—فائل/فوٹو: اےپی/رائٹرز

نائن الیون! دہشت گردی کے نقطہ آغاز سے سقوط کابل تک

نیویارک میں 11 ستمبر 2001 کی صبح ٹوئن ٹاورز سے دو جہاز ٹکرائے اور پوری دنیا وہاں سے اٹھنے والے دہشت گردی کے دھویں کی لپیٹ میں آئی۔
اپ ڈیٹ 11 ستمبر 2021 10:16am

نائن الیون ایک استعارہ بن چکا ہے جب دنیا کی عظیم معاشی اور دفاعی طاقت امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر 11 ستمبر 2001 کو جہاز ٹکرائے اور دنیا کی بلند ترین عمارت لمحوں میں زمین بوس ہوئی تو تباہی صرف امریکا میں نہیں آئی بلکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اٹھنے والا دھواں افغانستان اور عراق تک پہنچا اور اس سے پوری دنیا متاثر ہوئی، یہ سانحہ دنیا بھر میں دہشت گردی، تباہی اور انسانی المیوں کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔

نائن الیون کے دلخراش واقعے کی یاد ہر سال 11 ستمبر کو دنیا بھر میں اور بالخصوص امریکا میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ منائی جاتی ہے، حملوں کے مقام ’گراؤنڈ زیرو‘ پر متاثرہ افراد کے اہلِ خانہ جمع ہوتے ہیں اور امریکی صدر تعزیتی تقریب میں خصوصی شرکت کرتے ہیں اور دنیا کو امریکا کا پیغام اور اس طرح کے دہشت گردی کے واقعات سے بچنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور کامیابیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے 2019 میں تمام سرکاری اسکولوں میں 11 ستمبر کے حملوں کی یاد میں ہر سال ایک منٹ خاموش رہنے کا قانون منظور کروایا تھا۔

نائن الیون کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے القاعدہ کے خلاف اعلان جنگ کیا اور افغانستان اور بعد ازاں عراق پر چڑھائی کی، جس کے بعد جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو دنیا بھر میں آئے روز دہشت گردوں کے ٹکرانے کی آوازیں سننے کو ملیں، امریکا سے ہزاروں میل دور کہیں ڈرون حملوں نے معصوموں کو چھلنی کیا تو دوسری جانب دہشت گردوں نے برطانیہ، یورپ اور مغربی ممالک سمیت مسلم دنیا کو اپنا نشانہ بنائے بغیر نہیں چھوڑا، مساجد، مقابر، ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز اور فوجی مراکز پر بھی دھاوا بولا گیا۔

افغانستان میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ کی تلاش کے لیے طالبان کی حکومت لپیٹ دی گئی لیکن امریکا کو اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے تقریباً ایک دہائی طویل جنگ لڑنی پڑی، امریکا نے عراق میں جنگ شروع کی تو آنے والے برسوں میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں وجود میں آئیں جو القاعدہ سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئیں۔

اسامہ بن لادن کو امریکا نے مئی 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک فوجی کارروائی میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا لیکن افغانستان میں جنگ بدستور جاری رہی یہاں تک امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 فروری 2020 کو طالبان کے ساتھ دوحہ میں معاہدہ کیا اور ایک سال بعد نئے صدر جوبائیڈن نے نائن الیون کی 20 ویں برسی سے قبل امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلا مکمل کرنے کا اعلان کیا لیکن 15 اگست کو ہی طالبان نے کابل پر قبضہ کرلیا اور یوں ایک کئی سانحات، قیمتی جانوں کے زیاں اور بارود کی بو سے اٹا ہوا افغانستان 20 سال بعد انہی طالبان کے ہاتھ آگیا جن کے خلاف جنگ مسلط کی گئی تھی اور اقوام متحدہ سمیت دنیا کے دیگر اداروں نے انہیں دہشت گرد قرار دیا تھا۔

افغانستان میں طالبان کی واپسی کے ساتھ ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے، آئیے نائن الیون کے 20 سال کی تکیمل کے موقع پر افغانستان سمیت دنیا بھر میں امن، استحکام اور ترقی کی امیدیں لیے اس دور کے پس منظر میں چھپے وہ واقعات، سانحات، معاہدات، اعلانات اور نقصانات کا مختصر ذکر کرتے ہیں، جو ان دلخراش ماہ و سال میں پیش آئے۔

نائن الیون

11 ستمبر 2001 کوصبح 8 بج کر 46 منٹ پر نیویارک میں واقع دنیا کی بلند ترین عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے دو مغوی طیارے یکے بعد دیگرے عمارت سے ٹکرا گئے۔

—فائل/فوٹو: اے پی
—فائل/فوٹو: اے پی

رپورٹس کے مطابق اس حملے میں 3 ہزار امریکی اور غیر ملکی باشندے مارے گئے اور 6 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ 10 ارب ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا۔

11 ستمبر 2001 کو مزید دو طیارے بھی ہائی جیک کیے گئے، جن میں سے ایک پینٹاگون کے قریب اور دوسرا جنگل میں گر کر تباہ ہوا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے فوری بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک لہر نے جنم لیا تھا۔

امریکا نے ان حملوں کا ذمہ دار ’القاعدہ‘ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا اور اس کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا، تاہم ناکافی ثبوتوں کے باوجود اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اسامہ کے میزبان ملک افغانستان پر جنگ مسلط کردی، جس کے بعد سے دہشت گردی کے جن نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

افغانستان پر امریکا کا حملہ

امریکا نے 11 ستمبر 2001 کے سانحہ کی ذمہ داری القاعدہ اور اسامہ بن لادن پر ڈالتے ہوئے افغانستان کے حکمران طالبان سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا، جب طالبان نے اس مطالبے کو مسترد کیا تو جارج ڈبلیو بش نے افغانستان میں اپنی فوج بھیجنے کا اعلان کیا اور اس کے لیے نیٹو اور خصوصاً برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر کو اتحاد میں شامل کرلیا بعد ازاں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستان سمیت دیگر ممالک بھی امریکا کے اتحادی بنے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان پر جارحیت کا ارادہ رکھنے والی طاقتیں شکست سے سبق حاصل کریں، ترجمان طالبان

امریکا نے 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی اور جلد ہی امریکی اسپیشل فورسز اور سی آئی اے کے ایجنٹ براہ راست بمباری میں مدد کے لیے افغانستان میں داخل ہوئے اور افغان اپوزیشن فورسز کو متحد کیا اور جلد ہی طالبان کو بے دخل کردیا گیا تاہم اس وقت تک امریکا کی جانب سے افغان سرزمین پر بڑے پیمانے پر فوج نہیں اتاری گئی تھی۔

—فائل/فوٹو:اے ایف پی
—فائل/فوٹو:اے ایف پی

13 نومبر 2001 کو امریکا کی مدد سے شمالی اتحاد کے جنگجو کابل میں داخل ہوئے اور طالبان نے کابل کا اقتدار چھوڑ دیا، طالبان قیادت زیرزمین چلی گئی اور جنگجو بھی پہاڑوں کی طرف چلے گئے۔

دسمبر 2001 میں امریکا نے تورا بورا کی پہاڑیوں پر بمباری کی جہاں انہیں خدشہ تھا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن موجود ہیں لیکن ان کی اطلاع غلط ثابت ہوئی تاہم بمباری سے شدید نقصان ہوا۔

14 دسمبر 2001 کو امریکا نے تورابورا کی پہاڑیوں پر القاعدہ کے خلاف بمباری کی—فائل/فوٹو: اے ایف پی
14 دسمبر 2001 کو امریکا نے تورابورا کی پہاڑیوں پر القاعدہ کے خلاف بمباری کی—فائل/فوٹو: اے ایف پی

حامد کرزئی پہلے افغان صدر

اقوام متحدہ کی مداخلت سے شمالی اتحاد سمیت افغانستان کے مختلف گروپس اور سابق شاہ ظاہر شاہ جرمنی کے شہر بون میں کانفرنس میں شریک ہوئے اور 5 دسمبر 2001 کو بون معاہدے پر دستخط ہوئے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کی توثیق کردی۔

جرمنی کے شہر بون میں افغانستان میں حکومت سازی کے حوالے مغربی اتحادیوں کی سربراہی میں مذاکرات ہوئے اور طویل بحث مباحثے کے بعد شمالی اتحاد کے رہنماؤں کی شراکت کے ساتھ حامد کرزئی کی قیادت میں 17 اپریل 2002 کو نئی افغان حکومت کا اعلان کردیا گیا۔

فائل/فوٹو: اے پی
فائل/فوٹو: اے پی

کابل میں حامد کرزئی کی قیادت میں نئی افغان حکومت وجود میں لائی گئی۔

امریکا نے نئی حکومت کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کیا تاکہ ملک میں ترقیاتی کام بھی شروع کیے جائیں جبکہ جنگ کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔

افغان حکومت کو جارج بش کی انتظامیہ نے امریکی کانگریس سے 38 ارب ڈالر کی منظوری دلائی، جو امریکی صدر کی افغانستان میں تعمیر کے منصوبے کا حصہ تھا۔

عراق جنگ

امریکی صدر جارج ڈبلوی بش نے عراق کے اس وقت کے حکمران صدام حسین کو کیمیائی ہتھیار تلف کرنے یا پھر کارروائی کا سامنا کرنے کی تنیبہ کی اور کانگریس میں اس حوالے سے قرارداد بھیج دی۔

امریکی کانگریس نے عراق اے یو ایم ایف 2002 منظور کرلیا اور بش نے اس پر 16 اکتوبر 2002 کو دستخط کیے۔

اس قرار داد کی روشنی میں امریکی فورسز کو عراق میں مداخلت ہونے کا راستہ مل گیا حالانکہ بش انتظامیہ اپنے دعووں کے مطابق عراق میں کچھ حاصل کرنے میں ناکام ہوئی۔

2 مئی 2003 کو امریکی عہدیداروں نے افغانستان میں بڑی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا کیونکہ صدر جارج ڈبلیو بش کی سربراہی میں امریکا نے عراق میں مداخلت کی تیاری شروع کی، جس کے لیے فوج، انٹیلی جنس اور اسلحے کو عراق لے کر جانا پڑا۔

امریکا نے عراقی صدر صدام حسین کو گرفتار کیا اور ملک کی مقامی عدالت میں ان کے خلاف ٹرائل کا آغاز کردیا گیا۔

فروری 2009 میں واشنگٹن نے عراق سے فوج کی واپسی شروع کردی جبکہ امریکا کے نئے صدر باراک اوباما نے افغانستان میں فوج کی تعداد میں اضافہ کردیا اور مزید 17 ہزار فوجی افغانستان بھیج دیے اور امریکی فوج کی مجموعی تعداد 38 ہزار ہوگئی۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا دعویٰ

امریکا نے یکم مئی 2011 کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسپیشل فورسز کی کامیاب کارروائی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

—فائل/فوٹو: رائٹرز
—فائل/فوٹو: رائٹرز

دسمبر 2011 میں امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ امریکی سفارت کاروں نے افغان طالبان کے ساتھ 10 ماہ کے عرصے میں درجنوں ملاقاتیں کی ہیں، جن میں سے اکثر جرمنی اور قطر میں ہوئیں۔

27 مئی 2014 کو امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں فوج کم کرنے کا اعلان کردیا اور 2016 کے آخر تک 9 ہزار 800 فوج واپس بلالی گئی۔

—فائل/فوٹو: اے ایف پی
—فائل/فوٹو: اے ایف پی

امریکا نے 28 دسمبر 2014 کو افغانستان کی سیکیورٹی معاملات اور جنگ، افغان فورسز کے حوالے کرتے ہوئے میدان میں لڑنے والے اکثر فوجیوں کا انخلا کردیا۔

جب امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے سابق صدور کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور 21 اگست 2017 کو اعلان کیا کہ افغان فورسز کے ساتھ تعاون کیا جائے گا تاکہ طالبان کو افغان حکومت سے امن مذاکرات کے لیے مجبور کیا جائے۔

دوحہ معاہدہ

ٹرمپ کی انتظامیہ نے 29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کرتے ہوئے اپنی فوج کے پرامن انخلا کو یقینی بنایا۔

زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے — فوٹو: اے ایف پی
زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے — فوٹو: اے ایف پی

طالبان نے امریکی فورسز پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور امریکی فورسز کی جانب سے بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ افغان حکومت سے مذاکرات ناکام ہوئے۔

چار صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل تھا۔

1- طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔

2- افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔

3- طالبان 10 مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔

4 - انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

معاہدے پر قطر میں طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر اور امریکا کی جانب سے خصوصی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے دستخط کیے۔

امریکا میں نومبر 2020 میں صدارتی انتخابات ہوئے اور ٹرمپ کو شکست دے کر جوبائیڈن نے صدارت سنبھالی، بعد ازاں 14 اپریل 2021 کو اعلان کیا کہ 11 ستمبر سے پہلے امریکی فورسز افغانستان سے بے دخل ہوں گی اور ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے طالبان کے معاہدے پر عمل کیا جائے گا۔

امریکی فورسز نے 2 جولائی 2021 کو افغانستان میں اپنے مضبوط اور سب سے بڑا مرکز بگرام ایئربیس اچانک خالی کردیا تو طالبان نے مزید طاقت پکڑی اور افغانستان کے مختلف اضلاع میں قبضے کرنے شروع کردیے، افغان فورسز ان کے سامنے مزاحمت کرنے کے بجائے ہتھیار ڈالتے گئے، جس سے امریکا کی 20 سالہ فوجی تربیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 نومبر 2018 کو افغانستان میں بگرام ایئربیس کا دورہ کیا—فائل/فوٹو: اے ایف پی
امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 29 نومبر 2018 کو افغانستان میں بگرام ایئربیس کا دورہ کیا—فائل/فوٹو: اے ایف پی

طالبان نے افغانستان میں وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے اپنا قبضہ جمایا اور 15 اگست کو کابل پہنچے تو افغان صدر حامد کرزئی اپنے قریبی رفقا کے ہمرا صدارتی محل چھوڑ کر متحدہ عرب امارات منتقل ہوگئے۔

طالبان نے بغیر کسی مزاحمت کے کابل پر قبضہ کیا اور ساتھ ہی تمام مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا جبکہ امریکا سمیت تمام بیرونی مشنز کو واپس جانے کی اجازت دی اور معاہدے کے تحت 30 اگست تک امریکی انخلا یقینی بنانے پر زور دیا۔

مزید پڑھیں:افغانستان میں 20 سالہ امریکی جنگ اختتام پذیر، طالبان کا جشن

غیرملکیوں کے انخلا کے دوران 26 اگست 2021 کو کابل ایئرپورٹ پر اندوہناک خود کش حملہ ہوا، جس میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 100 سے زیادہ افراد مارے گئے۔

اس تصویر کا موازنہ 1989 میں سوویت یونین کی واپسی سے کیا جارہا ہے—فائل/فوٹو: رائٹرز
اس تصویر کا موازنہ 1989 میں سوویت یونین کی واپسی سے کیا جارہا ہے—فائل/فوٹو: رائٹرز

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے 30 اگست 2021 کو اعلان کیا کہ ان کے فوجیوں اور افغانستان سے انخلا مکمل ہوگیا ہے اور افغانستان چھوڑنے والے آخری امریکی کمانڈر کی تصویر دنیا بھر میں وائرل ہوئی اور اس کو سابق سوویت یونین کے شکست سے تشبیہ دی گئی۔

طالبان نے 7 ستمبر کو عبوری حکومت کا باقاعدہ اعلان کیا اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نئی افغان عبوری حکومت کے اراکین کے ناموں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ محمد حسن اخوند وزیراعظم اور طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر ان کے نائب ہوں گے۔

طالبان ترجمان نے اپنی نئی حکومت کی 33 رکنی کابینہ میں شامل اراکین کے ناموں کا بھی اعلان کردیا اور یوں 11 ستمبر کے واقعے کی 20ویں برسی سے قبل ہی اس سانحے کے باعث افغانستان میں شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

افغان جنگ میں جانی و مالی نقصان

افغانستان میں تقریباً 20 سال تک جاری رہنے والا جنگی مشن امریکا کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ ثابت ہوا جس میں تحادی افواج نے بھی حصہ لیا، افغانستان میں سب سے زیادہ اخراجات بھی امریکا نے کیے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2010 اور 2012 کے درمیان، جب افغان سرزمین پر ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجی موجود تھے، جنگ کے اخراجات ایک کھرب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئے تھے۔

امریکا کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی کے کینیڈی اسکول اور براؤن یونیورسٹی کی جنگی اخراجات کے منصوبے کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا نے افغان اور عراق جنگ کے لیے 20 کھرب ڈالر تک کا قرض لیا جس پر سال 2050 تک 65 کھرب ڈالر سود ادا کرنا پڑے گا۔

امریکا کے بعد افغانستان میں سب سے زیادہ فوجی برطانیہ اور جرمنی کے تھے جنہوں نے جنگ کے دوران بالترتیب 30 ارب ڈالر اور 19 ارب ڈالر کی رقم خرچ کی تاہم تمام افواج واپس بلانے کے باوجود امریکا اور نیٹو نے افغانستان کی فوج کے لیے سال 2024 تک سالانہ 4 ارب ڈالر کی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا جبکہ رواں برس نیٹو نے 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا سامان اور آلات افغانستان بھیجا تھا۔

افغانستان سے انخلا تک یہاں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 2 ہزار 461 رہی—تصویر: رائٹرز
افغانستان سے انخلا تک یہاں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 2 ہزار 461 رہی—تصویر: رائٹرز

سال 2001 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اتحادی افواج کے مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے 3 ہزار فوجی مارے گئے۔

امریکا کے بعد سب سے زیادہ برطانوی فوجی ہلاک ہوئے جن کی تعداد 450 ہے جبکہ مجموعی طور پر نیٹو ممالک اور دیگر اتحادی افواج کے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد ایک ہزار 144 ہے تاہم ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار افغان سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے جانی نقصان کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2009 میں جب سے اس نے افغانستان میں اموات کا اندراج رکھنا شروع کیا، اس وقت سے رواں برس فروری تک ایک لاکھ 11 ہزار کے قریب افغان شہری جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔

اے پی کی رپورٹ میں فراہم کردہ تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق 31 اگست 2021 کو افغانستان سے انخلا مکمل کرنے تک یہاں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 2 ہزار 461 رہی جبکہ ان کے علاوہ اپریل تک ہلاک ہونے والے امریکی کانٹریکٹرز کی تعداد 3 ہزار 846 تھی۔

اپریل تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں افغان فوج اور پولیس کے 66 ہزار اراکین ہلاک ہوئے جبکہ 47 ہزار 425 افغان شہری بھی مارے گئے، علاوہ ازیں 20 سالہ جنگ کے دوران مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے طالبان اور دیگر جنگجوؤں کی تعداد 51 ہزار 191 تھی، اسی طرح اپریل تک افغانستان میں 444 امدادی کارکن اور 72 صحافی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔