طالبان کو امریکا میں موجود اثاثوں تک رسائی نہیں ملے گی، امریکی حکام

اپ ڈیٹ 17 اگست 2021
ایک فرد کا کہنا تھا کہ زیادہ تر فنڈز افغانستان سے باہر ہیں—تصویر: رائٹرز
ایک فرد کا کہنا تھا کہ زیادہ تر فنڈز افغانستان سے باہر ہیں—تصویر: رائٹرز

واشنگٹن: امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا کہ طالبان کو امریکی اکاؤنٹس میں موجود افغان ذخائر تک رسائی نہیں دی جائے گی۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب طالبان کے تیزی سے قبضے کے بعد امریکی افواج افغانستان کے دارالحکومت کابل سے انخلا کررہی ہیں۔

امریکی عہدیدار نے کہا کہ افغان حکومت کا امریکا میں مرکزی بینک کا کوئی بھی اثاثہ موجود ہوا تو وہ طالبان کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:جو بائیڈن نے افغانستان کی صورتحال کا ملبہ افغان فوج، رہنماؤں پر ڈال دیا

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق مرکزی بینک کے مجموعی ذخائر اپریل تک 9 ارب 40 کروڑ ڈالر تھے۔

تاہم اس معاملے سے باخبر ایک فرد کا کہنا تھا کہ زیادہ تر فنڈز افغانستان سے باہر ہیں، فوری طور پر یہ بھی واضح نہیں ہوسکا کہ امریکا میں کونسے اثاثے موجود ہیں۔

ملک کے مرکزی بینک کے گورنر اجمل احمدی نے اتوار کے روز ایک فوجی طیارے میں ملک سے فرار ہونے والے اپنے خوفناک فرار کی تفصیل فراہم کرنے کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا، اس سے قبل انہوں نے اور ان کی حکومت نے دارالحکومت کی جانب طالبان کی پیش قدمی کے دوران کرنسی کی قدر مستحکم رکھنے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: 'مسئلہ ادھورا رہ گیا'، افغانستان سے امریکی انخلا پر عالمی رہنماؤں کا ردعمل

اجمل احمدی کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کو جمعے کے روز بتایا گیا تھا کہ ’بگڑتے ہوئے ماحول کے باعث ہمیں مزید ڈالرز کی شپمنٹ نہیں ملے گی اور انہوں نے ہفتہ کے روز بینکوں اور منی ایکسچینجرز کو یقین دہانی کروانے کے لیے ان سے ملاقات کی تھی۔

ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایک مرتبہ جب صدر کی روانگی کا اعلان ہوگیا تو مجھے معلوم تھا کہ چند لمحات میں افراتفری جنم لے لے گی، میں انہیں منتقلی کے منصوبے کے بغیر یہ کرنے پر کبھی معاف نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ اس طرح سے ختم نہیں ہونا تھا، مجھے افغان قیادت کی جانب سے کوئی منصوبہ بندی نہ ہونے پر سخت غصہ ہے، جنہیں بغیر کسی کو اطلاع دیے ایئرپورٹ سے جاتے ہوئے دیکھا gia تھا'۔

تبصرے (0) بند ہیں