قائداعظم کے خواب کی تعبیر کرنی ہے تو سب صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، شہباز شریف

اپ ڈیٹ 19 ستمبر 2021
شہباز شریف نے عطااللہ مینگل کے انتقال پر اختر مینگل سے تعزیت کی--فوٹو: ڈان نیوز
شہباز شریف نے عطااللہ مینگل کے انتقال پر اختر مینگل سے تعزیت کی--فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ جمہوری نظام کو مضبوط کرنے اور قائد اعظم کے خواب کی تعبیر کے لیے ہمیں تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

کراچی میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل کی رہائش گاہ میں ان کے والد سردار عطااللہ مینگل کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ سردار عطااللہ مینگل کی تعزیت کے لیے یہاں حاضر ہوا، جن کی جمہوریت، آئین کی پاسداری کے لیے گراں قدر خدمات ہیں اور تمام عمر پاکستان میں آئین کا بول بالا، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے معروف قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل انتقال کرگئے

انہوں نے کہا کہ عطااللہ مینگل کو تاریخ سنہرے انداز میں یاد رکھے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئین کی وہ شق جس کو 58 ٹو بی کے نام سے یاد رکھا جاتا تھا، اس شق نے کئی جمہوری حکومتوں کا بوریا بستر گول کردیا تھا لیکن اس شق کے خاتمے کے لیے عطااللہ مینگل کا کلیدی کردار تھا، بلوچ رہنماؤں کو اس پر قائل کرنے کے لیے انہوں نے متحرک کردار ادا کیا، جس کا میں عینی شاہد ہوں۔

انہوں نے کہا کہ 1997 میں یہ 58 ٹوبی کا خاتمہ ہوا تو تاریخ کے اوراق میں یہ بات بھی یاد رکھی جائے گی کہ بلوچستان سے مرحوم سردار عطااللہ مینگل نہ صرف خود اس شق کے خاتمے کے قائل تھے بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی تیار کیا۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ یہ جمہوریت کا سفر، پاکستانیت اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی ہے، جو ملک کو آگے لے کر جاسکتی ہے اور یہی قائد اعظم کا خواب تھا، اس کے لیے ہم سب کو کام کرنا ہوگا۔

شہباز شریف نے صحافیوں کے سوالوں پر کہا کہ ہمیں تمام صوبوں کا احترام کرنا ہوگا، وہاں کے عوام تک ان کے وسائل پہنچانے ہوں گے، جمہوری نظام کو فروغ دینے اور جمہوریت کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ آبادی کے مطابق سب سے چھوٹا صوبہ ہے لیکن اس کی محرومیاں اور فاصلے دیکھیں۔

بلوچستان کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں پر پانی کا مسئلہ ہے، بجلی کا مسئلہ ہے، اگر ہم نے قائداعظم کے خواب کی تعبیر کرنی ہے تو سب صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: ملک میں حقیقی جمہوریت ہوتی تو صحافی اغوا نہیں ہوتے، اختر مینگل

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تمام صوبوں کو معاشی، معاشرتی، قانونی، سیاسی لحاظ سے ہر ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ سردار اختر مینگل اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے درمیان 'برادرانہ تعلقات' ہیں اور ان کے لیے احترام ہے۔

اس موقع پر اختر مینگل نے شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا تعزیت کے لیے ان کے گھر آمد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا وفد بلوچستان بھی آیا تھا۔

یاد رہے کہ سردار عطااللہ مینگل 2 ستمبر کو کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے اور طویل عرصے علیل تھے اور ہسپتال میں داخل تھے۔

بلوچستان کے سینئر رہنما عطااللہ مینگل 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور انہیں بلوچستان میں ان کے آبائی شہر میں تدفین ہوئی تھی جبکہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کے وفد نے آبائی علاقے میں جا کر تعزیت کی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں