اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں بحث کیلئے لامحدود وقت کی پیشکش

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2021

ای میل

اصلاحات لانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی واحد فورم ہے، اسپیکر اسمبلی - فائل فوٹو:اے پی پی
اصلاحات لانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی واحد فورم ہے، اسپیکر اسمبلی - فائل فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد: اپوزیشن کی جانب سے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے حکومتی اقدام کو روکنے کے چار روز بعد اسپیکر اسمبلی اسد قیصر نے اہم قومی امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو 'لامحدود وقت' کے لیے ایوان میں بحث کرنے کی دعوت دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش کش اسپیکر کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن (ڈی بی اے) صوابی سے خطاب کے دوران اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے اسلام آباد میں ایک روز قبل وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے ملاقات کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں دی گئی۔

اسپیکر کی جانب سے یہ پیشکش صوابی میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب حلف برداری سے خطاب اور وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے اسلام آباد میں ملاقات کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کی گئی۔

ڈی بی اے سے خطاب کے دوران اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ وہ اپوزیشن کو قومی معاملات پر لامحدود وقت کے لیے بحث و مباحثہ کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں جس میں انتخابی اصلاحات، عدالتی اصلاحات، بھارت سے تجارت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: اپوزیشن کی انتخابی اصلاحات پینل بنانے کے حکومتی اقدام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشرتی و معاشی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، عوام کی فلاح و بہبود کا انحصار پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں کے اقدامات پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اصلاحات لانے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی واحد فورم ہے۔

قبل ازیں فواد چودھری سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے خاص طور پر اسمبلی کے فلور پر تاکہ ملک کو معاشرتی اور اقتصادی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات، عدالتی اصلاحات، بھارت کے ساتھ تجارت اور معاشی مشکلات جیسے معاملات پر اسمبلی میں غور ہونا چاہیے اور ان چیلنجز کو اجاگر کرنے میں اپوزیشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت کے دونوں بینچز عوام کے بہترین مفاد میں پالیسی اصلاحات لانے کے لیے اتفاق رائے پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی رہنماؤں کو مراسلہ ارسال

دوسری جانب دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اسپیکر کی پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ اسد قیصر آزادانہ طور پر کارروائی نہیں کررہے ہیں اور انہوں نے جانبدارانہ عمل سے پہلے ہی اس کو کمزور کردیا ہے۔

اسپیکر کی پیش کش پر رائے کے لیے رابطہ کرنے پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ 'ایوان کا نگہبان ہونے کے ناطے اسپیکر پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کے مطابق اسمبلی کی کارروائی کو لے کر چلے اور کسی کے لیے جانبداری کا مظاہرہ نہ کرے'۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریبا تین سالوں سے اسپیکر اجلاس کے دوران حکومتی اراکین کو محض ایک تماشائی کی حیثیت سے اپوزیشن کو 'گالیاں' دیتے دیکھ رہے تھے اور اب اچانک انہیں اپوزیشن کی اہمیت کا احساس ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کا انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط

انہوں نے اعلان کیا کہ اسپیکر نے پہلے ہی اپوزیشن کے ممبران کا اعتماد کھو دیا ہے اور اس لیے انہیں ایسی پیش کش کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اسی طرح پی پی پی کی انفارمیشن سیکریٹری اور رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ ان کی پارٹی اس پیش کش کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی کیونکہ یہ ایک 'بے اختیار' اسپیکر کی طرف سے آئی ہے جنہوں نے ہمیشہ وزرا کے حکم پر ایوان چلایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسپیکر نے آزادانہ طور پر فیصلے نہیں کیے۔