• KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:46pm
  • LHR: Maghrib 7:04pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:14pm Isha 8:51pm
  • KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:46pm
  • LHR: Maghrib 7:04pm Isha 8:38pm
  • ISB: Maghrib 7:14pm Isha 8:51pm

افغان حکومت، امریکا دوحہ معاہدے پر عمل نہیں کر رہے، طالبان کا الزام

شائع February 24, 2021
طالبان عہدیدار نے بقیہ امریکی افواج کے انخلا میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی
طالبان عہدیدار نے بقیہ امریکی افواج کے انخلا میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

طالبان نے افغان حکومت اور اس کے مغربی اتحادیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ گزشتہ برس طے پانے والے معاہدے پر عمل نہیں کر رہے جن میں قیدیوں کی رہائی اور غیر ملکی افواج کی بے دخلی شامل ہے۔

دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک سینئر رکن نے الجزیرہ کو بتایا کہ قطری دارالحکومت میں بین الافغان بات چیت کے آغاز کے 3 ماہ میں تمام طالبان قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا۔

مزید پڑھیں: دوحہ: افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کا آغاز

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ 5 ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور انہوں نے ایک بھی قیدی رہا نہیں کیا۔

انہوں نے طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا الزام افغان صدر اشرف غنی پر عائد کیا۔

طالبان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب طالبان نے ہفتوں کی تاخیر اور امریکی قیادت میں تبدیلی کے بعد دوحہ میں افغان حکومت کے ساتھ دوبارہ بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

طالبان عہدیدار نے بقیہ امریکی افواج کے انخلا میں تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ فروری 2020 میں ہونے والے دوحہ معاہدے پر نظرثانی کر رہی ہے۔

جو بائیڈن نے تنازع کے سیاسی حل کی حمایت کی ہے لیکن وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کی حتمی تاریخ پر اتفاق نہیں کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کے وفد کی بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے بات چیت کیلئے اسلام آباد آمد

دوحہ میں طالبان عہدیدار نے کہا کہ امریکی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہے اور ہم ان سے معاہدے کی پاسداری کی توقع کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان تحریری معاہدے کے پابند ہیں اور ہم توقع کرتے ہیں کہ دوسرا فریق (امریکا) بھی ایسا ہی کرے گا۔

خیال رہے کہ 29 فروری 2020 کو امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں بین الافغان مذاکرات طے پائے تھے، اس وقت اس معاہدے کو 19 سال سے جاری جنگ میں امن کا بہتری موقع قرار دیا گیا تھا۔

ابتدائی طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ معاہدے کے چند ہفتوں بعد ہی بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہوجائے گا، تاہم شروع سے ہی اس ٹائم لائن میں تاخیر کے باعث خلل پڑنا شروع ہوگیا تھا۔

امریکا کے ساتھ ہوئے طالبان کے معاہدے سے قبل ہی یہ طے کیا گیا تھا کہ افغان حکومت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان بدلے میں ایک ہزار حکومتی اور عسکری اہلکاروں کو اپنی حراست سے چھوڑیں گے، تاہم اس میں مسائل کا سامنا رہا اور افغان حکومت اس سے گریز کرتی نظر آئی۔

مزید پڑھیں: بین الافغان مذاکرات کے لیے باضابطہ ایجنڈا طے نہیں کیا گیا

مزید یہ کہ کابل میں جاری سیاسی بحران نے مذاکرات کو مزید تاخیر کا شکار بنادیا کیونکہ وہاں افغان صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے متنازع صدارتی انتخابات میں ایک دوسرے پر فتح کا اعلان کردیا۔

بعد ازاں دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے قیدیوں کی رہائی بھی دیکھنے میں آئی تھی اور طالبان کے 6 قیدیوں کی آخری رکاوٹ دور ہونے کے بعد قطر کی وزارت خارجہ نے مذاکرات کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سے بیان میں کہا گیا تھا کہ 'افغانستان کے فریقین کے درمیان یہ براہ راست مذاکرات انتہائی اہم ہیں اور افغانستان میں دیرپا امن کی جانب اہم قدم ہے۔'

کارٹون

کارٹون : 24 جولائی 2024
کارٹون : 23 جولائی 2024