کراچی کی خواتین کو ڈبلیو گیارہ کی سواری کے ساتھ تفریح فراہم کرنے کا منصوبہ

اپ ڈیٹ 27 جنوری 2021
ہر اتوار کو خواتین کو مختلف مقامات کی سیر کروائی جائے گی—اسکرین شاٹ
ہر اتوار کو خواتین کو مختلف مقامات کی سیر کروائی جائے گی—اسکرین شاٹ

صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی منی بسز جہاں خستہ حالت اور لدے ہوئے مسافروں کی وجہ سے دنیا میں شہرت رکھتی ہیں، وہیں اس شہر کی بسز اپنے ناموں اور سجاوٹ کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔

کراچی کی منی بسز میں سجاوٹ کے حوالے سے سب سے زیادہ مشہور بس ڈبلیو گیارہ ہے، جو سوا دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کے علاقے نیو کراچی سے کیماڑی تک جاتی ہے۔

اس بس سروس کے حوالے سے کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کی سروس 24 گھنٹے ہی چلتی ہے۔

ڈبلیو گیارہ بسز کا نیٹ ورک مختلف مالکان کا نیٹ ورک ہے اور یہ منی بسز کراچی کے طویل روٹس پر چلنے والی بسز میں سے ایک ہیں۔

اور اب اسی بس کو کراچی کی خواتین کی تفریح کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا، جس کے ذریعے سیر و سیاحت کی شوقین خواتین مذکورہ بس پر سواری کرکے شہر کے معروف مقامات دیکھ سکیں گی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

جی ہاں، خواتین کی سیر و سیاحت کی خدمات فراہم کرنے والے ادارے ’شی ٹریول‘ نے کراچی کی خواتین کو ہر اتوار کو تفریح فراہم کرنے کے لیے منفرد منصوبہ تیار کرلیا۔

’شی ٹریول‘ کی انتظامیہ ہر اتوار کو کراچی کی خواتین کو دلہن کی طرح سجی ڈبلیو گیارہ پر سوار کرکے شہر کے تاریخی و تفریحی مقامات کی سیر کرائے گی۔

’شی ٹریول‘ کی انتظامیہ نے اے آر وائی کے پروگرام باخبر سویرا میں بتایا کہ ابتدائی طور پر کراچی میں صرف ایک ڈبلیو گیارہ بس کے ذریعے خواتین کو سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق مذکورہ منصوبے کے تحت صرف خواتین کو ہی سیر و سیاحت کروائی جاتی ہے اور سیاحت کا شوق رکھنے والی خاتون کو سفر کرنے کے لیے ڈھائی ہزار روپے فیس ادا کرنی ہوگی۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

ڈھائی ہزار روپے فیس ادا کرنے والی خاتون کو ڈبلیو گیارہ پر دیگر خواتین کے ساتھ کراچی کے تاریخی و سیاحتی مقامات پر لے جایا جائے گا اور انہیں صبح کا ناشتہ بھی کروایا جائے گا جب کہ انہیں بگی کی سواری کا بھی موقع فراہم کیا جائے گا۔

شی ٹریول انتظامیہ کے مطابق ابتدائی طور پر ایک ہی ڈبلیو گیارہ بس کو چلایا جا رہا ہے، تاہم سیاح خواتین کی تعداد بڑھنے پر ایک سے زائد بسز بھی چلائی جا سکتی ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق ایک ڈبلیو گیارہ بس پر 25 خواتین کو سوار کیا جاتا ہے اور ابتدائی طور پر سیاحت کے لیے آنے والی خواتین میں کم عمر لڑکیاں شامل ہیں۔

شی ٹریول تنظیم کراچی کے علاوہ صوبہ سندھ سمیت ملک کے دیگر سیاحتی مقامات پر بھی خواتین کے گروپس کو سیر و تفریح کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

تبصرے (0) بند ہیں