ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اہم پیشرفت ہوئی ہے، دفتر خارجہ

13 فروری 2021

ای میل

پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل درآمد مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہے، زاہد حفیظ چوہدری - فائل فوٹو:ریڈیو پاکستان
پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل درآمد مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہے، زاہد حفیظ چوہدری - فائل فوٹو:ریڈیو پاکستان

اسلام آباد: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایکشن پلان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی کام کیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے موجودہ ایکشن پلان کے تحت پاکستان کے لیے 27 نکات میں سے 21 نکات کے مکمل کرنے کا اندازہ لگایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ باقی چھ جزوی طور پر توجہ دیے جانے والے نکات میں پاکستان کی جانب سے نمایاں پیشرفت ہوئی ہے جس کا ایف اے ٹی ایف کے ممبران کی جانب سے اعتراف کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف میں ‘سعودی عرب کے پاکستان مخالف کردار’ کی خبر مسترد

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عمل درآمد مکمل کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایف اے ٹی ایف کے ورکنگ گروپس نے آئندہ مکمل اجلاس سے قبل اپنی نشتوں کا آغاز کردیا ہے جو عملی طور پر 22 سے 25 فروری تک منعقد ہوں گی۔

مکمل اجلاس میں عملی اقدامات پر ملک کا پیشرفت کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کے معاملے پر فیصلہ ہوگا۔

پاکستان انسداد دہشت گردی کی مالی اعانت اور انسداد منی لانڈرنگ میں خامیوں کے لیے ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے اپنے آخری اجلاس میں واچ ڈاگ نے فروری 2021 میں جائزے تک پاکستان کو ’بہتر نگرانی کے دائرہ اختیار‘ کی فہرست میں شامل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جب سفارشات کے ساتھ اس کی تعمیل کی حیثیت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

آخری جائزے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی فہرست میں موجود دہشت گرد گروہوں سے وابستہ تنظیموں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں کی تھی۔

کہا گیا تھا کہ پاکستان نے منشیات اور قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے۔

پاکستان نے حال ہی میں ایف اے ٹی ایف کو اپنی حیثیت معمول پر لانے کے لیے قائل کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے ہیں۔

ان میں لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید اور اس کے ساتھیوں کے خلاف دہشت گردی کی مالی اعانت کے معاملات میں قانونی چارہ جوئی شامل ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چند ہفتے قبل سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ ایف اے ٹی ایف آئندہ اجلاس میں پاکستان کو اپنی گرے لسٹ سے خارج کردے گی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے پاکستان خطے میں امن کے لیے پرعزم ہے'۔

ترجمان نے بھارت کے 'بالادست اور توسیع پسندانہ ڈیزائن' اور 'غیر ذمہ دارانہ اقدامات' پر تنقید کی جو علاقائی امن و سلامتی کے لیے مسئلہ ہے۔