ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا بِل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2021
آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا تھا کہ اس سے ایک کھرب 40 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا—فائل فوٹو: شٹراسٹاک
آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا تھا کہ اس سے ایک کھرب 40 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا—فائل فوٹو: شٹراسٹاک

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک بل جمع کروایا ہے جس میں تقریباً 36 اقسام کے ٹیکس استثنٰی واپس لینے اور دیگر کارپوریٹ ٹیکس چھوٹ کو بہتر بنانے کے لیے متعدد ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن کا اطلاق یکم جولائی 2021 سے ہوگا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ انکم ٹیکس ریفارم عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجاویز کے مطابق ہیں۔

آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا تھا کہ اس سے ایک کھرب 40 ارب روپے کا ریونیو حاصل ہوگا، انکم ٹیکس (دوسری ترمیم) بل 2021 ایوان زیریں کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے یکم جولائی سے تمام مصنوعات پر ٹیکس اسٹیمپ لازمی قرار دے دی

مقامی ٹیکس ماہرین کے مطابق یہ 30 سے 40 ارب روپے تک کے ریونیو پر اثر انداز ہوگا۔

بل کے تحت غیر منافع بخش تنظیموں (این پی اوز) کے لیے ٹیکس رجیم آسان بنا دی گئی ہے، ان خیراتی اداروں کی آمدن میں بڑا امتیاز رکھا گیا تھا جو 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ حاصل کرسکتے تھے یا وہ جو نہیں کرسکتے تھے۔

تاہم ٹیکس کریڈٹ کو پیشگی صورتحال بشمول انکم ٹیکس ریٹرن کی فائلنگ اور متعلقہ سال کے لیے وِد ہولڈنگ ٹیکس اسٹیٹمنٹس سے منسلک کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ٹیکس سال کے دوران خیراتی اور رفاہی سرگرمیوں پر خرچ نہ ہونے والی سرپلس آمدن پر 10 فیصد ٹیکس کی شرح تجویز کی گئی ہے تاہم مجوزہ ترامیم کی دستاویز میں اس سرپلس فنڈ کو واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے۔

ایک سینئر ٹیکس عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ عملدرآمد آسان بنانے کے لیے این پی اوز سے متعلق شرائط کو دوبارہ تحریر کیا گیا ہے، مجوزہ ترامیم کے تحت این پی اوز کے ٹیکس واجبات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ایک نئی دفعہ 65 ایف متعارف کروائی جائے گی تا کہ سندھ میں کوئلے کی کان سے منسلک افراد اور کمپیوٹر سافٹ ویئرز یا آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمد یا آئی ٹی کی خدمات پر 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ مل سکے۔

مزید پڑھیں: سونے، جواہرات کے شعبے میں ٹیکس دینے میں ٹال مٹول کے باعث خزانے کو بڑے نقصان کا انکشاف

مجوزہ نئی دفعہ سے ٹیکس دہندگان واجب الادا ٹیکس کے مقابلے میں قابلِ سرمایہ کاری رقم کا 25 فیصد سرمایہ کاری ٹیکس کریڈٹ لے سکیں گے۔

یہ گرین فیلڈ صنعتی اقدامات اور قابل تجدید توانائی مثلاً شمسی اور ہوا سے بننے والی بجلی کے منصوبوں کے لیے 5 سال تک دستیاب ہوگا۔

بل میں مقامی طور پر تیار کردہ موبائل فونز کی سپلائی چین پر ٹرن اوور ٹیکس استثنٰی تجویز کیا گیا ہے تاہم یہ اس شعبے کو دستاویزی بنانے کے لیے انکم ٹیکس ریٹرنز کی فائلنگ سے منسلک ہے۔

ساتھ ہی توانائی پیدا کرنے والے منصوبوں کے لیے انکم ٹیکس استثنٰی جاری رہے گا جبکہ موجودہ یا نئی ریفائنریز کو ٹیکس استثنٰی کے حصول کے لیے حکومت کے ساتھ 31 دسمبر 2021 سے قبل انڈرٹیکنگ کرنا ہوگی۔

جرمانے

بل میں ان افراد کے لیے کچھ جرمانے تجویز کیے گئے ہیں جو اپنا انکم ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے۔

ریٹرن نہ فائل کرنے کی صورت میں اگر قابل ٹیکس آمدن 8 لاکھ روپے ہوئی تو ان پر کم از کم 5 ہزار روپے کا جرمانہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سال 2019 میں ایک کھرب 66 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس 'چوری' کا انکشاف

تاہم قانون کے مطابق ریٹرن فائل کرنے کی حتمی تاریخ یا توسیع شدہ تاریخ گزرنے کے ایک، 2 یا 3 ماہ بعد ریٹرن فائل کردیا گیا ہو تو جرمانہ 75، 50 یا 25 فیصد کم ہوسکتا ہے۔

جو شخص بھی کمشنر یا کمشنر کے مجاز کسی بھی افسر کے احاطے، مقام، اکاؤنٹس، دستاویز کمپیوٹرز یا اسٹاک تک رسائی کی راہ میں رکاوٹ بنے اسے ٹیکس کا 50 فیصد یا 50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

اس کے علاوہ کوئی بھی شخص جو نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) یا بزنس لائسنس آویزاں کرنے میں ناکام رہے اسے 5 ہزار روپے کا جرمانہ ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں