امریکی شہری نے 41 انچ لمبے سینگ والا استور مارخور شکار کرلیا

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2021

ای میل

شکار کیے گئے جانور کے سینگ کی لمبائی 41 انچ ہے — فوٹو: محکمہ جنگلات و جنگلی حیات گلگت بلتستان
شکار کیے گئے جانور کے سینگ کی لمبائی 41 انچ ہے — فوٹو: محکمہ جنگلات و جنگلی حیات گلگت بلتستان

گلگت: امریکی شہری نے موجودہ ہنٹنگ (شکار) ٹرافی سیزن میں 61 ہزار 500 ڈالر (تقریبا 98 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپے) لائسنس فیس کی ادائیگی کے بعد سب سے بلند قیمت والے استور مارخور کا شکار کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے محکمہ جنگلی حیات نے بتایا کہ ایڈورڈ جوزف ہڈسن نے استور کے محفوظ علاقے داشکن-مشکن-تربولنگ (ڈی ایم ٹی) میں مارخور شکار کیا۔

رپورٹ کے مطابق شکار کیے گئے جانور کے سینگ کی لمبائی 41 انچ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایک کروڑ روپے میں مارخور کا شکار

سال 21-2020 کے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے لیے گلگت بلتستان کے محکمہ جنگی حیات، ماحولیات اور جنگلات نے استور مارخور کے صرف 4، بلیو شیپ کے 18 اور ہمالیہ آئی بیکس کے 18 شکاری اجازت ناموں کی نیلامی کی تھی۔

خیال رہے کہ ٹرافی ہنٹنگ سیزن نومبر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل میں اختتام پذیر ہوجاتا ہے، غیر ملکی، قومی اور مقامی شکاری لائسنس حاصل کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے محفوظ علاقوں میں ٹرافیز شکار کرتے ہیں۔

امریکی شکاری نے سب سے زیادہ ریٹنگ والے مارخور کے شکار کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے 61 ہزار 500 ڈالر ادا کیے۔

مزید پڑھیں: گلگت میں ایک اور امریکی کی جانب سے مارخور کا شکار

گزشتہ ماہ ایک اور امریکی شہری جوزف بریڈ فوڈ نے چترال کے محفوظ قرار دیے گئے علاقے توشی شاشا میں تیر کمان سے 40 انچ کے سینگوں والا کشمیری مارخور کا شکار کر کے تیار کمان سے پہلی ٹرافی ہنٹنگ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

جوزف بریڈ فورڈ نے لائسنس کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ 31 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق اجازت نامے سے حاصل ہونے والی رقم کا 80 فیصد مقامی افراد کو ملتا ہے جسے ان کی اجتماعی ترقی اور گاؤں کی کنزرویشن کمیٹیوں کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کا بندو بست کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں: مارخور اور دیگر جنگلی جانوروں کا خوراک کی خاطر آبادی کا رخ

ٹرافی ہنٹنگ کا پروگرام 80 کی دہائی میں شروع کیا گیا تھا جو جنگی حیات کی نایاب نسل کے بین الاقوامی کنوینشن کے تحت ہوتا ہے اور گلگت بلتستان کے صرف مخصوص علاقوں میں ہی اس کی اجازت ہے۔

کوئی بھی شخص اگر غیر قانونی شکار میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے پکڑ کر سزا دی جاتی ہے۔


یہ خبر 24 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔