پاکستان میں اپوزیشن اتحاد مثبت تبدیلی کیوں نہیں لاتے؟

بانئ پاکستان قائدِاعظم قیامِ پاکستان کے بعد صرف 13 ماہ زندہ رہے اور یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر اور بھارت کے پہلے وزیرِاعظم جواہر لال نہرو کی طرح قائدِ اعظم کو بھی دہائی نہیں تو سال 2 سال مزید مل جاتے تو پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ اور نوزائدہ پاکستان کہ ساتھ وہ ناروا سلوک نہ ہوتا جو بعد کے برسوں میں ہوا۔

لیکن یہاں اہم ترین بات یہ ہے کہ قائدِاعظم محمد علی جناح کی اس مختصر زندگی میں ہی اپوزیشن کی بنیاد پڑگئی تھی۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ مشرقی پاکستان کی ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے پہلے اور آخری خطاب میں جب انہوں نے انگریزی زبان میں خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی واحد زبان اردو ہوگی تو ان کی موجودگی میں ہی کچھ پُرجوش طلبہ نے اپنے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ بنگالی زبان کی بنیاد پر بننے والی عوامی لیگ کا دراصل اسی دن ظہور ہوا اور پھر 23 سال کی طویل جدوجہد اور ہزاروں بنگالیوں کی قربانی کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ایک الگ مضمون ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام میں پڑوسی ملک بھارت کا کتنا بڑا کردار تھا۔

بلاشبہ بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجاب کی اشرافیہ کے نمائندہ میاں افتخارالدین کی قیادت میں 1954ء میں قائم ہونے والی آزاد پاکستان پارٹی کو اپوزیشن کا پہلا اتحاد کہا جاسکتا ہے۔ یہ جماعت 1956میں مشرقی پاکستان کی مضبوط بنگالی تحریک سے جڑ کر (نیپ) یعنی نیشنل عوامی پارٹی کی صورت میں پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے مقابل ایک بڑے محاذ کی صورت میں کھڑی ہوئی کہ جس کے بارے میں مؤرخین کا کہنا ہے کہ اگر 1956ء کے آئین کے تحت وطنِ عزیز میں پہلے آزادانہ انتخابات ہوجاتے تو عنان حکومت نیپ کے ہاتھوں میں ہوتی۔

مزید پڑھیے: ابھی تحریکِ انصاف کی حکومت کو 4 جمعے نہیں گزرے کہ۔۔۔

فیلڈ مارشل ایوب خان کا مارشل لا اکتوبر 1958ء میں آیا۔ مگر اس کی بنیاد اس وقت پڑگئی تھی جب انگریز کمانڈر ان چیف جنرل گریس نے ہمارے آرمی چیف جنرل ایوب خان کی گرہ میں یہ بات باندھ دی تھی کہ مستقبل کے پاکستان کی بقا کے لیے سویلین وزیرِاعظم کے مقابل آرمی چیف کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا۔

فیلڈ مارشل ایوب خان کا مارشل لا اکتوبر 1958ء میں آیا
فیلڈ مارشل ایوب خان کا مارشل لا اکتوبر 1958ء میں آیا

ایوب خان کی حکومت گرانے کے لیے یقیناً نوابزادہ نصر اللّٰہ کی قیادت میں ایک متحدہ محاذ بنا۔ پھر بھٹو صاحب کی صورت میں ایک بڑے عوامی اُبھار نے ایوبی آمریت کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 1970ء کے انتخابات اور اس کے نتیجے میں سقوط ڈھاکہ اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا عروج و زوال تاریخ کے حوالے سے اب ایک بھولی بسری داستان ہے۔

پی این اے یعنی پاکستان نیشنل الائنس کا قیام وطنِ عزیز میں وہ پہلا اپوزیشن اتحاد تھا جو بھٹو صاحب کی سویلین حکومت ختم کرنے کے لیے وجود میں آیا اور جس میں جماعتِ اسلامی جیسی دائیں بازو کی جماعت بھی تھی اور ترقی پسند سیکولر جماعت نیشنل عوامی پارٹی بھی، مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پی این اے کو شورش زدہ اسٹریٹ پاور بنانے میں براہِ راست امریکا بہادر کا ہاتھ تھا جو مقبول عوامی لیڈر کو پہلا اسلامی بم بنانے کی پاداش میں مثالی سزا دینا چاہتا تھا۔

اس وقت کے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر برگیڈیئر (ر) ترمذی نے اپنی کتاب میں تفصیل سے بھٹو حکومت گرانے میں سی آئی اے، پی این اے گٹھ جوڑ کا ذکر کیا۔ یہاں قطعی طور پر پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو معصوم اور مظلوم ٹھہرانا مقصود نہیں کہ اپنے خلاف خود اپوزیشن کو مضبوط بنانے میں ان کی پالیسیوں کا بھی بڑا دخل تھا، کہ ایک طاقتور عوامی رہنما ہونے کے باوجود ان کے اندر کا فیوڈل ختم نہیں ہوا اور جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کو ٹھڈے مار مار کر پی این اے تحریک کی طرف دھکیل دیا۔

بھٹو اور پی این اے ممبران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ایک منظر
بھٹو اور پی این اے ممبران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ایک منظر

مگر بھٹو صاحب کی حکومت کو ختم کرنے میں محض پی این اے اور امریکا بہادر ہی بنیاد نہیں بنے، خود جنرل ضیا الحق کے سرکردہ جنرل اپنی کتابوں میں اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ مارچ 1977ء کے انتخابات کے بعد ہی سے جی ایچ کیو میں سلیپنگ سیل بنا دیا گیا تھا جن کے پی این اے قیادت سے قریبی تعلقات استوار تھے۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جس طرح ہزاروں فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تھے اس کے بعد بحیثیت فوج ایک ادارے کا مورال بلند کرنے میں سب سے اہم کردار بھٹو صاحب نے ہی ادا کیا۔ پھر پہلے اسلامی سربراہ کانفرنس سے بھی دراصل منتخب سویلین حکومت سے زیادہ فوج ہی مستحکم ہوئی۔

مزید پڑھیے: کیا عمران خان بھٹو بن سکتے ہیں؟

جیسے جیسے فوج مضبوط اور منظم ہوتی گئی ساتھ ہی ایک بار پھر اصلی تے وڈے حکمراں بننے کی خواہش ان میں پھنکارنے لگی۔ اس بات کی نہ تو تصدیق کی جا سکتی ہے اور نہ ہی مستند ثبوت کہ پی این اے، ضیا فوجی ٹولہ اور واشنگٹن کے ٹرائکا نے ایک منظم منصوبے کے تحت بھٹو حکومت ختم کرنے کی سازش یا حکمتِ عملی بنائی تھی۔ تاہم ان تینوں میں ایک بات قدرِ مشترک تھی کہ ہر صورت میں بھٹو جیسے پاپولر لیڈر کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے محض سیاسی نہیں جسمانی طور پر ختم کیے بغیر ان کا مستقبل تابناک نہیں ہوسکتا۔

پی این اے اگر واقعی سیاسی جہموری اتحاد ہوتا تو نہ وہ فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی نگراں حکومت کا حصہ بنتا اور نہ ہی بھٹو صاحب کی پھانسی کے ساتھ اس کا شیرازہ بکھرتا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل ضیا کی طاقتور حکومت کے خلاف بننے والا اتحاد یعنی تحریک بحالی جمہوریت یا ایم آر ڈی کا قیام 1981ء میں عمل میں آیا۔ تاریخ کا جبر دیکھیں کہ کراچی میں 70 کلفٹن میں ایم آر ڈی کی تشکیل کے لیے پہلا اجلاس ہوا تو اس میں ایئر مارشل اصغر خان بھی شامل تھے کہ جنہوں نے بھٹو صاحب کو کوہالا کے پُل پر پھانسی چڑھانے کی دھمکی دی تھی۔

ایم آ رڈی کے ایک اجلاس کا منظر: تصویر میں بینظیر بھٹو، معراج محمد خان، نوابزادہ نصراللہ خان، فتحیاب علی خان، بی ایم کٹی اور دیگر رہنما نظر آرہے ہیں۔ —تصویر بشکریہ سہیل سانگی
ایم آ رڈی کے ایک اجلاس کا منظر: تصویر میں بینظیر بھٹو، معراج محمد خان، نوابزادہ نصراللہ خان، فتحیاب علی خان، بی ایم کٹی اور دیگر رہنما نظر آرہے ہیں۔ —تصویر بشکریہ سہیل سانگی

پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل ضیا کی طاقتور حکومت کے خلاف بننے والا اتحاد یعنی تحریک بحالی جمہوریت یا ایم آر ڈی کا قیام 1981ء میں عمل میں آیا
پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل ضیا کی طاقتور حکومت کے خلاف بننے والا اتحاد یعنی تحریک بحالی جمہوریت یا ایم آر ڈی کا قیام 1981ء میں عمل میں آیا

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سرپرست خان عبدالولی خان نے 4 اپر یل 1979ء کو بھٹو کو پھانسی دیے جانے کے بعد بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’بھٹو ایک سانپ تھا جس کا سر بوٹ ہی کچل سکتے تھے‘۔

ایم آر ڈی کی تحریک کو پہلا دھچکا مارچ 1981ء میں پی آئی اے کے جہاز کی ہائی جیکنگ سے لگا۔ اس واقعے کی ذمہ داری الذوالفقار نامی ملیٹنٹ تنظیم نے قبول کی جس کے بانی بھٹو صاحب کے صاحبزادگان مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو کابل میں مقیم تھے۔

ایم آر ڈی تحریک نے ضیا حکومت کو دہلا دیا۔ اس تحریک کی ناکامی کا ایک بڑا سبب سب سے بڑے صوبے پنجاب میں عوام کا بڑے پیمانے پر متحرک اور مزاحمت نہ کرنا اور اس کا سندھ تک محدود ہونا تھا۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دم توڑنے کے بعد اگلے 5 سال ضیا الحق کی فوجی حکومت کے خلاف کوئی بڑی مزاحمتی تحریک نہیں چلی حتیٰ کہ خود ایک پُراسرار سانحے کی صورت میں فوجی حکمران جنرل ضیا الحق اس جہان سے کوچ کرگئے۔

ایم آر ڈی کی تحریک کو پہلا دھچکا مارچ 1981ء میں پی آئی اے کے جہاز کی ہائی جیکنگ سے لگا
ایم آر ڈی کی تحریک کو پہلا دھچکا مارچ 1981ء میں پی آئی اے کے جہاز کی ہائی جیکنگ سے لگا

90ء کی دہائی میں جو اتحاد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں بنے اس میں سیاسی جماعتوں سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کا کردار تھا۔

80ء اور پھر 90ء کی دہائی میں جس اپوزیشن کے اتحاد نے شہرت حاصل کی وہ اسلامی جمہوری اتحاد یعنی آئی جے آئی تھا۔ جس کی بنیاد ڈالنے میں اس وقت کے پرائم ایجنسی کے ایک میجر اور برگیڈیئر بڑے کریڈٹ لے کرگئے، میری مراد ریٹائرڈ میجر عامر اور برگیڈیئر امتیاز عرف بلا سے ہے۔

پاکستان میں تیسرے مارشل لا کے داعی جنرل پرویز مشرف کے خلاف کوئی بڑا اپوزیشن اتحاد وجود میں نہیں آیا۔ تاہم کالے کوٹوں کی قیادت میں جو تحریک چلی اس میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) سمیت ساری ہی اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں چلنے والی وکلا تحریک میں ساری ہی اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں—رائٹرز
جنرل پرویز مشرف کے دور میں چلنے والی وکلا تحریک میں ساری ہی اپوزیشن جماعتیں شامل تھیں—رائٹرز

مزید پڑھیے: پی ڈی ایم کا مستقبل اب کیا ہوگا؟

2008 ء اور پھر 2013ء میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی باریاں لگیں۔ ایک اعتبار سے سیاسی طور پر یہ ماہ و سال جمہوریت کے حوالے سے خوشگوار ہوا کا جھونکا کہلائیں گے کہ اس دوران کوئی عسکری مہم جوئی نہ ہوئی۔

2013ء میں تحریکِ انصاف ایک تیسری قوت بن کر سامنے آئی اور 2018ء میں 20 سال کی طویل جہدوجہد کے بعد عمران خان نے باریاں لگانے والی دونوں سیاسی جماعتوں کی بساط لپیٹ دی مگر اس کی کاری ضرب حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی جمیعت پر لگی کہ جس کے ضیا مارشل لا کے بعد سے بقول شخصے عیش لگے ہوئے تھے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم نامی اپوزیشن اتحاد دراصل حضرت مولانا کا ہمارے خان صاحب سے انتقام لینے کے لیے وجود میں آیا۔

پی ٹی آئی حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی صورت میں اپوزیشن اتحاد قائم ہوا
پی ٹی آئی حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی صورت میں اپوزیشن اتحاد قائم ہوا

حضرت مولانا صوبہ بدر ہی نہیں، اپنے آبائی حلقے سے بھی باہر ہوگئے۔ 16 اکتوبر 2020ء کو حضرت مولانا فضل الرحمن کی خوشی دیدنی تھی کہ جب چیختی چلاتی اسکرینوں میں دائیں اور بائیں 2 مین اسٹریم جماعتوں کی نوجوان قیادت کی جُلو میں حضرت مولانا نے اعلان کیا کہ مارچ میں لانگ مارچ ہوگا جو اسلام آباد سے وزیرِاعظم عمران خان کی رخصتی ہی پر اختتتام پذیر ہوگا۔

اس وقت اسلام آباد کے سیاسی اور صحافتی پنڈت کورس کی صورت میں اس کی کامیابی کے شادیانے بجا رہے تھے۔ سینیٹ کے الیکشن اور پھر این اے 249 کراچی کے انتخابات کے بعد پی ڈی ایم کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر جس طرح پھوٹی ہے اس پر حضرت مولانا کی آہ و زاریاں بجا طور پر جائز ہیں۔

بہرحال 1977ء کے پی این اے سے لے کر 2021ء کے پی ڈی ایم تک افسوسناک امر یہ ہے کہ ان اتحادوں کے نتیجے میں جمہوری ادارے مستحکم ہونے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ ہی زیادہ مضبوط ہوئی۔

اپنی رائے دیجئے

1
تبصرے
1000 حروف
یمین الاسلام زبیری May 21, 2021 09:57pm
قائد کے اعلان کہ اردو قومی زبان ہوگی کے بعد بنگال میں اس کی مخالفت ہوئی۔ لیکن اس وقت تک یہ جواز دیے جا سکتے تھے کہ ایک تو ، اردو ـ ہندی جھگڑا ہندوستان کے بٹوارے کی ایک بنیاد تھا۔ دوسرے، پاکستان کے کسی بھی صوبے کی زبان اردو نہیں ہے اور ان کے درمیان اردو ایک رابطے کی زبان کے طور پر ہو گی۔ لیکن ایوب کے ون یونٹ کے اعلان کے بعد یہ جواز اپنی قدر کھو رہا۔ اب مغربی پاکستان اردو ہوگیا؛ اور مشرقی پاکستان جہاں بنگلہ بولی جاتی تھی کو بھی ، قائد کے اعلان کے مطابق، اردو پر مجبور کیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ون یونٹ نہ بنتا اور سیاستدانوں کو موقع رہتا تو کوئی حل ضرور نکالا جا سکتا تھا۔ ویسے بنگلہ دیش بننے کا سب سے بڑی بنیاد عدم معاشی استحکام رہا۔