امریکا اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا،14 ماہ میں غیر ملکی افواج کا انخلا ہوگا

اپ ڈیٹ مارچ 01 2020

ای میل

زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے — فوٹو: اے ایف پی
زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے — فوٹو: اے ایف پی
زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے — فوٹو: اے ایف پی
زلمے خلیل زاد اور ملا عبدالغنی برادر نے معاہدے پر دستخط کیے — فوٹو: اے ایف پی
مذکورہ معاہدے کے نتیجے میں کابل حکومت اور طالبان میں بات چیت ہونے کی توقع ہے— فوٹو: انادولو ایجنسی
مذکورہ معاہدے کے نتیجے میں کابل حکومت اور طالبان میں بات چیت ہونے کی توقع ہے— فوٹو: انادولو ایجنسی

سال 2001 میں نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر دستخط ہوگئے۔

چار صفحات پر مشتمل افغان امن معاہدہ 4 مرکزی حصوں پر مشتمل ہے۔

1- طالبان افغانستان کی سرزمین کسی بھی ایسی تنظیم، گروہ یا انفرادی شخص کو استعمال کرنے نہیں دیں گے جس سے امریکا یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ ہوگا۔

2- افغانستان سے امریکی اور اس کے اتحادی فوجیوں کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔

3- طالبان 10مارچ 2020 سے انٹرا افغان مذاکرات کا عمل شروع کریں گے۔

4 - انٹرا افغان مذاکرات کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل سے متعلق لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہاس کے پہلے دو حصوں کی تکمیل بنیادی طور پر اگلے دو حصوں کی کامیابی سے مشروط ہے۔

معاہدے کی تفصیلات یہاں پڑھی جاسکی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا اور طالبان نے اتفاق کیا ہے کہ 'اعتماد سازی' کے لیے ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ '10 مارچ تک طالبان کے تقریباً 5 ہزار اور افغان فورسز کے ایک ہزار قیدی رہا کیے جائیں گے۔'

کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز بھی 10 مارچ سے ہوگا۔

دوسری جانب امریکا اور افغان حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق اگر طالبان معاہدے کی پاسداری کو یقینی بنائیں تو امریکا اور اس کے اتحادی آئندہ 14 ماہ کے اندر اپنی تمام افواج افغانستان سے واپس بلا لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن معاہدے کے اہم نکات

اعلامیہ میں کہا گیا کہ آئندہ 135 دن کے اندر 8 ہزار 600 غیر ملکی فوجیوں کا انخلا ہوگا جبکہ آئندہ 14 ماہ کے اندر افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کی واپسی مکمل ہوجائے گی۔

اعلامیے کے مطابق طالبان انٹرا افغان مذاکرات کے تناظر میں سیکڑوں قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔

معاہدے کو حتمی شکل دینے میں فریقین کا کردار قابل تعریف ہے، قطری وزیر خارجہ

تاریخی معاہدے کی دوحہ میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن ثانی نے کہا کہ دوحہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا فریقین سمیت عالمی برداری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خارجہ نے کہا کہ قطر کی حکومت نے معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کیا جس سے افغانستان میں 19 سالہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدہ مرحلہ وار مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہوا جبکہ معاہدے کو حتمی شکل دینے پر تمام فریقین کا کردار قابل تعریف ہے۔

آج امن کی فتح کا دن ہے، مائیک پومپیو

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ آج امن کی فتح کا دن ہے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ 'امریکا تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اپنی توجہ مرکوز کریں'۔

امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ 'تمام افغان امن اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کا حق رکھتے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تمام طبقوں کی آواز سننے کے نتیجے میں ہی پائیدار استحکام ممکن ہے۔

مائیک پومپیو نے قدرے حتمی لہجے میں کہا کہ 'تمام امور کے امریکا اور اس کے عوام کی سیکیورٹی لازمی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ امن کے بعد افغانستان کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدہ خوش آئند ہے، ملا عبدالغنی برادر

افغان طالبان کے سینئر رہنما ملا عبدالغنی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدہ افغانستان کی مجاہد قوم اور عالمی برداری کے لیے خوش آئند ہے۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

انہوں نے کہا کہ خود مختار سیاسی فورس (جماعت) درکار ہے جو خطے کے دیگر ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد رکھے۔

ملا عبدالغنی نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغان قوم اسلامی نظام کے تحت ترقی کی بنیاد رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ 'تمام افغان دھڑوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ تمام اختلافات کو نظر انداز کر کے ایک مشترکہ اسلامی نظام تشکیل دیں جو ملک کی ترقی کا باعث بنے'۔

افغان طالبان رہنما نے امن معاہدے میں درپیش رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا اور تشکر کا اظہار کیا۔

انہوں نے چین، ازبکستان، روس، انڈونیشنا اور ناروے سمیت دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کی جنہیں نے افغان امن معاہدے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کیا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اس امن معاہدے میں طالبان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ امریکی افواج کے بتدریج افغانستان سے انخلا کا عمل شروع ہوگا۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی نمائندگی کی، اس کے علاوہ لگ بھگ 50 ممالک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی جبکہ معاہدے پر دستخط کے پیِشِ نظر طالبان کا 31 رکنی وفد بھی قطر کے دارالحکومت میں موجود ہے۔

دلچسپ بات یہ کہ طالبان کی قید میں 3 سال رہنے والے آسٹریلین یونیورسٹی کے پروفیسر ٹموتھی ویکس بھی معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔

مذکورہ معاہدے کے نتیجے میں کابل حکومت اور طالبان میں بات چیت ہونے کی توقع ہے جو اگر کامیاب ہوئے تو افغان جنگ بالآخر اختتام پذیر ہوجائے گی۔

تاہم اس حوالے سے افغان حکومت کی پوزیشن اب تک غیر واضح ہے جسے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات سے الگ رکھا گیا تھا جبکہ ملک میں صدارتی انتخاب کے نتائج آنے کے بعد سیاسی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن عمل: امریکا، طالبان رواں ماہ معاہدے پر دستخط کرسکتے ہیں، رپورٹس

افغان حکومت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ دوحہ میں طالبان سے معاہدہ ہوجانے کے بعد امریکا، کابل میں افغان حکومت کے ساتھ ایک علیحدہ تقریب منعقد کرے گا۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایک ہفتے تک دونوں فریقین نے باہمی اعتماد سازی سے تشدد میں کمی کے سمجھوتے پر عمل کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکا کے 12 سے 13 ہزار فوجی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں جس میں معاہدے کے چند ماہ کے عرصے میں کمی کر کے 8 ہزار 600 کردی جائے گی جبکہ مزید کمی طالبان کی افغان حکومت سے روابط پر منحصر ہے جنہیں وہ کٹھ پتلی حکومت کہتے ہیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امریکی افواج کے انخلا کے لیے بات چیت کا سلسلہ تقریباً ڈیڑھ برس سے جاری تھا جس میں طالبان کے حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے باعث گزشتہ برس ستمبر میں تعطل آیا تھا تاہم مذاکرات دسمبر میں بحال ہوگئے تھے۔

افغان مستقبل تاحال غیر یقینی

دوسری جانب معاہدے پر دستخط ہونے کے باوجود یہ تصور کیا جارہا کہ افغان مستقبل غیر یقینی ہے کیوں کہ اس معاہدے کے بعد افغان دھڑوں سے امن مذاکرات کیے جائیں گے جو ممکنہ طور پر پیچیدہ ہیں۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ میں کہا گیا کہ معاہدے کے تحت افغان جیلوں سے 5 ہزار طالبان قیدی رہا ہونے ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں کہ افغان حکومت اس پر عمل کرے گی یا نہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا، افغان طالبان کا 29 فروری کو امن معاہدے پر دستخط کرنے کا اعلان

اس کے ساتھ یہ سوالات بھی موجود ہیں کہ کیا طالبان جنگجوؤں کے ساتھ وفادار دیگر وار لارڈز غیر مسلح ہونے کے لیے تیار ہوں گے۔

مزید یہ کہ طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے خواتین کے حقوق کے حوالے سے حاصل ہونے والے فوائد کا کیا ہوگا جنہیں طالبان نے شرعی قوانین کے نعرے کے تحت خاصی پابندیوں میں رکھا ہوا تھا۔

یہ بھی واضح رہے کہ جارج ڈبلیو بش اور باراک اوبامہ کی حکومتوں کو بھی افغانستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے سب سے زیادہ تشویش تھی۔

معاہدے سے 18 سالہ تنازع ختم ہونے کا امکان ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

ادھر فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان عوام پر نئے مستقبل سے فائدہ اٹھانے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے 18 سالہ تنازع ختم ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 'اگر طالبان نے امن منصوبے کی پاسداری نہیں کی تو جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں'

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر طالبان اور افغانستان کی حکومت ان وعدوں پر قائم رہتے ہیں تو ہمارے پاس افغانستان میں جنگ ختم کرنے اور اپنے فوجیوں کو گھر واپس لانے کا بہترین راستہ ہوگا‘۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کو معاہدے پر دستخط کا مشاہدہ کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں اور سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کابل حکومت کے ساتھ علیحدہ سے مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔

طالبان کے لیے معاہدے کی شرائط سخت نہیں، ملا عبدالسلام

علاوہ ازیں برطانوی نشریاتی ادارے انڈیپینڈنٹ کی اردو سروس سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے طالبان رہنما اور پاکستان میں طالبان حکومت کے سابق سفارتکار ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ طالبان کے لیے معاہدے کی شرائط سخت نہیں ہے سوائے اس کے کہ افغان تنازع سیاسی بات چیت کے ذریعے حل ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بامعنی مذاکرات سے قبل طالبان کے حملوں میں نمایاں کمی دیکھنا چاہتا ہوں، ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ طالبان نے اس پر مشورہ بھی کیا ہے کیوں کہ طالبان نہیں چاہتے کہ سوویت یونین کے نکلنے کے بعد افغانستان میں مجاہدین والا تجربہ دہرایا جائے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ جنگ کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل شروع ہو جو صلح اور اتفاق سے ہی ممکن ہے اور یہ افغانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2001 میں امریکا نے افغانستان میں جو لڑائی شروع کی، اس کا انتخاب افغانستان کے لوگوں یا طالبان نے نہیں کیا تھا بلکہ وہ لڑائی افغانستان پر مسلط کی گئی تھی اور امریکا نے پوری طاقت، غرور، دنیا اور پڑوسیوں کی مدد سے افغانستان پر حملہ کیا تھا۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2008 میں امریکا اور دنیا کی سوچ میں تبدیلی پیدا ہوئی کہ افغانستان کو طاقت کے استعمال سے نہیں چلایا جا سکتا بلکہ ایک سیاسی عمل کی ضرورت ہے لیکن طالبان نے وہ سب کچھ اس طرح نہیں مانا جس طرح امریکا چاہتا تھا تو طالبان کی سوچ میں نہیں بلکہ دراصل امریکا کی سوچ میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: معاہدہ طے پانے کے امکانات روشن، طالبان کا عارضی جنگ بندی پر اتفاق

انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں طالبان کی تمام شرائط تسلیم کی گئی ہے اور امریکا کی شرائط کچھ ایسی ہیں کہ افغانستان افغانوں کا ہو اور کسی کے خلاف استعمال نہ ہو، افغان بھی یہی چاہتے ہیں، اگرچہ اس سے قبل ایسا ہوچکا ہے لیکن مستقبل میں افغانستان صرف افغانوں کا ہوگا اور کسی کا نہیں جبکہ یہاں کوئی دخل اندازی بھی نہیں کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے اپنی شرائط منوانے کی کوشش کی لیکن وہ تسلیم نہیں کی گئیں، امریکا تقریباً اس بات پر رضامند ہے کہ وہ 14 ماہ میں افغانستان سے فوج کا انخلا کردیں گے جو اچھی بات ہے۔

افغان حکومت کے ساتھ بات کی شرط معاہدے میں شامل ہونے کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ افغانوں کے درمیان مذاکرات ہوں گے یہ وہ مشکل کام ہے جس کا طالبان کو سامنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ طالبان نے اب تک جو بات چیت کی ہے وہ افغانستان اسلامی امارت کے نام سے کی اور جو معاہدہ ہو رہا ہے، وہ بھی اسی نام سے ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان اپنی امارت سے دستبردار نہیں ہوئے، جب وہ امارت پر ڈٹے ہوئے ہیں تو دوسری کسی حکومت کا وجود نہیں مان سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: افغان متحارب دھڑوں کو ایک میز پر بٹھانا سب سے بڑا چیلنج ہے، زلمے خلیل زاد

حکومت چلانے میں ماضی کی غلطیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن عقل مند وہ ہوتے ہیں جو غلطیوں کو مانتے ہوئے انہیں دہرانے سے اجتناب کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی تحریک کے آغاز اور آج میں یہ فرق ہے کہ طالبان کے علم، سفارت کاری اور تجربے میں فرق آیا ہے جو اب بین الاقوامی ہو گیا ہے اور یہ خاصہ مثبت ثابت ہوگا۔

افغانستان میں امن سے خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، وزیر خارجہ

مزید برآں اس تاریخی موقع کے حوالے سے قطر میں مقیم پاکستانیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا کہ امریکا اورافغان طالبان کے درمیان امن معاہدے سے خطے میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا کے ساتھ ہمارے روابط بڑھیں گے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امن واستحکام سے پاکستان اورافغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے شاندار مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے پاکستان کو کاسا1000منصوبے سے استفادہ کرنے اور ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔