ایل جی کا موبائل فون نہ بنانے کا اعلان

05 اپريل 2021

ای میل

— فوٹو بشکریہ ایل جی
— فوٹو بشکریہ ایل جی

ایل جی نے اپنے اسمارٹ فون بزنس کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس طرح ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

ایل جی کسی زمانے میں موبائل فون کی دنیا کی چند بڑی کمپنیوں میں سے ایک تھی مگر سام سنگ اور چینی کمپنیوں نے اس کی مقبولیت ختم کردی۔

اس سے قبل جنوری میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ لگ بھگ مسلسل 6 سال تک نقصان برداشت کرنے کے بعد ایل جی نے ممکنہ طور پر اپنے اسمارٹ فونز بزنس کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تاہم اب کمپنی نے باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال جولائی میں موبائل بزنس کو ختم کیا جارہا ہے اور اب وہ اپنی توجہ اسمارٹ ہوم پراڈکٹس پر مرکوز کرے گی۔

ایل جی سے قبل بلیک بیری اور نوکیا جیسی کمپنیوں کو بھی مشکلات کے باعث اپنے اسمارٹ فون بزنس کو خیرباد کہنا پڑا تھا۔

اب یہ دونوں کمپنیاں دوبارہ مارکیٹ میں آگئی ہیں مگر ایچ ایم ڈی نوکیا برانڈ کا لائسنس رکھتی ہے جبکہ بلیک بیری نے کسی اور اشتراک کیا ہوا ہے۔

2007 میں جب پہلا آئی فون فروخت کے لیے پیش کیا گیا تو اس وقت ایل جی نوکیا، موٹرولا، سام سنگ اور سونی ایریکسن کے بعد 5 ویں بڑی موبائل فون کمپنی تھی۔

تاہم 2020 کے اختتام پر ایل جی دنیا کی 5 بڑی اسمارٹ فون کمپنیوں میں شامل نہیں تھی، حالانکہ ہواوے کو امریکی پابندیوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے مگر وہ تاحال سام سنگ، ایپل، شیاؤمی اور اوپو کے ساتھ 5 بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

ایل جی کے سی ای او نے 2020 کے اوائل میں عہدے کو سنبھالا تھا اور اس وقت وعدہ کیا تھا کہ 2021 میں موبائل ڈویژن کو منافع بخش بنایا جائے گا۔

انہوں نے اس حوالے سے کسی منصوبہ بندی کے بارے میں نہیں بتایا تھا، تاہم کمپنی کے منفرد فونز جیسے ویلوٹ اور ونگ لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکے۔

اب ایل جی نے جنوری 2021 میں رول ایبل فونز متعارف کرانے کا عندیہ دیا تھا تاہم موبائل فون بزنس کے خاتمے کے ساتھ اس منصوبے کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

2015 کے بعد سے ایل جی کا موبائل ڈویژن کبھی منافع کما نہیں سکا، جبکہ اب سام سنگ کے ساتھ اسے متعدد چینی کمپنیوں کی مسابقت کا بھی سامنا ہے۔