'قانون کی عملداری کیلئے بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کرنے کی روایت ختم کرنی ہوگی'

اپ ڈیٹ 27 دسمبر 2020

ای میل

سینئر صوبائی وزیر پنجاب علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس میں فیصلہ سنایا — فائل فوٹو:اے ایف پی
سینئر صوبائی وزیر پنجاب علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس میں فیصلہ سنایا — فائل فوٹو:اے ایف پی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سینئر صوبائی وزیر پنجاب علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں بے ضابطگیوں کو ریگولرائز کرنا روایت بن چکا ہے اور 'اگر قانون کی عملداری کو بحال کرنا ہے' تو اسے لازمی ختم کرنا ہوگا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ 'مذکورہ درخواست کے کیس میں اور مشاہدے میں مسلسل یہ بات آئی ہے کہ اتھارٹی اور سرکاری ادارے دوسری جانب دیکھتے ہوئے قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی اجازت دے دیتی ہیں اور جب نقصان ہوجاتا ہے تو بے ضابطگیوں اور قانون کی خلاف ورزی کو ریگولرائز کرنے کے لیے پالیسیز بنائی جاتی ہیں۔

کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے حال ہی میں وفاقی کابینہ کے گزشتہ برس منظور کیے نئے ضمنی قوانین کے تحت وزیراعظم عمران خان کے بنی گالہ کے گھر کا لے آؤٹ پلان منظور کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’بنی گالا میں عمران خان کے گھر کا سائٹ پلان منظورشدہ نہیں

اس کے علاوہ گرینڈ حیات کے پر تعیش اپارٹمنٹ کی ریگولرازیشن بھی آخری مراحل میں ہے اور اتھارٹی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے بی این پی گروپ کے منسوخ شدہ پلاٹس کی لیز بحال کرنے کی ضمانت مل گئی ہے۔

علیم خان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے کیس کے عدالتی حکم میں کہا گیا کہ 'یہ رجحان (ریگولرائزیشن) بہت معمول بن گیا ہے کہ اس نے روایت کی حیثیت حاصل کرلی ہے'۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ 'ریگولرائزیشن کا مطلب سنگین بے ضابطگیوں اور نافذ قوانین کی خلاف ورزی کو معمولی جرمانے کے عوض درگزر کرنا ہے، بلا شبہ یہ رجحان ملک کے دارالحکومت میں قانونی کی حکمرانی کے خاتمے کا ایک اہم عنصر بن چکا ہے'۔

مزید پڑھیں :’عمران خان کا گھر پہلے ریگولرائز ہوگا تو باقی بھی ہوں گے‘

عدالت نے کہا کہ یہ (رجحان) بے ایمان افراد کی حوصلہ افزائی اور قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کی مذمت کرتا ہے، جبکہ یہ کوئی غیر معمولی رعایت نہیں، یہ ایک روایت بن چکی ہے جس سے انتشار اور افراتفری پھیلتی ہے اور قانون کی حکمرانی ختم ہوجاتی ہے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ اگر قانون کی حکمرانی کو بحال کرنا ہے تو 'ریگولرائزیشن' کے نام پر بے ضابطگیوں کو نوازنے کا یہ رجحان ختم ہونا چاہیے اور ناجائز خریداروں کے مفادات کو ان سنگین خلاف ورزیوں کو معاف کرنے کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے قانون کی خلاف ورزی کی عدم برداشت پر مبنی پالیسی تشکیل دینے اور جو قانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کے آئینی حقوق کو پامال کرتے ہیں ان کا سخت احستاب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے صوبائی وزیر علیم خان کے خلاف ریفرنس کی منظوری دے دی

عدالتی حکم نامے میں جسٹس اطہر من اللہ نے پارک ویو سوسائٹی کو 'غیر قانونی' قرار دیا اور واضح کیا کہ یہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے دائرہ کار میں آتا ہے'۔

عدالت نے قرار دیا کہ پارک ویو سوسائٹی کے لیے جاری کردہ تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) اور سوسائٹی کے لیے زمین کا حصول غیر قانونی تھا اور مذکورہ معاملہ سرکاری محکموں کے خلاف مناسب کارروائی کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوادیا۔