’بنی گالا میں عمران خان کے گھر کا سائٹ پلان منظورشدہ نہیں‘

اپ ڈیٹ 22 فروری 2018

اسلام آباد: بنی گالا میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ بنی گالا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے گھر کی تعمیر کا سائٹ پلان منظور شدہ نہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بنی گالا میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے بنی گالا میں عمران خان کے گھر کے نقشے کی دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے درستاویزات کے متعلق کہا کہ انہوں نے بنی گالا کی دستاویزات سے متعلق یونین کونسل کا ریکارڈ چیک کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ عمران خان نے 1999 سے آج تک سائٹ پلان کی منظوری نہیں لی۔

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت میں اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یونین کونسل 12 کہو کا این او سی 1990 کا ہے، عمران خان نے زمین خریداری کی فیس 2002 میں ادا کی اور 250 کنال اراضی پر گھر کی تعمیر کے لیے نقشہ یونین کونسل میں جمع کرایا تھا اور 2003 میں سرٹیفکیٹ بھی موصول ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: بنی گالا کی تعمیرات غیر قانونی؟

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا راول ڈیم کے اردگرد آبادی کو ریگولرائز کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا گیا؟ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت نے 1999 میں فیصلہ دیا تھا تاہم 20 برس گزر جانے کے باوجود سی ڈی اے نے اس حوالے سے قوائد و ضوابط نہیں بنائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کا تعلق براہِ راست زندگی کے بنیادی حقوق سے ہے اسی لیے چیئرمین سی ڈی اے کو بھی عدالت میں ہونا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ کیا بنی گالا اراضی کا نقشہ منظور کیا گیا تھا؟ کیا تعمیر نقشے کے مطابق ہوئی؟

انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانونی طریقہ کار یہ ہے کہ نقشہ جمع کرا کے متعلقہ محکمے سے اس کی منظوری لی جاتی ہے اور پھر اس اراضی پر نقشے کے مطابق تعمیراتی کام کیا جاتا ہے اور اس کے مکمل ہونے کے بعد اس کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا راول ڈیم کے اردگرد کی سرکاری زمین کی لیز قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئی؟ جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اراضی کو نیلامی کے بغیر لیز پر دیا گیا جبکہ ایک صحافی محمد مالک کو بھی سرکاری اراضی لیز پر دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے گھر سمیت بنی گالا کی 122 عمارتیں غیر قانونی قرار

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے راول ڈیم کے اردگرد کی اراضی لیز پر دینے کی مکمل تفصیل طلب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ لیز کتنے عرصے کے لیے اور کتنی قیمت پر دی گئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم ریکارڈ دیکھ کر بتائیں گے، جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بابر اعوان کی جانب سے فراہم کردہ عمران خان کے گھر کے نقشے کی دستاویزات کی پہلے تصدیق کرائی جائے گی۔

بابر اعوان نے موققف اختیار کیا کہ نقشے کی منظوری کا قانون ہی موجود نہیں تھا، ہو سکتا ہے کہ عمران خان کی مخالف حکومت ان کے گھر کے نقشے کی تصدیق نہ کرے۔

چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم اس معاملے کی تفتیش کرالیں گے یا اس کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنا دیں گے جس پر بابر اعوان نے کہا کہ جو جے آئی ٹی پہلے بنی ہوئی ہے وہی کافی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ راول ڈیم کے اردگرد آبادی کا فضلہ اور سیوریج کا پانی کہاں جارہا ہے جس پر ممبر پلاننگ سی ڈی اے نے بتایا کہ یہ پانی راول ڈیم میں جارہا ہے، جبکہ ٹریٹمنٹ کے بعد پانی شہریوں کو فراہم کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: بنی گالا میں 20 برس کی تعمیرات کا ریکارڈ طلب

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب حکومت نے ٹریٹ کیے گئے پانی کا ٹیسٹ کروایا؟ اگر ٹریٹمنٹ درست نہیں تو یہ پانی صحت کیلئے مضہر ہے۔

چیف جسٹس نے وزیر مملکت برائے کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن (کیڈ) طارق فضل چوہدری کو مخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں لوگوں نے اپنے گھروں کے سامنے کھلی جگہوں پر لان بنا رکھے ہیں۔

انہوں نے وزیرمملکت سے استفسار کیا کہ کب سے آپ کی حکومت قائم ہے؟ آپ نے غیرقانونی آبادیوں کو ریگولر کرنے اور راول ڈیم میں گندا پانی جانے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟

وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا کہ راول ڈیم کے اردگرد بنی آبادی ڈیم بننے سے پہلے کی ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ایک ہفتے میں بنی گالا کی دستاویزات کی تصدیق مکمل کرنے کا حکم دیا جبکہ آئندہ سماعت پر چیف کمشنر اسلام آباد کو طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ 13 فروری کو سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی عمران خان کو بنی گالا میں تعمیر اپنی 300 کنال کی رہائش گاہ کا منظور شدہ سائٹ پلان عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں