اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے نئے سیکٹرز میں ججز کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کردی

اپ ڈیٹ 21 اگست 2021
عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کیا اور وزارت ہاؤسنگ سے معاشرے کے چند طبقات میں پلاٹوں کی تقسیم کی پالیسی پر وضاحت طلب کی — فائل فوٹو:اسلام آباد ہائی کورٹ ویب سائٹ
عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کیا اور وزارت ہاؤسنگ سے معاشرے کے چند طبقات میں پلاٹوں کی تقسیم کی پالیسی پر وضاحت طلب کی — فائل فوٹو:اسلام آباد ہائی کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت کی عدلیہ کو سیکٹر ایف-14 اور ایف-15 میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ معطل کرتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے کہ زمین کا یہ ایوارڈ سراسر مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کیا اور وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے معاشرے کے چند طبقات میں پلاٹوں کی تقسیم کی پالیسی پر وضاحت طلب کی۔

13 ستمبر کو اس کیس کی مزید سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) نے رائے شماری کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد اور اعلیٰ عدلیہ کے دیگر ججز کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر وقار مسعود خان اور ڈاکٹر شہزاد ارباب سمیت بیوروکریٹس کو پلاٹ الاٹ کیے تھے۔

مزید پڑھیں: کسی جج نے پلاٹ الاٹمنٹ کیلئے درخواست نہیں دی، رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ

سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد انہیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر ترقی دی گئی۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد کے گاؤں تھلہ سیداں اور جھنگی سیداں میں جائیدادوں کے مالکان کی جانب سے ان کی زمین کے حصول کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کر رہے تھے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ 'یہ اطلاع ملی ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی نے حال ہی میں ایف-14 اور ایف-15 میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے لیے بیلٹنگ کی ہے، فہرست سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں کا عملی طور پر ہر جوڈیشل افسر، جس نے متاثرہ زمین کے مالکان کی شکایات اور حقوق کو حل کرنے اور فیصلہ کرنا ہے، اس سے فائدہ اٹھانے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے مفادات کے تصادم کے حوالے سے سنجیدہ سوالات سامنے آتے ہیں کیونکہ فائدہ اٹھانے والوں کو موجودہ مارکیٹ ریٹ سے کافی کم قیمت پر پلاٹ دیے جائیں گے اور اس طرح ہر فائدہ اٹھانے والے کا مالی مفاد ہوتا ہے، فہرست میں وہ عدالتی افسران بھی شامل ہیں جنہیں بدعنوانی کی وجہ سے برطرف کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قرعہ اندازی میں چیف جسٹس سمیت متعدد ججز و بیوروکریٹس کے پلاٹ نکل آئے

جسٹس اطہر من اللہ نے مشاہدہ کیا کہ جوڈیشل افسر جو اس عدالت کی جانب سے سزا یافتہ تھا اور جسے بعد میں اگست میں سپریم کورٹ نے طیبہ نامی بچی کے کیس میں سزا کو برقرار رکھا تھا، وہ بھی اس سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے ہے۔

آئی ایچ سی کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 'اسی طرح جوڈیشل افسر جو جعلی ڈگری (ایگزیکٹ) کیس میں بدعنوانی کے الزامات پر برطرف کیا گیا تھا وہ بھی ایک الاٹی ہے'۔

ایف جی ای ایچ اے کے ریکارڈ کے مطابق تین برطرف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز پرویزالقادر میمن، راجہ خرم علی خان اور جہانگیر اعوان کو ایف 14 اور ایف 15 میں ایک، ایک کنال پلاٹ الاٹ کیا گیا جبکہ دو سابق سول ججز عدنان جمالی اور امیر خلیل کو ان شعبوں میں 14 مرلہ ایک، ایک پلاٹ دیا گیا۔

پرویزالقادر میمن کو فروری 2018 میں ایگزیکٹ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) شعیب شیخ کو بری کرنے کے لیے رشوت لینے پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

راجہ خرم علی خان کو طیبہ تشدد کیس میں سزا سنائی گئی تھی اور ملازمت سے برطرف کردیا گیا تھا جبکہ جہانگیر اعوان کو گزشتہ سال شاہراہ دستور پر جھگڑے کے دوران ہوائی فائرنگ کرنے پر برطرف کیا گیا تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ حکومت ایسے سرکاری ملازم کو کیسے انعام دے سکتی ہے جسے بدعنوانی یا بدانتظامی پر برطرف کیا گیا ہو۔

عدالت کے احکامات کے مطابق آئی ایچ سی کے عہدیداروں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ بھی معطل رہے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں