برطانوی عدالت کا نیب کو 12 لاکھ ڈالر براڈشیٹ کو ادا کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 03 اگست 2021
ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر لاگو ہوجائے گا— فائل فوٹو: رائٹرز
ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر لاگو ہوجائے گا— فائل فوٹو: رائٹرز

لندن کی ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور حکومتِ پاکستان کو اثاثہ برآمدگی فرم براڈشیٹ ایل ایل سی کو آئندہ ہفتے تک 12 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے نیب اور پاکستانی حکومت کو 12 لاکھ 22 ہزار 37 ڈالر اور 110 پاؤنڈز کے ساتھ ساتھ نیب کے وکیل کو دعویدار کی درخواست کی لاگت کے 26 ہزار 296 پاؤنڈ 10 اگست کی شام ساڑھے 4 بجے تک ادا کرنے کا حکم دیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ نیب کی لاء فرم ایلین اینڈ اووری حکومتِ پاکستان سے موصول ہونے والے فنڈز 13 اگست کی شام تک براڈشیٹ کی لاء فرم ایل ایل سی سولیسٹرز کروویل اینڈ مورنگ کو ادا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی جج کی براڈ شیٹ فیصلے میں نیب کی سرزنش

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر حکومت پاکستان اور نیب نے اپنے وکلا کو براڈشیٹ کو ادائیگی کے لیے رقم فراہم نہ کی تو براڈشیٹ کے وکیل یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ (یو بی ایل یو کے) کو نوٹیفائی کریں گی اور پھر بینک اس رقم کی ادائیگی کرے گا۔

ادائیگی میں ناکامی کی صورت میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر لاگو ہوجائے گا جو کریڈیٹر کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جس کے پاس بھی رقم ہے اس سے لے لے۔

نیب اور براڈشیٹ ایک مرتبہ پھر عدالت میں اس وقت پہنچے جب دونوں قانونی اخراجات اور سود کی ادائیگی پر متفق نہیں ہوسکے تھے۔

نیب کی جانب سے وکلا نے 12 لاکھ 22 ہزار 37 ڈالر اور 110 پاؤنڈز ادا کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن براڈشیٹ کی جانب سے 33 ہزار پاؤنڈ سود اور 35 ہزار پاؤنڈ کے قانونی اخراجات ادا کرنے کی مخالفت کی۔

مزید پڑھیں: برطانوی صحافی نے کاوے موسوی کی شہزاد اکبر سے ملاقات میں کردار ادا کیا

چنانچہ عدالت نے حکم دیا کہ 12 لاکھ ڈالر اور 110 پاؤنڈ کی ادائیگی کے ساتھ نیب اور حکومت پاکستان براڈشیٹ کو 26 ہزار 296 پاؤنڈز بھی ادا کریں گے، یہ رقم براڈشیٹ کے سود اور اخراجات کی مد میں کیے گئے مطالبے سے کم ہے۔

خیال رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے تقریباً 20 سال قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کی غیر ملکی جائیدادوں کی تحقیقات کے لیے براڈشیٹ سے معاہدہ کیا تھا۔

دسمبر 2018 میں برطانوی عدالت نے واحد ثالث کے طور پر حکومت پاکستان کو براڈشیٹ کو 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔

جولائی 2019 میں حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی جو ناکام رہی، ثالثی عدالت کے مطابق پاکستان اور نیب نے غلط طور پر براڈشیٹ کے ساتھ اثاثہ برآمدی کا معاہدہ ختم کیا اور کمپنی کو نقصان کا ہرجانہ ادا کیے جانے کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدے کی تحقیقات کا حکم

جس کے بعد براڈشیٹ مذکورہ رقم کی ادائیگی کے لیے 6 ماہ تک نیب عہدیداران کے علاوہ اٹارنی جنرل کے ساتھ بات چیت کرتی رہی۔

اکتوبر 2019 میں کاوے موسوی نے 2 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادائیگی کا مطالبہ کرنے کے لیے شہزاد اکبر سے ملاقات کی جنہوں نے قومی خزانے کا نقصان کم کرنے کے لیے رعایت طلب کی۔

کاوے موسوی نے رعایت کی درخواست مسترد کردی اور ادائیگی پر عملدرآمد کے لیے عدالت سے رجوع کیا جس پر کمپنی دسمبر 2019 میں تھرڈ پارٹی ڈیٹ آرڈر حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جس نے حکومت پاکستان کو 2 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بمع سود براڈشیٹ کو ادا کرنے پر مجبور کیا۔

اس وقت سے لے کر اثاثہ برآمدگی کمپنی اپنی خدمات کی ادائیگی محفوظ بنانے کے لیے برطانیہ میں حکومتِ پاکستان سے تعلق رکھنے والے متعدد اداروں کو ہدف بنا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: براڈ شیٹ کمپنی کو 15 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا ریکارڈ غائب ہے، کمیشن کا انکشاف

براڈشیٹ نے ایون فیلڈ ہاؤس کے 4 فلیٹس پر بھی دعویٰ کیا تھا جسے بعد میں عدالت نے خارج کردیا تھا لیکن کمپنی نے حکومتِ پاکستان کو خط لکھ کر نیب کے ذمہ واجب الادا رقم برآمد کروانے کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط کروانے کی بھی دھمکی دی تھی۔

قل ازیں حکومت پاکستان سے اپنے واجبات حاصل کرنے کے لیے براڈشیٹ کے وکلا نے شریف لیگل ٹیم سے بھی رابطہ کیا تھا جس پر عمل نہ ہوسکا۔

رواں برس جنوری میں برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ نے نیب کی جانب سے براڈشیٹ کو جرمانے کی عدم ادائیگی پر پاکستانی ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے 2 کروڑ 87 لاکھ ڈالر منہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

نیب پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے، رہنما پی پی پی

براڈشیٹ کیس میں نیب کے خلاف برطانوی عدالت کے نئے حکم نامے پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ نیب، بین الاقوامی میدان میں پاکستان کے لیے بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب اور مشیر احتساب شہزاد اکبر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیا جائے اور پارلیمان کو بتایا جائے کہ نیب افسران کے بیرونِ ملک دوروں پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور ملکی و غیر ملکی وکلا کو کتنی فیس ادا کی جاچکی ہے۔

قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر نے الزام لگایا کہ حکومت اور نیب کے گٹھ جوڑ نے کھربوں روپے چرا کر سیاسی مخالفین کے خلاف ضائع کیے۔

تبصرے (0) بند ہیں