نیب کی شوکت ترین کی بریت کے خلاف درخواست پر جلد فیصلہ سنانے کی استدعا

اپ ڈیٹ 08 اپريل 2021

ای میل

شوکت ترین کو حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اقتصادی مشاورتی کونسل کا ممبر منتخب کیا گیا ہے۔  - فائل فوٹو:رائٹرز
شوکت ترین کو حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اقتصادی مشاورتی کونسل کا ممبر منتخب کیا گیا ہے۔ - فائل فوٹو:رائٹرز

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ رینٹل پاور پروجیکٹس (آر پی پیز) کیس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی بریت کے خلاف نیب کی اپیل کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ساہیوال رینٹل پاور پراجیکٹس کیس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جنوری 2020 میں سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین، چند سابق بیوروکریٹس اور پاور ہولڈنگ کمپنی کے ڈائریکٹرز کو بری کردیا تھا۔

شوکت ترین کو حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کا ممبر منتخب کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: شوکت ترین کو اقتصادی مشاورتی بورڈ کے سربراہ تعینات کیے جانے کا امکان

رینٹل پاور پروجیکٹس کیس میں شوکت ترین کو بری کرنے کے خلاف نیب کی اپیل کی سماعت جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔

واضح رہے کہ عبدالحفیظ شیخ کی وزیر خزانہ کے عہدے سے برطرفی کے بعد شوکت ترین وزارت خزانہ کی سربراہی کے لیے ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں اور انہیں مبینہ طور پر وفاقی کابینہ میں وزیر اعظم کے معاون یا مشیر کی حیثیت سے شامل ہونے کی پیش کش کی گئی ہے تاہم انہوں نے کابینہ میں اپنی شمولیت کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل پر فیصلے کے ساتھ جوڑ دیا۔

شوکت ترین پر آر پی پیز کے معاہدوں کی منظوری کا الزام ہے۔

احتساب ادارے نے 2014 میں راجا پرویز اشرف، شوکت ترین، سابق وفاقی سیکریٹریز اسمٰعیل قریشی اور شاہد رفیع، پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر طاہر بشارت چیمہ اور پیپکو کے ڈائریکٹرز رضی عباس، وزیر علی بھایو، سلیم عارف، عبدالقدیر خان اور اقبال علی شاہ کے خلاف یہ مقدمہ دائر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل نو کی منظوری دے دی

ملزمان پر قانونی فیس کے طور پر ادا کیے گئے 61 لاکھ روپے کا غلط استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا، شوکت ترین اس کیس کے ایک ملزم تھے۔

2009 میں اس وقت کی اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آر پی پیز کا کیس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے آر پی پیز کے معاہدوں کے ایوارڈ میں مبینہ غلط کاموں کی وجہ سے آر پی پیز کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2500 میگاواٹ بجلی کے شارٹ فال پر قابو پانے کے لیے آر پی پیز متعارف کرائے تھے۔

ایوین فیلڈ سزا کے خلاف اپیل

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ، مریم نواز شریف اور ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کی جانب سے ایوین فیلڈ کیس میں سزا سنائے جانے کے خلاف دائر تین درخواستوں پر بھی سماعت کرے گی۔

اس معاملے پر بھی نیب نے فوری سماعت کی استدعا کی تھی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 6 جولائی 2018 کو سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا سنائی تھی۔

احتساب عدالت نے نوازشریف کو ان کی آمدن سے زائد اثاثوں پر 10 سال قید اور 80 لاکھ ڈالر جرمانہ، مریم نواز کو 7 سال قید اور 20 لاکھ ڈالر اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم مجرمان نے اس سزا کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور عدالت نے سزا معطل کردی تھی۔

نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور عدالت سے استدعا کی کہ ان اپیلوں کی جلد سماعت کی جائے۔