آئی سی سی نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا پوائنٹس نظام تبدیل کردیا

15 جولائ 2021
ڈبلیو ٹی سی میں مد مقابل تمام ٹوپ نائن ٹیمیں تین تین سیریز کی میزبانی کریں گی اور تین سیریزبیرون ملک میں کھیلیں گی— فائل فوٹو؛ اے پی
ڈبلیو ٹی سی میں مد مقابل تمام ٹوپ نائن ٹیمیں تین تین سیریز کی میزبانی کریں گی اور تین سیریزبیرون ملک میں کھیلیں گی— فائل فوٹو؛ اے پی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اگلی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) کےلیے پوائنٹس کے نظام میں تبدیلی کر دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 23-2021 کے درمیان ہونے والے ٹیسٹ میچوں میں کامیابی حاصل کرنے والی ٹیموں کو 12 پوائنٹس دیے جائیں گے۔

میچ ڈرا ہونے پر 4 پوائنٹس جبکہ میچ برابر(ٹائی) ہونے پر دونوں ٹیموں کو 6،6 پوائنٹس حاصل ہوں گے، ورلڈ ٹیسٹ چمپیئن شپ میں میں پوائنٹس ٹیبل پر نمبر کے لیے حاصل کردہ پوائنٹس کی شرح استعمال کی جائے گی۔

کرکٹ کی گورننگ باڈی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چیزوں کو آسان بنانے کے لیے تبدیلی کی گئی ہے، پرانے نظام کے تحت ہر سیریز کے لیے پوائنٹس کی ایک ہی تعداد مختص کی جاتی تھی لیکن اسے کھیلے گئے میچوں کی تعداد سے تقسیم کیا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:نیوزی لینڈ کا بھارت کیخلاف ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ

آئی سی سی نے مجموعی پوائنٹس کی شرح کے حقیقی نظام میں پہلی چیپیئن شپ کے لیے تبدیلی کی جو کورونا کی عالمی وبا کے باعث شدید متاثر ہوئی تھی۔

آئی سی سی کے قائم مقام چیف ایگزیکٹیو جیف الارڈائس نے کہا کہ عالمی وبا کے دوران ہمیں پوائنٹس ٹیبل پر رینکینگ ٹیموں کو ہر ٹیم کے حاصل کیے گئے دستیاب پوائنٹس کی شرح استعمال کرتے ہوئے تبدیلی کرنی پڑی، جس سے ہمیں فائنل ٹیموں کے تعین میں مدد ملی اور ہم اس قابل ہوئے کہ چیمپئن شپ کو شیڈول وقت کے اندر مکمل کریں۔

آئی سی سی کے سی ای او نے کہا کہ ہمیں رائے دی گئی کہ سابقہ پوائنٹس سسٹم کو آسان بنانے کی ضرورت ہے، کرکٹ کمیٹی نے ہر میچ کے لیے معیاری پوائنٹس کا ایک نیا نظام تجویز کرتے وقت اس کو زیر غور لایا۔

انگلینڈ میں ساؤتھمپٹن کے ایجز باول میں نیوزی لینڈ نے بھارت کو فائنل میں شکست دی تھی، باوجود کہ 6 روزہ میچ کے دو سے زائد دن بارش سے متاثر ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ: خیال سے حقیقت تک کا سفر

نیوزی لینڈ اگلے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) سائیکل میں جنوبی افریقہ ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کی میزبانی کرے گا اور گھر سے باہر انگلینڈ، پاکستان اور بھارت میں سیریز کھیلے گا۔

نیوزی لینڈ کے علاوہ بھارت بھی سری لنکا اور آسٹریلیا کی میزبانی کرے گا اور بنگلہ دیش، انگلینڈ اورجنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے لیے جائے گا۔

آسٹریلیا کو انگلینڈ سے شکست کے بعد نومبر میں ہوم گراونڈ میں منعقدہ پانچ ٹیسٹ ایشزسیریز کی سائیکل سے باہر نکال جائے گا

آسٹریلیا اپنے ہوم گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف 5 ٹیسٹ میچوں کی ایشز سیریز کے ساتھ سائیکل کا آغاز کرے گا اور جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کی بھی میزبانی کرے گا۔

آسٹریلیا کی تمام بیرونی سیریز ایشیا میں بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایشز سیریز کے ساتھ تاریخ کی پہلی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا آغاز

ڈبلیو ٹی سی میں شامل ٹیسٹ کھیلنے والی سرفہرست تمام 9 ٹیمیں 3،3 سیریز کی میزبانی اور 3 سیریز بیرون ملک کھیلیں گی، چیمپئن شپ کے لیےمیچوں کی مقررہ تاریخ 31 مارچ 2023 ہوگی۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ویلیم سن نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ٹائٹل کے دفاع کی کوشش ایک چیلنج ہوگی لیکن ہماری توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ ہم تیار رہیں اور اس کے علاوہ ہم اپنی کارکردگی کی سطح برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ ہم اگلے شروع ہونے والے سائیکل میں نئے عزم کے ساتھ یک جا ہوں گے جو انگلینڈ کے خلاف ہماری سیریز کے ساتھ شروع ہورہا ہے، امید ہے کہ ہم اپنے مداحوں کو جشن منانے کے لیے بہت کچھ دے پائیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں