میانمار: فوجی بغاوت کےخلاف مظاہروں کی شدت ختم کرنے کیلئے مزید دستے طلب

15 فروری 2021
---فائل فوٹو: رائٹرز
---فائل فوٹو: رائٹرز

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق فوج نے شمالی میانمار کے شہر منڈا میں پولیس کے ہمراہ سیکڑوں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کی اور ربڑ کی گولیاں چلائیں۔

مزیدپڑھیں: میانمار: فوجی حکومت نے مظاہروں، احتجاج کے انعقاد پر خبردار کردیا

میانمار میں گزشتہ 8 گھنٹے سے انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود لوگ منڈا کے مرکز میں صبح 9 بجے جمع ہونا شروع ہوگئے۔

شہر سے ملنے والی تصاویر میں پولیس اور فوجیوں کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیوں اور سلنگ شاٹس کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں شہر میں طلبہ کی یونین نے بتایا کہ فوج اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

میانمار کے شہر ینگون سمیت متعدد شہروں کی سڑکوں پر اضافی دستوں کو طلب کرلیا گیا۔

مزیدپڑھیں: میانمار کی فورسز روہنگیا کے خلاف 'جنگی جرائم' میں ملوث ہیں، کمیشن

اس حوالے سے بتایا گیا کہ نئے فوجی دستوں میں 77 ویں لائٹ انفنٹری ڈویژن بھی شامل ہے جس نے 2007 میں جمہوریت کے حامی مظاہروں کے خلاف بدترین تشدد کیا تھا۔

جمعے اور ہفتے کے مقابلے میں مظاہرین کی تعداد قدرے کم تھی لیکن فوج اور پولیس کے ساتھ مظاہروں میں شدت زیادہ دیکھی گئی۔

طلبہ اور بدھ بھکشوؤں نے فوجیوں کے سامنے مظاہرہ کیا۔

انہوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جس میں درج تھا کہ ہم فوجی حکومت نہیں چاہتے‘۔

مزیدپڑھیں: میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف دوسرے روز بھی مظاہرے جاری

ینگون میں مرکزی بینک کے سامنے جمع ہونے والے ایک ہزار سے زائد افراد میں 46 سالہ نیین مو نے کہا کہ بکتر بند گاڑیوں سے گشت کرنے کا مطلب ہے کہ وہ لوگوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وگ سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں اور انہیں گرفتار یا گولی مار دینے کی کوئی پرواہ نہیں ہے، اب ہم نہیں روک سکتے کیونکہ ہمارے ذہن میں خوف دور ہوتا جارہا ہے۔

مظاہرین نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے صدر دفاتر کے باہر بھی جمع ہوئے جس نے مذکورہ پارٹی نے نومبر کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

میانمار کے فوجی جرنیلوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد 75سالہ آنگ سان سوچی سمیت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے درجنوں رہنماؤں کو گرفتار کر لیا تھا۔

جرنیلوں نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اس کی وجہ پچھلے سال نومبر میں ہوئے انتخابات میں دھاندلی کو قرار دیا جہاں مذکورہ انتخابات میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے کلین سوئپ فتح حاصل کی تھی۔

فوجی حکومت میں زیادہ عرصہ تک نظربند رہنے والی اپوزیشن لیڈر آنگ سان سوچی کو ان کی کاوشوں پر امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں