ویکسین لگوانے کے لیے شناختی کارڈ کی شرط ’خطرناک‘ کیوں؟

30 اپريل 2021
رافعہ ذکریا وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔
رافعہ ذکریا وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں۔

پاکستان دوبارہ ایک دہانے پر کھڑا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں روز بروز ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے۔ کورونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی پھیلائی ہوئی ہے اور اس وائرس کی وجہ سے دنیا کے امیر ترین ملک میں 5 لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں ہونے والی ہلاکتیں بھی لاکھوں کی تعداد میں ہیں۔ اب یہ وائرس ایک بار پھر پاکستان کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔

چونکہ پاکستانیوں نے ماہِ رمضان میں سماجی فاصلے کا خیال رکھنا ترک کردیا تھا اس وجہ سے حکومت نے ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے فوج کو تعینات کردیا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے طاقت کا استعمال ایک بہتر طریقہ ہے۔ لگتا ہے کہ اب رمضان تنہائی میں گزرے گا اور عید کی خریداری ماضی کا قصہ بن جائے گی۔

اس قسم کے اقدامات کیوں ضروری ہیں یہ جاننے کے لیے صرف اپنے پڑوسی ملک کو ہی دیکھ لیجیے۔ بھارت میں کورونا وائرس کے ڈبل میوٹنٹ اسٹرین نے مریضوں کی تعداد کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ بھارت سے دل دہلا دینے والی تصاویر سامنے آرہی ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات رات دن بغیر کسی وقفے کے جاری ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق لاشوں کو جلانے کے لیے لوہے کے بنے جنگلے پر رکھا جاتا ہے، لیکن بغیر کسی وقفے کے لاشیں جلائے جانے سے وہ جنگلے بھی پگھلنے لگے ہیں۔

پڑھیے: بھارت میں کورونا وائرس کا بحران شدید تر، مختلف ممالک کی جانب سے تعاون کے وعدے

اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت کی وجہ سے آکسیجن لے جانے والے ٹینکروں کو پولیس کے حفاظتی حصار کی ضرورت پڑتی ہے۔ دہلی اور ممبئی آکسیجن کی قلت سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کے لیے آکسیجن حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آکسیجن کی زیادہ سے زیادہ پیداوار بھی آکسیجن کی طلب کو پورا نہیں کرسکے گی۔ خبروں کے مطابق بلیک مارکیٹ میں آکسیجن سلینڈروں کی فروخت زوروں پر ہے اور اس کی قیمت ایک عام شہری کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ ہے۔

کورونا وائرس کے اس بحران سے نمٹنے کی واحد صورت صرف ویکسین لگانا ہے۔ پاکستان میں حکومت نے 50 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کے لیے بغیر انتظار کے ویکسین لگوانے کی سہولت فراہم کردی ہے جو ایک احسن قدم ہے۔ (اس سے پہلے صرف 60 سال اور اس زائد عمر کے افراد کو یہ سہولت حاصل تھی)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کو خود کو رجسٹر کروانے کے بعد تاریخ اور کوڈ موصول ہونے کا انتظار نہیں کرنا ہوگا بلکہ وہ براہِ راست کسی بھی ویکسینیشن سینٹر جاکر ویکسین لگوا سکیں گے۔

حکومت اب 40 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی ویکسینیشن شروع کرنے والی ہے۔ کئی پاکستانی اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین سے درآمد شدہ سائنو فارم ویکسین لگوائیں گے، جس کے دو ڈوز لگ لگتے ہیں۔

پڑھیے: ویکسین یا لاک ڈاؤن: حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟

لیکن یہاں ایک بڑی مشکل موجود ہے۔ ویکسین لگوانے کے لیے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی شرط رکھی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ کم آمدن والے افراد، خواتین (خصوصاً زیادہ عمر کی خواتین) اور ایسے دیگر افراد جنہوں نے اب تک اپنا قومی شناختی کارڈ نہیں بنوایا ہے وہ ویکسین بھی نہیں لگوا سکیں گے۔ ان افراد میں گھریلو ملازمین بھی شامل ہیں جو دیہی علاقوں سے کام کی تلاش میں شہر آتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس ضروری دستاویزات اور پیدائشی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا جس وجہ سے ان کے لیے نادرا کی شرائط پوری کرنا مشکل ہوتا ہے۔

اسی طرح کے ایک معاملے میں لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو ملازمہ قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے اپنی والدہ کے شناختی کارڈ کے ہمراہ نادرا کے دفتر پہنچی۔ تاہم نادرا کے دفتر میں اسے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں اس کی والدہ غیر شادی شدہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نہ ہی اس کی والدہ کی شادی اور نہ ہی بعد میں ہونے والی طلاق کو نادرا میں رجسٹر کروایا گیا تھا۔ اس خاتون کے والد سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ یونین کونسل میں جاکر طلاق کو رجسٹر کروائے تاہم اس کے والد نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ اس وجہ سے وہ گھریلو ملازمہ اب تک شاختی کارڈ کے حصول میں ناکام رہی ہے۔ لہٰذا جب حکومت کی جانب اس کی عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن کا آغاز ہوگا تو وہ ویکسین کے لیے رجسٹریشن نہیں کروا سکے گی۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ویکسین لگوانے کے لیے شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کردیا جائے، خاص طور پر خواتین کے لیے ایسا ضرور ہونا چاہیے جو یونین کونسل میں شادی یا طلاق کی رجسٹریشن کے لیے اپنے والد یا شوہر پر منحصر ہوتی ہیں۔ ان کاغذات کا حصول تو عام حالات میں بھی مشکل ہوتا ہے اور وبا کے دنوں میں تو ان کا حصول تقریباً ناممکن ہے۔ خواتین کے لیے اپنے سابقہ شوہروں کے پیچھے بھاگنے اور یونین کونسل سے درست کاغذات کا حصول بہت مشکل کام ہے۔

وبا کی وجہ سے یہ پورا عرصہ دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوا ہے۔ کہیں انہیں گھر پر رہنے والے مردوں کے مطالبات اور جسمانی اور زبانی مظالم کا سامنا کرنا پڑا ہے تو کبھی گھر میں رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کرنے کی وجہ سے وہ اپنے کیریئر میں پیچھے رہ گئی ہیں اور کہیں وہ اس وبا سے مر رہی ہیں کیونکہ انہیں مناسب دیکھ بھال کے لیے اسپتال بھی نہیں لے جایا جاتا۔

پڑھیے: نظام صحت میں موجود صنفی عدم مساوات

حکومتِ پاکستان ویکسین لگوانے کی خواہش مند خواتین کی مدد کرسکتی ہے۔ ویکسین کے لیے شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے زیادہ سے زیادہ خواتین باآسانی ویکسین لگواسکیں گی۔ اس سے نہ صرف وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا کہ ایک مرد کے کسی غلط قدم کی وجہ سے کوئی عورت ویکسین سے محروم نہ رہے۔

کورونا وائرس کسی کو اپنا شکار بنانے سے قبل یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے پاس شناختی کارڈ ہے یا نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان خواتین کے لیے کہ جن کے پاس ضروری دستاویزات نہیں ہیں، شناختی کارڈ کی شرط ختم کردے۔ اس کے علاوہ طویل مدت میں شادی، طلاق اور دیگر معاملات کی نادرا میں رجسٹریشن کو آسان بنانا ہوگا۔ پاکستان میں عوام کو ویکسین لگانے کی کوششوں میں غریب پاکستانی خواتین کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ جان بوجھ کر ان خواتین کو اس مہلک وائرس کا شکار ہونے اور موت کے خطرے سے دوچار کرنے کے مترادف ہوگا۔


یہ مضمون 28 اپریل 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

اپنی رائے دیجئے

1
تبصرے
1000 حروف
زاہد بٹ May 02, 2021 12:57pm
شکریہ آپ نے بہت اچھا نقطہ اٹھایا نادرا کا تو پورا کا پورا سسٹم ہی عجیب و غریب منتق پر مشتمل ہے، عوام پر وبال جان بنا ہوا ہے۔