’حیدرآبادی‘ بولیں شان سے

اپ ڈیٹ 14 جنوری 2021

ای میل

ڈرنے کے بجائے وہ بچے اس بات سے کافی محظوظ ہوئے۔ اس کے بعد وہ جب بھی میرے بھائیوں کو دیکھتے تو وہ صرف ایک لفظ ’مارینگا‘ دہراتے۔
ڈرنے کے بجائے وہ بچے اس بات سے کافی محظوظ ہوئے۔ اس کے بعد وہ جب بھی میرے بھائیوں کو دیکھتے تو وہ صرف ایک لفظ ’مارینگا‘ دہراتے۔

میرے بھائی نے مجھ سے سوال کیا کہ ’آپ کیسی ہیں؟‘ یہ سوال وہ پہلے بھی کئی مرتبہ کرچکا ہے لیکن اس مرتبہ اس کے سوال نے مجھے چونکا دیا۔ آخر میں یہ سوال سن کر کیوں چونکی؟ روزمرہ کے اس سوال میں ایسی کیا عجیب بات تھی؟

اصل میں مسئلہ اس سوال کا نہیں بلکہ اس انداز میں ہے جس میں یہ سوال پوچھا گیا۔ میرا گھرانہ حیدرآبادی ہے۔ میرے والد کی پیدائش حیدرآباد دکن کی ہے۔ وہ وہاں 15 سال رہے اور پھر تقسیم کے کچھ سال بعد پاکستان آگئے۔ میری والدہ کی پیدائش حیدرآباد کی نہیں ہے لیکن ان کے والدین کا تعلق حیدآباد سے ہی ہے۔ وہ حیدرآبادی لہجے میں ہی بات کرتے تھے اور وہاں کی تمام روایات پر عمل کرتے تھے۔

جن لوگوں کو معلوم نہیں ہے میں ان کی معلومات کے لیے بتادوں کہ حیدرآبادی لہجہ صنفی اعتبار سے کافی حد تک غیر جانبدار لہجہ ہے۔ اکثر اوقات آپ مردوں اور خواتین کو ایک ہی انداز سے مخاطب کرتے ہیں۔ اب سے پہلے میرے بھائی یا کسی اور کی جانب سے ’آپ کیسی ہیں‘ کی جگہ ’آپ کیسے ہیں‘ پوچھا جاتا۔ یہ اس لہجے کی ایک پیچیدگی ہے۔

ایسا ہی کچھ الفاظ کو جوڑنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’کر رہے ہیں‘ کی جگہ ’کر رے‘ کا استعمال، جیسے ’آپ کیا کر رہے ہیں‘ کی جگہ ’آپ کیا کر رے‘ کہنا۔ ’آپ/تم کیا کر رے‘ کا سوال مردوں اور خواتین دونوں سے اسی انداز میں کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس اردو میں یہ سوال اس طرح ہوگا کہ ’تم کیا کررہی/رہے ہو؟‘ یا مزید شائستگی سے پوچھا جائے تو ’آپ کیا کررہی/رہے ہیں؟‘

ایک اور مثال ضمیر کا استعمال بھی ہے جیسے اُنہوں اور اِنہوں کے لیے اُنوں اور اِنے کا استعمال۔ کسی کا حوالہ دینے کے لیے کہا جاتا ہے کہ ’اُنوں یہ بولے‘ اور ’اِنے بولا تھا‘۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ میں کوئی ماہرِ لسانیات نہیں ہوں۔ میں نے یہاں جو بھی مثالیں دی ہیں ان کی بنیاد اس لہجے کے بولنے اور سننے کے تجربے پر ہے جسے میں بچپن سے بول رہی ہوں۔

اب ہم اپنے موضوع پر واپس آتے ہیں۔ مجھے اپنے بھائی کے سوال پر حیرت اس لیے ہوئی کہ اب ہمارے گھر والے آپس میں حیدرآبادی لہجے میں ہی بات کرتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے خاندان کے افراد کے علاوہ دیگر لوگوں جیسے دوستوں، اساتذہ، محلے داروں اور سبزی والوں سے اردو میں بات کرنا سیکھ لیا ہے۔

یہ ایک طرح کا خودکار نظام بن گیا ہے جو اس وقت خود ہی کام کرنا شروع کردیتا ہے جب ہم اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی اور سے بات کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ عادت اب اتنی پکی ہوچکی ہے کہ جب ہم کسی کو بتاتے ہیں کہ ہم حیدرآبادی ہیں تو وہ حیرت سے کہتے ہیں کہ ’آپ تو بالکل صحیح اردو میں بات کررہی/رہے ہیں‘۔

اس کے باوجود جب بھی ہم گھر والے جمع ہوتے ہیں تو آپس میں حیدرآبادی لہجے میں ہی بات کرتے ہیں۔ لیکن میرے والد ایسا نہیں کرتے۔ اگرچہ وہ ہمارے گھر کے واحد فرد ہیں جو خود حیدرآباد میں رہے ہیں لیکن ہم نے انہیں ہمیشہ سب کے ساتھ صاف اردو میں ہی بات کرتے ہوئے سنا ہے۔

والد کے لڑکپن میں ان کے دوست ان کے حیدرآبادی لہجے کی ایک خامی کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ خامی تھی ’ق‘ کو صحیح طور پر ادا نہ کرنا۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ حیدرآبادی ’ق‘ کو ’خاف‘ کی طرح ادا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے میرے والد کے دوستوں نے ان کا مذاق اڑایا تو انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ وہ صحیح طریقے سے اہلِ زبان کی طرح اردو بولیں گے اور پھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔

میرے والد سب کے ساتھ درست اردو میں بات کرتے ہیں لیکن میری والدہ کچھ مختلف ہیں۔ وہ حیدرآبادی لہجے میں ہی بات کرتی تھیں اور ایک خاص انداز اختیار کرتی تھیں جو ماضی میں حیدرآبادی خواتین اختیار کرتی تھیں۔ وہ انداز تھا بات چیت میں ضمیر مذکر کا استعمال۔ مجھے اس انداز کے ماخذ کا تو نہیں معلوم لیکن ہمارے خاندان کی اکثر خواتین بات چیت میں خود کو مرد ہی تصور کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر ’میں گیا تھا‘ یا پھر ’میں یہ خریدا‘۔

میری والدہ بھی یہی انداز اختیار کرتی تھیں۔ لیکن شادی کے بعد میرے والد نے انہیں اس سے منع کردیا کیونکہ انہیں یہ اچھا نہیں لگتا تھا کہ وہ اور ان کی بیگم ایک دوسرے کو ایک ہی طرح مخاطب کریں۔ اس لیے میری والدہ نے اس عادت کو تو چھوڑ دیا لیکن حیدرآبادی لہجے کو نہیں چھوڑا۔ میرے خاندان کی وہ شاید واحد فرد ہیں جو ہر کسی سے حیدرآبادی لہجے میں ہی بات کرتی ہیں۔

اس بات کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ کب ہم بہن بھائیوں کو اندازہ ہوا کہ ہم اس انداز میں بات نہیں کرتے جس طرح ہمارے دوست بات کرتے ہیں، اور پھر کب ہم نے بھی اسی انداز میں بات کرنا شروع کردی۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے گھر والوں میں سے کسی نے ہمیں ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ کسی اور نے اس بات کی نشاندہی کی ہو اور پھر ہم نے اپنا لہجہ ’درست‘ کرلیا ہو۔

مجھے ایک واقعہ خاص طور پر یاد ہے۔ ہم ایک اپارٹمنٹ کمپلیکس میں رہتے تھے اور میرے بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ ایک دن وہ باہر کھیل رہے تھے تو کچھ بچوں نے انہیں تنگ کیا۔ چونکہ وہ خود بچے تھے اور کچھ کر نہیں سکتے تھے تو ان میں سے ایک نے کہا کہ ’میرا بھائی آئنگا نا تو تم کو مارینگا‘۔ ڈرنے کے بجائے وہ بچے اس بات سے کافی محظوظ ہوئے۔ اس کے بعد وہ جب بھی میرے بھائیوں کو دیکھتے تو وہ صرف ایک لفظ ’مارینگا‘ دہراتے۔

ہم دیگر بہن بھائیوں کو بھی اگر اتنا شدید نہیں تو کم از کم اس جیسے تجربے کا سامنا ہوا ہوگا جس نے ہمیں دوسروں کی طرح درست اردو بولنا سکھایا۔ جب ہمارا سب سے چھوٹا بھائی پیدا ہوا تو ہم بہن بھائیوں (جو اب بڑے ہوچکے تھے) نے یہ فیصلہ کیا کہ اس سے صرف درست اردو میں ہی بات کریں گے۔ لیکن پھر بھی اس نے ناصرف حیدرآبادی لہجہ سیکھا بلکہ وہ اب ہم سے بھی اسی لہجے میں بات کرتا ہے۔

جیسے جیسے ہم بڑے ہوئے، ہماری شادیاں ہوئیں (جو اب تک غیر حیدرآبادیوں سے ہی ہوئی ہیں)، بچے ہوئے، ہمارا گھر ایک ملغوبہ بن گیا ہے۔ ہم بہن بھائی آپس میں حیدرآبادی لہجے، اپنے شریکِ حیات کے ساتھ اردو اور اپنے بچوں کے ساتھ اردو اور انگریزی میں بات کرتے ہیں۔ ہمارے خاندان میں ہم بہن بھائی وہ آخری نسل ہیں جو حیدرآبادی لہجے میں بات کرتی ہے۔ یہ احساس بہت ہی افسوسناک ہے کہ ہماری آنے والی نسل حیدرآبادی لہجے کو جان نہیں پائے گی۔

اس سے بھی زیادہ قابلِ افسوس بات یہ ہے ہمیں اردو کی اتنی عادت ہوچکی ہے کہ ہوسکتا ہے آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بھی اپنے لہجے کے بجائے صرف اردو میں ہی بات کرنے لگیں جیسے کہ ہم ماضی میں بھی کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ یہ صرف میرا تجربہ ہو اور اب بھی ایسے خاندان موجود ہوں جو اپنے گھر والوں کے علاوہ دیگر افراد کے ساتھ بھی حیدرآبادی لہجے میں بات کرتے ہوں۔ ایسے لوگوں کو میرا یہی پیغام ہے کہ آپ یہ کام جاری رکھیں۔ ہوسکتا ہے کہ کسی دن میرے گھر والوں میں بھی ہمت آئے اور ہم اس لہجے کو مکمل ترک کرنے سے رک جائیں۔ ایسا ہوجائے تو کتنا اچھا ہونگا۔


یہ مضمون 10 جنوری 2021ء کو ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔