ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہمارے موبائل ہمارے ’اپنوں‘ سے اہم نہیں ہیں

02 اپريل 2021

ای میل

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے سنا جائے، دیکھا جائے، اس کی قدر کی جائے اور اسے دیگر لوگوں سے تعلق کا احساس ہو۔ ہم موجودہ دور میں زندگی کی مصروفیات اور ڈیڈ لائن میں الجھ کر رہ گئے ہیں اور ایسی زندگی کی قیمت ہمارے باہمی تعلق ادا کر رہے ہیں۔

جدید دور میں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے ہمارے ٹوٹتے تعلقات کو مزید کمزور کردیا ہے۔ چاہے وہ لاہور کا کوئی ڈھابہ ہو یا کراچی کا کوئی پر تعیش شاپنگ مال، یا وہ دنیا کے دوسرے کونے پر موجود ٹورانٹو کی کوئی سڑک ہو، آپ کو ہر جگہ لوگ ’فبنگ‘ کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔

’فبنگ‘ کا مطلب ’فون اسنبنگ‘ ہے یعنی ایک سماجی حالت میں اپنے فون کو لوگوں پر ترجیح دینے کا عمل۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ رجحان پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس عمل کی وجہ سے آپس میں ہونے والے ابلاغ میں رکاوٹ آتی ہے جس کی وجہ سے باہمی تعلقات میں عدم اطمینان اور انفرادی بہبود میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لوگ تناؤ کو کم کرنے یا اپنے کام سے کچھ وقفہ لینے کے لیے موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں اور یہ عادت اب ایک نشے کی کیفیت اختیار کرتی جارہی ہے۔ موبائل فون کی لت کے حوالے سے دستیاب اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ 70 فیصد اسمارٹ فون صارفین سوتے وقت فون کو اپنے بہت نزدیک رکھتے ہیں اور اس وجہ سے صبح اٹھتے ہی وہ سب سے پہلے اپنے فون کو ہی دیکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھی وہ پیغامات بھیجنے اور پڑھنے، خبریں حاصل کرنے، سوشل میڈیا استعمال کرنے، گیمز گھیلے، ویڈیوز دیکھنے، موسیقی سننے، خریداری اور دیگر سیکڑوں کاموں کے لیے موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ ہم چُھونے، اسکرول کرنے اور سوائپ کرنے کی عادت کے سامنے بے بس ہوچکے ہیں اور اس عادت نے ہم پر قابو پالیا ہے۔ سارہ (فرضی نام) یارک یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان سے جب موبائل سے ہر وقت رابطے میں رہنے کی ضرورت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’مجھے یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں میں کسی چیز سے بے خبر نہ رہ جاؤں، جیسے ہی کوئی نوٹیفیکیشن نمودار ہو مجھے اسے فوراً دیکھنا ہوتا ہے‘۔

ہم اکثر واٹس ایپ پر پیغام رسانی کے دوران ایموجیز کا استعمال کرتے ہیں اور مکالموں کا استعمال کم سے کم کرتے ہیں۔ ہم اکثر طویل بات چیت سے کتراتے ہیں اور اپنے اردگرد کام کرنے والے اور رہنے والے افراد کو سمجھنے کے لیے زیادہ وقت صرف نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن یقیناً اپنی زندگیوں میں بات چیت اور مکالموں کو دوبارہ اپنانے کا کوئی سادہ اور آسان طریقہ ضرور ہوگا۔

اس کے لیے پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ ہمارے اندر اس بات کا احساس پیدا ہو کہ موبائل فون ہمارے لیے افراد سے زیادہ اہم ہوگیا ہے اور اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم خود کو واٹس ایپ، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک کا غلام نہیں بننے دے سکتے۔

میاں بیوی کے مابین عموماً ایک دوسرے کو وقت نہ دینے کی شکایت رہتی ہے۔ یہ رویہ بعد میں تنہائی کے احساس کا سبب بنتا ہے۔ 32 سالہ مائرہ (فرضی نام) ایک میگزین کی مدیر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے شوہر کام کے بعد اتنے تھکے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ بس صوفے پر دراز ہوکر سوشل میڈیا کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں، ہم شاز و نادر ہی کبھی بات چیت کرتے ہیں‘۔

ظاہر ہے کہ کسی مسئلے کے حل کا پہلا مرحلہ خود مسئلے کی شناخت کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کا ایک وقت مقرر کریں اور اس پر سختی سے عمل بھی کریں۔ جب وہ وقت ختم ہوجائے تو اسکرین کو اپنے سامنے سے ہٹا دیں۔

ماہر سماجیات چارلس ڈربر نے اپنی کتاب ‘ان پرسیوٹ آف اٹینشن‘ میں محققین کی جانب سے آمنے سامنے ہونے والی گفتگو پر کی جانے والی تحقیق کے حاصلات بیان کیے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران لوگ دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کی کتنی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ گفتگو میں بھی نرگسیت کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ گفتگو کے دوران وہی غالب رہیں اور گفتگو کا مرکز بھی انہی کی ذات ہو۔

ہمیں دوسروں پر غالب ہونے کی کوشش کو ترک کرنا ہوگا۔ اس کے برعکس ہمیں چاہیے کہ ہم سامنے والے کو سنیں، گفتگو میں دلچسپی ظاہر کریں اور سوالات کے ذریعے گفتگو کو جاری رکھنے کی کوشش کریں۔ اس سے سامنے والے کو احساس ہوگا کہ کوئی ہے جو ان کی بات سننے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

کتنی مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ اپنے کسی پیارے کے ساتھ باہر کھانا کھانے گئے ہوں اور آپ نے اپنا فون میز پر رکھ دیا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوں کہ اس دوران آپ نے فون نہیں اٹھایا لیکن حقیقت یہ ہے کہ میز پر اس فون کی موجودگی ہی سامنے والے شخص کے ساتھ آپ کے تعلق کو کم کر رہی ہے۔ 39 سالہ سعد (فرضی نام) جیسے کاروباری افراد کے لیے اس رویے کی ایک وجہ اہم کاروباری پیغامات کا بروقت حصول ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ رویہ اب میری عادت بن چکا ہے جس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہے‘۔

میرا گھر بھی اس رویے سے محفوظ نہیں ہے۔ خود میں بھی کھانے کے وقت اس رویے کا تجربہ کرتی ہوں۔ اگر میرے بچے فون استعمال نہ بھی کررہے ہوں تب بھی وہ کھانے کے دوران فون کو خود سے قریب ہی رکھتے ہیں۔ ان کا رویہ اس بات کی جانب اشارہ ہوتا ہے کہ گھر والوں کے ساتھ رہنا ان کے لیے کافی نہیں ہے۔ بالآخر مجھے سختی سے تاکید کرنی پڑی کہ آئندہ کھانے کی میز پر کوئی فون لے کر نہیں بیٹھے گا۔

اسی طرح ہماری توجہ اکثر ہمارے اپنے خیالات کی وجہ سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم سوچتے ہیں اب کیا جواب دینا ہے یا گھر جاکر کھانے میں کیا بنانا ہے۔ موجودہ لمحے میں جینے کے لیے ہمیں اپنے آس پاس کی آوازوں کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کی آوازوں سے بھی چھٹکارا پانا ہوگا۔ کوشش کریں کہ دن کا آغاز مراقبے سے کریں یا کم از کم کچھ منٹ خاموشی میں گزاریں۔ ہر صبح کچھ دیر خاموشی میں گزارنے سے خود کو ترتیب میں لانے اور خوش رہنے میں مدد ملے گی۔

سب سے اہم یہ ہے کہ ہم خود کو اس بات کا احساس دلاتے رہیں کہ مؤثر ابلاغ ایک دو طرفہ کام ہے اور اس میں بولنے سے زیادہ سننے کی اہمیت ہے۔ شاید اسی لیے قدرتی طور پر ہمارے 2 کان اور ایک زبان ہے تاکہ ہم کم بولیں اور زیادہ سنیں۔

سننے کی اہمیت جاننے کے بعد بھی ہم سننے کے فن یا کارل راجرز کی اصطلاح کے مطابق ’ایکٹو لسننگ‘ کو کھوتے جارہے ہیں۔ اس اصطلاح کا مطلب صرف سننا نہیں بلکہ گفتگو کے دوران سامنے والے فرد کو گفتگو میں اپنی دلچسپی کا احساس دلانا بھی ہے۔ ساتھ ہی گفتگو میں موجود باریکاں اور غیر زبانی اشاروں کا مشاہدہ کرکے ان باتوں کو بھی سمجھنا ہے جس کا واضح طور پر ذکر نہیں ہوا ہو۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ اس تیز رفتار زندگی اور اس میں موبائل اور سوشل میڈیا کی مستقل موجودگی نے ہماری توجہ اور صبر کو محدود کردیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے پیاروں سے تعلق مضبوط کرنے کی شعوری کوششوں کا آغاز کریں۔ کورونا کی وبا نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں کہ باہمی تعلقات اور ہر لمحے کو جینے کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔

ہم اکثر یہ خواہش کرتے ہیں کہ ہمیں سنا جائے اور کوئی ہم سے گفتگو کرے۔ ہمارا دل ایک تعلق کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس تعلق کی وجہ سے ہی ہمیں یہ احساس ہوتا ہے دنیا میں موجود اربوں لوگوں میں سے ہم خاص ہیں اور ہماری اہمیت ہے۔


یہ مضمون 21 فروری 2021ء کو ای او ایس میگزین میں شائع ہوا۔