدم پر چلنے کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی شکل میں عظیم تحفہ دینے والے قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔

قوم آج ان کے 145ویں یوم پیدائش کو عقیدت و احترام سے منا رہی ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر میں آج عام تعطیل بھی ہے۔

آج کے دن کا آغاز مملکت پاکستان کی سلامتی، ترقی و خوشحالی کی دعاؤں کے ساتھ ہوا اور کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔

یہ بھی پڑھیں: قوم زندگی کے ہر شعبے میں قائد اعظم کے نقش قدم پر چلے، صدر و وزیراعظم

اپنی انتھک جدوجہد سے برصغیر کے مسلمانوں کو آزاد وطن دینے والے محمد علی جناح پیشے کے اعتبار سے وکیل اور ایک سیاست دان تھے، انہوں نے 1913 سے 14 اگست 1947 تک پاکستان کی آزادی تک آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور پھر وہ 11 ستمبر 1948 کو اپنی وفات تک پاکستان کے پہلے گورنر جنرل رہے۔

محمد علی جناح کی شخصیت ایک اعلیٰ اور مثالی کِردار کی حامل تھی، انہوں نے مذہب کے جمہوری اور انصاف پر مبنی اُصولوں کو اپنا کر عزت حاصل کی، وکالت اور سیاست میں رہ کر اپنے دامن کو صاف ستھرا رکھا اور مسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کا مینار بنے رہے۔

انہوں نے حصول منزل کے لیے ایک ایسی بے مثل قیادت فراہم کی جس نے بے شمار رکاوٹوں کے باوجود دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک علیحدہ وطن کا قیام یقینی بنادیا۔