برطانیہ میں دریافت کورونا کی نئی قسم زیادہ جان لیوا قرار

14 فروری 2021
— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم نہ صرف زیادہ متعدی ہے بلکہ یہ پرانی قسم کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا بھی ہے۔

یہ بات برطانیہ میں حکومتی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے نئے ڈیٹا میں سامنے آئی۔

برطانوی حکومت کے سائنسدان کئی ماہ سے اس نئی قسم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کے لیے کام کررہے ہیں۔

سائنسدانوں نے جنوری 2021 میں کہا تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ یہ نئی قسم نہ صرف زیادہ متعدی ہے بلکہ یہ زیادہ جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

اب ان کی جانب سے جاری ایک نئی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس نئی قسم سے ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے ان نئے انکشافات کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا جو متعدد تحقیقی رپورٹس پر مبنی ہے۔

اس نئی قسم بی 1.1.7 کے حوالے سے نئی تفصیلات کو برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر ایک دستاویز کی شکل میں جاری کیا گیا۔

اس نئی قسم کے نتیجے میں اموات کی شرح میں اضافے کی وجوہات کو مکمل طور پر واضح نہیں کیا گیا، کچھ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ بی 1.1.7 سے متاثر افراد میں وائرل لوڈ زیادہ ہوتا ہے، جس کے باعث وائرس نہ صرف زیادہ تیزی سے پھیل سکتا ہے بلکہ مخصوص طریقہ علاج کی افادیت کو بھی ممکنہ طور پر متاثر کرسکتا ہے۔

مگر سائنسدانوں کی جانب سے یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی کہ اس نئی قسم کے نتیجے میں موت کا خطرہ کس حد تک بڑھ سکتا ہے۔

برطانوی حکومت کے سائنسی مشیران نے 13 فروری کو بتایا کہ نئے انکشافات سے ممالک میں اس نئی قسم کی روک تھام کے لیے عائد کی جانے والی پابندیوں میں نرمی کے خطرات ظاہر ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں یہ نئی قسم سب سے پہلے ستمبر میں سامنے آئی تھی اور اس کی دریافت کا اعلان دسمبر 2020 میں کیا گیا تھا، جو اب تک کم از کم 82 ممالک تک پہنچ چکی ہے اور امریکا میں یہ دیگر اقسام کے مقابلے میں 35 سے 45 فیصد زیادہ آسانی سے پھیل رہی ہے۔

امریکی حکام کا تخمینہ ہے کہ یہ نئی قسم رواں سال مارچ میں امریکا میں سب سے زیادہ پھیل جانے والی قسم ہوگی۔

برطانوی حکومت کے سائنسی مشیر اور وبائی امراض کے ماہر نیل فرگوسن نے بتایا کہ 'مجموعی تصویر سے عندیہ ملتا ہے کہ اس نئی قسم سے کسی فرد میں ہسپتال میں داخلے اور موت کا خطرہ 40 سے 60 فیصد تک بڑھ جاتا ہے'۔

برطانیہ میں اس نئی قسم کے بیشتر کیسز میں مریضوں کی ہلاکت نہیں ہوئی اور حکومتی سائنسدانوں نے مجموعی اموات کے چھوٹے مجموعے کے تجزیے پر مبنی تحقیقی رپورٹس پر انحصار کیا گیا۔

سائنسدانوں کو اس قسم سے متاثر افراد میں پہلے سے موجود امراض کی موجودگی کے بارے میں جاننے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا تحقیقی کام زیادہ تر ایسے افراد تک محدود ہے جن میں کمیونٹی ٹیسٹنگ سائٹس میں وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہوئی، کیونکہ ہسپتالوں میں ریپڈ ٹیسٹوں میں نئی قسم کے جینز کی شناخت نہیں ہوپاتی۔

مجموعی طور پر برطانوی حکومت کے سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ اس نئی قسم سے ممکنہ طور پر موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تاہم انہیں اس دریافت پر 55 سے 75 فیصد اعتماد ہے۔

برطانوی حکومت کے سائنسی مشیر اور سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے وبائی امراض کی ماہر Muge Cevik نے بتایا کہ 'میرے خیال میں نتائج ممکنہ طور پر مستند ہیں، اگرچہ اس حوالے سے کافی کچھ محدود ہے اور ہمیں اس کی وجوہات کو سمجھنے کی ضرورت ہے'۔

اس نئی قسم سے لاحق ہونے والا سب سے بڑا خطرہ اس کا زیادہ تیزی سے پھیلنا ہی ہے، ایک اندازے کے مطابق یہ پرانی اقسام کے مقابلے میں 30 سے 50 فیصد زیادہ متعدی ہے، تاہم کچھ سائنسدانوں کے خیال میں یہ شرح اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں ستمبر میں دریافت ہونے کے یہ نئی قسم برطانیہ میں سب سے بالادست سم بن چکی ہے اور وہاں کے بیشتر علاقوں میں 90 فیصد سے زیادہ نئے کیسز اس قسم کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں کورونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں ایک لاکھ 17 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، جن میں سے نصف ہلاکتیں گزشتہ سال نومبر کے بعد ہوئیں، جب وہاں یہ نئی قسم پھیلنا شروع ہوئی۔

نیل فرگوسن کے مطابق 'اموات کے حوالے سے یہ کافی تباہ کن اعدادوشمار ہیں، اور یہ تیزی سے پھیلنے اور اس کی ہلاکت خیزی بڑھنے کا ایک نتیجہ ہوسکتا ہے'۔

لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین کی ایک حالیہ تحقیق میں اس نئی قسم کے اثرات کا ایک تخمینہ بتایا گیا تھا اور اس پر ہی نئے تحقیقی کام کے لیے انحصار کیا گیا۔

اس تحقیق میں 3382 اموات کا تجزیہ کیا گیا تھا، جن میں سے 1722 افراد وائرس کی نئی قسم سے متاثر ہوئے تھے۔

محققین نے تخمینہ لگایا کہ اس نئی قسم کے نیتجے میں موت کا خطرہ 58 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

مثال کے طور پر 55 سے 69 سال کی عمر کے مردوں میں موت کا خطرہ 0.6 سے 0.9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ اس عمر کی خواتین میں یہ خطرہ 0.2 سے 0.3 فیصد تک ہوتا ہے۔

برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سائمن کلارک نے بتایا کہ اس سے اضافی شواہد ملتے ہیں کہ یہ نئی قسم پرانی قسم کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں