روس: اپوزیشن لیڈر کی رہائی کیلئے ہزاروں افراد کی احتجاجی ریلی، 1500 گرفتار

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2021

ای میل

ماسکو میں مظاہرین میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئیں — فوٹو: رائٹرز
ماسکو میں مظاہرین میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئیں — فوٹو: رائٹرز
الیکسی ناوالنی کو اگست میں جرمنی منتقل کیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
الیکسی ناوالنی کو اگست میں جرمنی منتقل کیا گیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی

روسی پولیس نے صدر ولادی میر پیوٹن کے ناقد اور اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والے ہزاروں افراد کی احتجاجی ریلی پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے 1500 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں میں الیکسی ناوالنی کی اہلیہ بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پیوٹن کے ناقد و اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی روس پہنچتے ہی گرفتار

رواں ماہ کے وسط میں اپوزیشن لیڈر کو جرمنی سے روس پہنچتے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بعد ازاں انہوں نے اپنے حامیوں سے احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

حکام نے لوگوں کو احتجاج سے دور رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کورونا وائرس ہوسکتا ہے اور اگر احتجاج کیا گیا تو انہیں قانونی چارہ جوئی اور ممکنہ طور پر جیل بھی ہوسکتی ہے۔

تاہم مظاہرین نے پابندی اور سخت سردی کے باوجود زیر حراست اپوزیشن لیڈر کی رہائی کے لیے بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔

کووڈ انفو پروٹیسٹ مانیٹر گروپ کے مطابق کم از کم ایک ہزار 614 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ دارالحکومت ماسکو میں 300 اور سینٹ پیٹرزبرگ میں 162 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: روسی اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی کو زہر دے دیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ زیر حراست افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ 70 شہروں اور قصبوں میں جلسوں کے دوران گرفتاریوں کی اطلاع ہیں۔

حکام کے مطابق وسطی ماسکو میں تقریباً 4 ہزار افراد نے غیر مجاز ریلی میں حصہ لیا۔

ماسکو میں مظاہرین میں شامل ایک شخص نے بتایا کہ 'پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں ہوئیں'۔

اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی اہلیہ یولیا نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہیں ریلی میں حراست میں لیا گیا لیکن پھر رہا کردیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ موسم گرما میں الیکسی ناوالنی کو زہر دے دیا تھا جس کے بعد وہ پہلی مرتبہ روس پہنچے تھے اور انہوں نے جرمنی سے روانگی کے وقت اپنی گرفتاری کے امکان کو رد کردیا تھا۔

الیکسی ناوالنی کو معطل کی جانے والی سزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں ساڑھے 3 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: روسی حکومت نے اپوزیشن لیڈر کے زہر دینے کے الزام کو مذاق قرار دے دیا

روسی اپوزیشن لیڈر جس طیارے میں سوار تھے اسے ماسکو ایئرپورٹ پر لینڈ کرنا تھا لیکن آخری لمحات میں حکام نے طیارے کو کسی اور ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔

روسی صدر پیوٹن کے سب سے بڑے ناقد الیکسی ناوالنی کو اگست میں جہاز میں گرنے کے بعد کومے کی حالت میں طبی امداد کے لیے جرمنی منتقل کردیا گیا تھا۔

جرمنی میں ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ روسی اپوزیشن لیڈر کو نوویچوک کے طرز پر زہر دے کر جان سے مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔

ماسکو جانے والے طیارے میں سوار ہو کر انہوں نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ 'یہ گزشتہ پانچ ماہ بہترین لمحات تھے'۔