امریکا، ٹرمپ کی 'ظالمانہ' امیگریشن سوچ کو پلٹ دے گا، جو بائیڈن

اپ ڈیٹ 24 جنوری 2021

ای میل

دونوں رہنماؤں نے بے قاعدہ امیگریشن کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا —فائل فوٹو: رائٹرز
دونوں رہنماؤں نے بے قاعدہ امیگریشن کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا —فائل فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے میکسیکن ہم منصب کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا مائیگریشن کی وجوہات سے متعلق پالیسیز کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ انتطامیہ کے امیگریشن کے حوالے سے 'ظالمانہ' نقطہ نظر کو پلٹنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق میسکین صدر اندرس مینوئیل پیز کے ساتھ کال پر بات کرتے ہوئے میں جو بائیڈن نے امیگریشن کے لیے اپنے نئے قانونی راستے اور پناہ کے خواہشمندوں کی درخواست کا عمل بہتر بنانے کا خاکہ پیش کیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے کال سے متعلق جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ 'گزشتہ دور حکومت کی ظالمانہ امیگریشن پالیسیوں کو پلٹنا ترجیحات میں شامل ہے'۔

یہ بھی پڑھیں: عہدہ سنبھالتے ہی جو بائیڈن نے مسلمانوں پر عائد سفری پابندی ختم کردی

بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے 'بے قاعدہ امیگریشن' کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جو بائیڈن کے امیگریشن سے متعلق اصلاحاتی منصوبے میں میکسیکو کا اہم کردار ہے، قبل ازیں رواں ماہ کے آغاز میں میکسیکو نے وسطی امریکا میں شمالی امریکا جانے والے پناہ گزینوں کے ایک بڑے قافلے کو روکنے کے لیے تعاون کیا تھا۔

میکسیکو کی وزارت خارجہ کا بھی کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی سرزمین میں داخل ہونے والے افراد کے بہتر صحت پروٹوکولز کے لیے جو بائیڈن کے دستخط کردہ کووِڈ 19 حکم نامے کے سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نئے صدر بائیڈن کی راہ میں بارودی سرنگیں بچھا گئے

کال کے بعد میکسیکن صدر نے ٹوئٹر پر ایک پیغام پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ کام خوشگوار اور احترام سے بھرپور تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہر چیز اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ تعلقات ہمارے لوگوں اور اقوام کے لیے اچھے ہوں گے'۔

بہر حال جو بائیڈن کی حلف برداری تقریب ایسے وقت میں ہوئی کہ جب میکسیکو کے سابق وزیر دفاع کے حوالے سے تفیش پر تناؤ پایا جارہا تھا تاہم یہ تحقیقات اب ختم کردی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جو بائیڈن امریکا کے 46ویں صدر، کمالا ہیرس نائب صدر بن گئیں

یاد رہے کہ جو بائیڈن کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کی توجہ کا بنیادی مرکز قانونی اور غیر قانونی امیگریشن روکنا تھا۔

قبل ازیں جوبائیڈن نے ایک ایسے بل کے لیے ابتدائی کوششیں کیں جو امریکا میں مقیم تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کو شہریت دینے کی راہ ہموار کرے گا، حالانکہ کانگریس میں ان کے اتحادیوں نے اعتراف کیا ہے کہ 'یہ انتہائی مشکل کام ہوگا'۔


یہ خبر 24 جنوری 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔