سعودی عرب کا حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 14 فروری 2021
---فائل فوٹو: اے ایف پی
---فائل فوٹو: اے ایف پی

سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی علاقے میں واقع ہوئی اڈے پر یمنی باغی حوثیوں کے ڈرون حملے کو ناکام بنا دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔

مزیدپڑھیں: حوثی باغیوں کو عالمی دہشت گرد تنظیم کی فہرست سے نکالنا خوش آئند ہے، اقوام متحدہ

اس ضمن میں سعودی فضائی دفاع نے کہا کہ مغربی سعودی عرب میں حوثی باغیوں نے ابا ایئر پورٹ کے خلاف ڈرون حملے کی کوشش کی اور ایک ڈرون کو تعاقب کرکے تباہ کردیا گیا۔

خیال رہے کہ حوثیوں نے ہفتے کے روز ہوائی اڈے پر حملے کی تصدیق کی۔

باغی غروپ کے ایک فوجی ترجمان نے ٹوئٹر کہا تھا فضائیہ نے ابا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک اہم ہدف پر حملہ کیا اور اس حملے میں اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

حال ہی میں باغیوں کے ایک الگ حملے میں ابا ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا جس میں ایک ڈرون حملے میں مسافر طیارے کو آگ لگ گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی دہشتگرد قرار دیے جانے پر امریکا کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں، حوثی باغی

حوثیوں کا کہنا تھا کہ ہوئی اڈے پر حملہ جائز تھا جو اتحادی فوجیوں کے زیر استعمال تھا جو یمن میں فضائی حملے کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ مذکوہ ایئر پورٹ یمن سرحد سے محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ہوائی اڈے پر حملے ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہیں۔

خیال رہے کہ حوثی پاغیوں کی جانب سے حملے ایسے وقت پر کیے گئے جب حال ہی میں امریکا نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آخری لمحات پر کیے گئے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے یمن میں انسانی بحران کے باعث حوثی باغیوں کی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا درجہ ختم کرنے کا عندیہ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: 'جوبائیڈن کا سعودی عرب کی خودمختاری کے دفاع کیلئے تعاون کا عزم'

اس ضمن میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی صدر جوبائیڈن کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا تھا جس کے تحت حوثی باغیوں کی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا درجہ 16 فروری کو ختم ہوجائے گا۔

دوسری جانب سعودی عرب مسلسل ایران پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو اسلحہ فراہم کررہا ہے لیکن ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

یمن میں 2015 میں حوثی باغیوں کی جانب سے صدر عبدالرب منصور ہادی کے خلاف بغاوت کے بعد سعودی اتحادیوں نے مداخلت کی تھی اور سرحد کو بھی بند کردیا تھا۔

بعد ازاں اتحادیوں نے یمن پر بدترین فضائی حملے بھی کیے تھے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے یمن میں انسانی بحران پیدا ہونے سے بھی خبردار کردیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں