پی آئی اے کے حاصل کردہ 2 'ایئربس اے 320' میں سے پہلا اسلام آباد پہنچ گیا

اپ ڈیٹ 15 ستمبر 2021
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق دوسرے طیارے کی ایک دو ہفتوں میں آمد متوقع ہے — فوٹو: پی آئی اے ٹوئٹر اکاؤنٹ
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق دوسرے طیارے کی ایک دو ہفتوں میں آمد متوقع ہے — فوٹو: پی آئی اے ٹوئٹر اکاؤنٹ

راولپنڈی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے لیز پر لیے گئے دو میں سے ایک ایئربس اے 320 طیارہ منگل کی صبح اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی آئی اے نے امریکا کے بینک آف اوٹاہ سے ڈرائی لیز پر دونوں طیارے حاصل کیے ہیں۔

پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق دوسرے طیارے کی ایک دو ہفتوں میں آمد متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کے بیڑے میں 2023 تک 12 نئے طیارے شامل ہوں گے، سی ای او

ان دو ایئربس اے 320 کے اضافے سے قومی بیڑے میں مختلف برانڈز کے مجموعی طور پر 29 طیارے ہوجائیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ پی آئی اے نے لیز پر طیاروں کے حصول کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بینک آف اوٹاہ سے ڈرائی لیز پر حاصل کیے گئے دو طیارے 2017 میں تیار کیے گئے تھے، جن میں 170 نشستوں کی گنجائش ہے۔

ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق کووڈ 19 اور ہوائی صنعت کے بحران کی وجہ سے طیاروں کو قومی بیڑے میں شامل کرنے کا عمل قدرے سست پڑ گیا تھا۔

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ایئر مارشل ارشد ملک نے پہلے اے 320 طیارے کی ترسیل کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کا مقصد اپنے صارفین کو جدید ٹیکنالوجی کے حامل طیاروں کے ساتھ بہترین خدمات فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے ایئرلائن انتظامیہ کو مشکل وقت میں طیارے کو بیڑے میں شامل کرنے پر مبارکباد دی۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے بیڑے میں مزید 14 طیارے شامل کرنے کا اعلان

ارشد ملک نے حکومت بالخصوص وزارت خزانہ، پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔

ایئر مارشل ارشد ملک نے پی آئی اے انجینئرنگ اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ تمام ضروری اقدامات کے بعد ڈرائی لیز پر حاصل کیے جانے والے طیارے کو فلائٹ آپریشن میں شامل کریں۔

پائلٹس کے لیے الرٹ

علاوہ ازیں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے افغانستان کی فضائی حدود سے گزرنے اور داخل ہونے والی پروازوں کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

دو زور قبل ہی پی آئی اے نے سقوطِ کابل کے بعد افغانستان کے لیے اپنی پہلی چارٹرڈ مسافر پرواز چلائی تھی۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پائلٹس کو جاری نوٹس (نوٹم) میں کہا گیا ہے کہ کابل میں ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے طیاروں کے درمیان فاصلہ برقرار رکھیں۔

خیال رہے کہ نوٹم، پائلٹس کے لیے الرٹ ہوتا ہے جس میں پرواز یا اس کے راستے سے متعلق ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کا ڈیڑھ سال سے ناقابل استعمال طیارہ پرواز کے لیے تیار

بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کی ہدایات کے مطابق پاکستانی ایوی ایشن اتھارٹی نے تین نوٹم جاری کیے۔

ہدایات کے مطابق دو طیاروں کو کابل کی فضائی حدود میں ایک ہی سطح پر پرواز کرتے وقت 15 منٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں